فیض حمید کے دربار میں سجدے کرنے والے بدل کیوں گئے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے متنازعہ ترین چیف فیض حمید کو 14 برس قید کی سزا ملنے پر ان کے مخالفین کا اظہارِ خوشی تو قابلِ فہم ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس سزا کو وہ لوگ بھی سراہتے نظر آ رہے ہیں جو کل تک دربارِ فیض میں سجدے کیا کرتے تھے۔
روزنامہ جنگ کے لیے تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ سال 2025 کے اختتام پر ہماری سیاسی اور عسکری تاریخ میں تب ایک اہم باب کا اضافہ ہوا جب دنیا کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسیوں میں شمار ہونے والی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے بعد اختیارات کے ناجائز استعمال، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور سیاست میں مداخلت کے الزامات پر 14 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری تھی۔ اس فیصلے نے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، مبصرین کے مطابق فیض کی سزا محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی کہانی کا آغاز ہے۔ مظہر کہتے ہیں کہ اگرچہ اس فیصلے کی بازگشت پہلے سے سنائی دے رہی تھی، تاہم سزا سنائے جانے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوگا۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ آیا یہ فیصلہ سیاست میں فوج کی مداخلت روکنے کا باعث بن سکے گا یا نہیں۔
مظہر عباس کے مطابق متاثرینِ فیض حمید کی جانب سے اس فیصلے پر اطمینان اور خوشی فطری ہے، مگر حیران کن بات یہ ہے کہ وہ عناصر بھی اسے تاریخی قرار دے رہے ہیں جو ماضی میں فیض حمید اور ان کے اختیارات سے مستفید ہوتے رہے اور دربارِ فیض کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ انکے مطابق اگر سیاست میں اس نوعیت کی مداخلت نہ ہوتی تو آج کئی سیاسی جماعتیں وجود میں نہ آئی ہوتیں اور ایسے افراد سیاست میں داخل نہ ہو پاتے جنہیں سیاست کی بنیادی سمجھ بوجھ بھی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے فیض کے خلاف کورٹ مارشل کے فیصلے کی تفصیلات سامنے آئیں گی، یہ واضح ہوتا جائے گا کہ وہ کس حد تک سیاست میں ملوث رہے اور کیا گل کھلاتے رہے؟
اختیارات کے غلط استعمال کے حوالے سے مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس الزام کا تعلق اسلام آباد کی ایک ہاؤسنگ سکیم سے ہے جس کی زمین سابق آئی ایس آئی سربراہ نے زبردستی اپنے پٹواری بھائی کے نام کرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں جب فیض یہ سب کچھ کر رہے تھے تب کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار کیا تھا اور وہ خود کس حد تک سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے رہے۔ مظہر عباس کے مطابق فیض حمید کے خلاف تازہ عدالتی فیصلہ پاکستانی سیاست کو ایک اہم سنگِ میل کی طرف لے جا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی عملی مثال بنایا جائے اور سیاست کو سیاستدانوں کے سپرد کیا جائے۔ تاہم انکے مطابق اس عمل میں خود سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا کردار کلیدی ہے، جو بوقتِ ضرورت جرنیلعں کے درباری بننے سے بھی گریز نہیں کرتے اور حالات بدلنے پر خود کو متاثرین کہلوانا شروع کر دیتے ہیں۔
مظہر عباس کے مطابق پاکستان میں بدقسمتی سے سویلین حکمران آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی پسند کا آرمی چیف یا آئی ایس آئی چیف آ جائے تو ان کا اقتدار محفوظ ہو جائے گا، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی فیصلے بعد میں ان کی رخصتی کا سبب بھی بنے۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی مثالیں اس کی واضح دلیل ہیں۔ مظہر یاد دلاتے ہیں کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا سیاسی کردار بھی نمایاں رہا ہے، جنہوں نے نواز شریف اور عمران خان جیسوں کو سیاست میں لانے اور بنانے کا فریضہ سر انجام دیا۔ اس کے باوجود نہ تو کسی سویلین حکومت نے اور نہ ہی خود فوج کے ادارے نے ان کے خلاف کوئی مقدمہ چلایا۔
فیض حمید اور عمران کے 10 سالہ اقتدار کا خواب کیسے ٹوٹا؟
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اصغر خان کیس کے فیصلے پر بروقت عمل درآمد ہو جاتا تو شاید آج فیض حمید کو جیل نہ جانا پڑتا اور سیاست میں مداخلت کی روایت بھی ختم ہو چکی ہوتی۔ مگر ان کے بقول پاکستان میں اقتدار لانے اور ہٹانے دونوں عمل قومی مفاد کے نام پر کیے جاتے رہے ہیں۔ مظہر عباس کے مطابق عمران خان کو درپیش مشکلات کے پس منظر میں بھی فیض حمید کا کردار نظر آتا ہے، کیونکہ یہ بحران عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان اختلافات سے شروع ہوا، جو اکتوبر 2021 میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کے معاملے پر شدت اختیار کر گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات ہوں یا مارچ 2022 میں عمران مخالف عدم اعتماد کی تحریک، جنرل قمر باجوہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مظہر عباس لکھتے ہیں کہ فیض حمید کو 14 برس قید با مشقت کی سزا یقیناً سبق آموز مثال ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ مستقبل میں فوج کی سیاست میں مداخلت کا راستہ روک پائے گا، یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک وقتی واقعہ ثابت ہوگا۔
