نئے صوبوں کا قیام ملکی سالمیت خطرے میں کیوں ڈال دے گا؟

سینئیر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کو وفاق اور پنجاب دونوں سے ہمیشہ شکایات رہی ہیں، ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے موجودہ حکومت کے ذریعے نئے انتظامی صوبے بنانے کی کوشش ایک نیا کٹا کھولنے کے مترادف ہو گی۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی سیاسی معاشی اور سکیورٹی معاملات میں الجھا ہوا ہے، ایسے میں نئے صوبے بنانا اور لسانی اور قومیتی مسائل کو چھیڑنا ہر گز خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آج کل پھر سے یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان کے صوبے اتنے بڑے ہیں کہ انہیں انتظامی طور پر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، لہذا نئے صوبے بنانے کے حق میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ پاکستان کے صوبوں کا ماڈل غیر حقیقی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مزاکروں میں دانشور حضرات یہ دلیل دے رہے ہیں کہ پنجاب دنیا کے 180 ممالک سے بڑا ہے اس لئے اسے پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم کر دیا جائے، اسی طرح سندھ اور خیبر پختون خوا کو تین تین جبکہ بلوچستان کو دو صوبوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔
لیکن سہیل وڑائچ کو اس سوچ سے اختلاف ہے۔ انکے مطابق پہلی بات تو یہ ہے کہ چاروں صوبوں کا الگ الگ ماضی، تاریخ اور ثقافت ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بنگال کے علاوہ 3 صوبے قرار داد پاکستان میں مذکور ہیں، بلوچستان کا صوبہ بعد میں بنا مگر یہ سب انتظامات قیام پاکستان کے معاہدے کے تحت ہیں جس کو محمد علی جناح کی حمایت حاصل تھی۔ جہاں تک بڑے صوبوں کو چلانے میں مشکلات کی بات ہے، تو نئے صوبے بھی سائز کے اعتبار سے کئی ملکوں سے پھر بھی بڑے ہوں گے، اسکے علاوہ نئے صوبے بنانے سے لسانی اور تہذیبی تنازعات جنم لیں گے، ویسے بھی جب نئے صوبوں کی بجائے بہتر آئینی اور قانونی حل موجود ہے تو پھر نئے صوبوں کی ضرورت ہی نہیں۔
سہیل وڑائچ کے بقول اختیارات کو ضلعی سطح پر منتقل کرنا زیادہ بہتر حل ہے جس کا تجربہ جنرل مشرف کے آمرانہ دور میں کیا جا چکا ہے۔ یہ نظام چند خامیوں کے سوا کامیاب رہا تھا، آئین میں اس حوالے سے پہلے ہی صراحت کے ساتھ تفاصیل موجود ہیں۔ اصل میں یہ اضلاعی نظام مشرف آمریت کے دوران آیا تھا اس لئے اسے جمہوری نظام سے مطابقت دینے، اس میں بدعنوانی کا راستہ روکنے اور اضلاع میں قابل اور پروفیشنل لوگوں کی مدد سے نظام چلانے کا فارمولہ بنانا چاہیے۔
سینئیر صحافی کا کہنا ہے کہ اضلاعی نظام نے اختیارات کو عوام کی سطح تک پہنچا دیا تھا اور فیصلے مقامی سطح پر ہونے لگے تھے۔ یہ فیصلے مقامی لوگوں کے مفاد میں تھے مگر اضلاع میں پلاننگ کرنے والے پروفیشنل نہیں تھے، ضلعی سطح پر آرکیٹیکٹ نہیں تھے، ٹریفک انجینئر نہیں تھے، ماحولیات کے ماہر نہیں تھے، پھر چیک اینڈ بیلنس کی بھی کمی تھی، سٹرکچرل خامیاں بھی تھیں جیسے ٹاؤن کمیٹیوں اور میونسپل کمیٹیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا، مگر اصولی طور پر اضلاعی نظام جمہوریت کے قریب تر تھا، جلد ہی صوبے نے اضلاع کے مالی اور انتظامی اختیارات سلب کر لئے، نوکر شاہی کی تب تک تسلی نہ ہوئی جب تک ڈپٹی کمشنر کا فرسودہ نظام دوبارہ بحال نہیں ہوا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نئے صوبے بنانے کا مقصد اگر تو موثر انتظامی کنٹرول، بہتر مینجمنٹ اور بہتر منصوبہ بندی ہے تو یہی مقصد اضلاع تک لے جانا زیادہ مفید ہوگا۔ اضلاع کا نظام پہلے سے موجود ہے، صوبے بنیں گے تو اربوں روپے انکے ہیڈ کوارٹرز پر لگیں گے، صوبائی اسمبلیاں بنیں گی، سیکرٹریٹ بنیں گے، غرضیکہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ دوسری جقنب اضلاع میں پہلے سے انفراسٹرکچر بنا ہوا ہے لہٰذا صرف اس کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انکا کہنا ہے کہ مسئلہ نئےصوبے بنانے سے حل نہیں ہو گا کیونکہ اصل معاملہ اختیارات کی منتقلی کا ہے جس پر پاکستان میں کوئی بھی تیار نظر نہیں آتا۔ کسی زمانے میں وفاق مضبوط ہوا کرتا تھا اور سارے صوبے وفاق سے ناراض رہا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بڑی وجہ وفاق سے اختیارات صوبوں کو منتقل نہ ہونا تھا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد خدا خدا کر کے اختیارات وفاق سے صوبوں کو تو منتقل ہو گئے مگر صوبے نئے لائلپوری گھنٹہ گھر بن گئے ہیں، پہلے وفاق آمر ہوتا تھا لیکن اب صوبے نئے آمر بن گئے ہیں، پہلے وزیر اعظم کے مالی اختیارات سے صوبے اور علاقے، غریب یا امیر اور ترقی یافتہ اور پسماندہ ہوتے تھے، لیکن اب ہزاروں ارب روپے کے فنڈز وزرائے اعلیٰ کے پاس ہیں اور وہ اپنی صوابدید سے اضلاع کو فنڈ دیتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پہلے وفاق امیر اور صوبے غریب ہوتے تھے لیکن اب وفاق غریب ہے اور صوبے امیر ہیں۔ آئین اور قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ صوبوں نے اپنی امارت کو اضلاع میں تقسیم کرنا تھا مگر صوبے جان بوجھ کر صوبائی فنانس کمیشن ہی نہیں بنا رہے، اب اضلاع بھوکے ہیں اور صوبے فنڈز کو من مرضی سے اڑاتے ہیں جو آئینی اور قانونی طور پر عوام سے صریحاً ناانصافی ہے۔
سینئیر صحافی کے مطابق آپ دنیا کے دو بہترین ممالک امریکہ اور برطانیہ دیکھ لیں، دونوں میں لوکل گورنمنٹ کو سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں، وہاں یا تو مرکز ہے یا پھر لوکل حکومت، صوبے یا ریاستیں طرز حکمرانی میں بہت کم اہمیت کی حامل ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے عزیزوں کےپاس جرمنی کے چھوٹےسے قصبے بوخم میں ٹھہرا ہوا تھا میرے ویزے کے دن پورے ہو رہے تھے میرے عزیز مجھے آنے نہیں دینا چاہتے تھے ، میں پریشان تھا کہ ویزے کی توسیع کے لئے دارالحکومت فرینکفرٹ جانا پڑے گا یا کسی صوبے کے دارالحکومت حاضری دینا پڑےگی، لیکن میرے عزیز اظہر بھٹی مجھے بوخم کے ڈاکخانے میں لے گئے جہاں انہوں نے چند جرمن مارکس کی صورت میں فیس بھری اور میرے ویزے میں توسیع ہوگئی، یعنی فارن آفس کے نمائندے بھی چھوٹے قصبوں میں موجود ہیں۔
لہٰذا ہمیں بھی اگر موثر حکمرانی کرنی ہے تو اختیارات کی ضلعی سطح پر منتقلی بہترین فارمولا ہے جس میں نہ تو کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی قانون بنانے کی۔ سارا نظام موجود ہے، ہمیں صرف اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ نظام پہلے بھی نافذ رہ چکا ہے، لہٰذا اس کی خامیاں دور کر دی جائیں تو یہ اور بہتر شکل میں باآسانی نافذ العمل ہو سکتا ہے۔سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان شروع ہی سے نت نئے تجربات کی آماجگاہ بنا رہا ہے، صوبے ہمیشہ سے ایک حساس ترین موضوع رہے ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کو وفاق اور پنجاب دونوں سے شکایات رہی ہیں، ایسے میں نئے صوبے بنا کر ایک نیا کٹا نہ کھولا جائے۔ پاکستان پہلے ہی سیاسی معاشی اور سکیورٹی معاملات میں الجھا ہوا ہے، ایسے میں لسانی اور قومیتی مسائل کو چھیڑنا خطرے سے خالی نہ ہو گا۔
کالعدم تحریک لبیک کے بانی مولانا خادم رضوی کے عرس پر مکمل پابندی عائد
انکا کہنا ہے کہ صوبائی فالٹ لائن کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پھیلیں اور وہ پاکستان سے علیحدہ ہو گیا، اب بھی ہر صوبے کے پاس شکایات کے دفاتر بھرے پڑے ہیں، انہیں نہ تو حل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں پیدا ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ ماڈرن ریاست مواصلات یعنی ابلاغی اور شاہراتی ترقی سے عوام کو قریب لے آتی ہے اور اختیارات کو نیچے منتقل کرکے خود ملکی مسائل پر توجہ دیتی ہے۔ تعلیم، صحت، صفائی، مصالحتی عدالتیں سب کچھ اضلاعی نظام کے حوالے کریں، صوبے پالیسی سازی کریں فنڈز اضلاع میں تقسیم کریں، مرکز معیشت، دفاع اور پالیسیوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھے۔ یہی بہترین طرز حکمرانی کا کامیاب اور جدید ترین فارمولا ہے۔
