پاکستان کیلئے سری لنکا کی پچز پر کھیلنا سازگار کیوں ہو گا؟

ایک نیوٹرل وینیو پر اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کو دوسری ٹیموں کے مقابلے میں یہ ایڈوانٹیج حاصل ہو گی کہ وہ اپنے تمام میچز کولمبو کے سنہالی سپورٹس کلب اور پریماداسا انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں ہی کھیلے گی۔ پاکستان کے پاس موجود سپن بولنگ آپشنز کی وجہ سے سری لنکا کی کنڈیشنز کو پاکستان کے لیے کافی سازگار قرار دیا جا رہا ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپن بولنگ آپشنز سے مالا مال پاکستان کو جہاں روایتی طور پر سری لنکا کی سپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹوں سے مدد ملے گی، وہیں ایک ہی مقام پر قیام اُسے دوسری ٹیموں کے مقابلے میں مدد دے گا۔ خیال رہے کہ گذشتہ برس پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کے بعد انڈیا نے اپنے سارے میچز دبئی میں کھیلے تھے۔ تب کرکٹ ماہرین کا کہنا تھا کہ ایک ہی سٹیڈیم میں سارے میچز کھیلنے سے انڈیا کو فائدہ ہوا اور وہ ورلڈ کپ جیت گیا۔
اس وقت پاکستان کے سپن اٹیک میں ابرار احمد، محمد نواز، شاداب خان اور صائم ایوب شامل ہیں جبکہ لوگوں کی نظریں منفرد بولنگ ایکشن رکھنے والے عثمان طارق پر بھی ہوں گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عثمان طارق اپنے منفرد بولنگ ایکشن کی وجہ سے پاکستان کا خفیہ ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یوں تو گروپ اے میں موجود پاکستانی ٹیم نے 15 فروری کو انڈیا کے خلاف پول کے سب سے اہم میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کا رکھا ہے لیکن اس سے پہلے پاکستان کو نیدرلینڈز اور امریکہ کیساتھ میچز کھیلنے ہیں۔ پاکستانی ٹیم 7 فروری کو سنہالی سپورٹس کلب میں نیدرلینڈز کے خلاف میدان میں اُترے گی۔ 10 فروری کو سنہالی سپورٹس کلب میں اس کا مقابلہ امریکہ سے ہو گا جبکہ 15 فروری کو اس کا پریماداسا سٹیڈیم میں انڈیا کے ساتھ میچ شیڈول ہے جس کا پاکستان نے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پاکستانی ٹیم اپنے آخری پول میچ میں 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف مدِمقابل ہو گی.
ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ سپنرز کے لیے سازگار سمجھی جانے والی سری لنکا کی پچز میں کتنا سکور دفاع کے قابل ہو گا اور پاکستان کے کون سے بولرز ان کنڈیشنز میں کارگر ثابت ہو سکتے ہیں؟ گذشتہ ماہ پاکستان نے سری لنکا میں تین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کھیلی تھی، جو ایک، ایک سے برابر رہی تھی۔ روایتی طور پر سری لنکا کی پچز کو بلے بازی کے لیے مشکل سمجھا جاتا ہے اور یہاں سپنرز کا عمل دخل ذیادہ رہتا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ ورلڈ کپ کی منتظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے لہذا وہ پچز بناتے وقت اس بات کا خیال رکھے گا کہ بلے بازی اور بولنگ کے درمیان توازن برقرار رہے۔
پاکستان کا سری لنکا میں ٹی 20 ریکارڈ مجموعی طور پر اچھا رہا ہے۔ پاکستان نے سنہ 2009 اور 2015 میں کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آف سپنر توصیف احمد کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سری لنکا کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوں گی لیکن واحد پریشانی ہماری بلے بازی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے بلے بازی اچھی کر لی تو اس کے پاس ایسے سپنرز موجود ہیں، جو کسی بھی ٹیم کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ انکے مطابق سری لنکا کی پچز میں گیند جلدی پرانا ہو جاتا ہے لیکن دیگر ٹیموں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان کا سپن اٹیک بہت بہتر ہے اور یہ پاکستان کے لیے ایڈوانٹیج ہو گا۔
توصیف احمد کا کہنا تھا کہ اگر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی ٹیم نے 160 سے 170 رنز بنا لیے تو پاکستان کی بولنگ لائن کسی بھی ٹیم کو دباؤ میں لا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے سنہ 2010 کا ورلڈ کپ کھیلنے والے آف سپنر عبد الرحمان کہتے ہیں کہ پاکستان کا سپن اٹیک پچھلے چھ ماہ سے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا ہمارا سپن اٹیک ہوم کنڈیشنز اور دیگر ممالک میں بھی بہت اچھا پرفارم کر رہا ہے اور یہ صرف چھوٹی ٹیموں کے خلاف نہیں بلکہ اس فارمیٹ میں نمبر ون سمجھی جانے والی ٹیموں کو بھی اس نے مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ سپن بولنگ اٹیک رنز بھی روک رہا ہے اور وکٹیں بھی لے رہا اور یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان کی جیت کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ICCکی بھارت نواز پالیسی انگلش کھلاڑیوں کے نشانے پر
پاکستانی ٹیم سری لنکا میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے، اور سری لنکا میں ورلڈ کپ بھی کھیل چکی ہے۔ لہذا اس تجربے کا پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا۔ یاد رہے پاکستان ٹی 20 رینکنگ میں کچھ ماہ پہلے تک آٹھویں نمبر پر جا پہنچا تھا تاہم اب یہ ٹی 20 عالمی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے۔ توصیف احمد کہتے ہیں کہ پاکستان ابرار، محمد نواز اور صائم ایوب جبکہ ایک پیسرز اور ایک آل راؤنڈر کو میدان میں اُتارے گا۔ نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف ابتدائی میچز کا ذکر کرتے ہوئے توصیف احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ان میچز میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن ٹی 20 کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خیال رہے 2024 میں امریکہ میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں امریکہ نے پاکستان کو شکست دے کر اپ سیٹ کر دیا تھا، بعدازاں انڈیا نے بھی گروپ میچ میں پاکستان کو شکست دے دی تھی جس کی وجہ سے پاکستان اگلے مرحلے تک بھی کوالیفائی نہیں کر سکا تھا۔
