کیا 2025 پی ٹی آئی کے لیے کوئی اچھی خبر لائے گا؟

عام انتخابات کو لگ بھگ 10ماہ گزرنے کے باوجود ملک میں اب تک سیاسی استحکام نہیں آ سکا، حکومت کی جانب سے جہاں شرپسند یوتھیوں کی دھلائی اور ٹھکائی کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے دھرنے، لانگ مارچ اور جلسے جلوسوں کے بعد اب سول نافرمانی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ تاہم تمام تر دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود مقتدر قوتیں تحریک انصاف کو کسی قسم کا ریلیف دینے پر تیار نہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت یا تو جیلوں میں ہے، یا پھر بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں جبکہ جیلوں کے باہر موجود یوتھیے رہنما حکومت سے مذاکرات کے بہانے ریلیف اور این آر او لینے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں تاہم انھیں تاحال کوئی کامیابی ملتی دکھائی نہیں دیتی۔

ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی لیڈر شپ اس وقت کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف جلسے، جلوس، دھرنے اور سول نافرمانی کے بعد اب اسی ناجائز اور کرپٹ حکومت سے مذاکرات کر رہی ہے ۔ لگتا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو خود سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کی حکمتِ عملی کیا ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مفاہمتی حکمت عملی کے بعد 2025 میں تحریک انصاف کیلئے موجودہ صورتِ حال برقرار رہے گی یا پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف ملے گا اور اس کا سیاسی فال نامہ اس سال بدلے گا یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کے نتیجے میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی یا ملکی سیاست میں بےچینی اور انتشار اس سال بھی برقرار رہے گا؟تحریک انصاف کی آئندہ کیا سیاسی حکمت عملی ہو گی؟ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے یا نہیں؟ حکومت سیاسی استحکام قائم کرنے کے لیے کتنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے؟

مبصرین کے مطابق اس کا انحصار خود تحریک انصاف پر ہے۔اگر پی ٹی آئی  نے اپنا طرز سیاست تبدیل نہ کیا اور ممکنہ مذاکرات نتیجہ خیز نہ رہے تو بانی پی ٹی آئی کی مبینہ سیاسی شہرت تو برقرار رہے گی لیکن ریلیف ملنا ممکن نہیں ہو گا۔

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’تحریک انصاف کی گذشتہ دس سالوں کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو عمران خان پارلیمانی سیاست کی بجائے مزاحمتی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کی حکمت عملی پر غور کریں تو اگلے سال بھی تحریک انصاف احتجاجی سیاست کو ہی فروغ دے گی۔ مذاکرات کے نتیجے میں کوئی حل نکلے یا نہ نکلے لیکن حکومت کو وقت دینے پر عمران خان کبھی راضی نہیں ہوں گے۔’لہذا تحریک انصاف پر سختیوں میں بھی کمی نہیں آئے گی جس سے 2025 میں بھی تحریک انصاف کا سیاسی طرز عمل تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہے۔‘حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل اپنی جگہ لیکن دونوں طرف ابھی تک بیانات میں تحفظات برقرار ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید مذاکرات کے نتیجے پر خاطر خواہ عمل درآمد ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

سلمان غنی کے بقول، ’تحریک انصاف کی قیادت جیل میں ہے، کارکنوں کے خلاف فیصلے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے اختلافات بھی اب پوشیدہ نہیں رہے اس علاوہ پارٹی عہدیداروں میں بھی اتفاق رائے دکھائی نہیں دیتا۔’ان وجوہات کی بنا پر پی ٹی آئی میں تقسیم برھتی جا رہی ہے۔ اگرچہ عمران خان کی شہرت تو شاید برقرار ہے لیکن تین بار احتجاج کی کال پر خیبر پختونخواہ کے علاوہ کسی صوبے سے حوصلہ افزا کارکن باہر نہیں نکلے۔‘انہوں نے کہا کہ ’اگلے سال پارٹی متحد ہوتی دکھائی نہیں دے رہی بلکہ تقسیم زیادہ ہوسکتی ہے۔ سلمان غنی کے مطابق ’ہر سیاسی جماعت بانی قیادت کے ساتھ ہی وابستہ ہوتی ہے بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور اب عمران خان کے جیل جانے سے پارٹی رہنما ایک دوسرے کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے۔ اپوزیشن کے دوران تو ویسے ہی مسائل بڑھ جاتے ہیں یہی وجہ ہے پی ٹی آئی میں اختلافات آئندہ سال زیادہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔‘

دوسری جانب پی ٹی آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ یوتھیے دعوے کرتے نظر آ رہے ہیں کہ 20جنوری کو ٹرمپ حلف برداری کے بعد پاکستان پر دباؤ ڈال کر عمران خان کو رہا کروا لیں گے تاہم سیاسی تجزیہ کار اور نیوز اینکر عادل شاہ زیب کے مطابق’جہاں تک امریکی مداخلت کے ذریعے عمران خان کی رہائی کی امیدیں وابستہ کرنے کی بات ہے تو منطق یہ کہتی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو عمران خان کی سیاست کو بہت بڑا ڈینٹ پڑے گا اور وہ بھی ان ڈیل زدہ سیاست دانوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے جن پر تنقید کر کے وہ ایک پاپولر سیاست دان بنے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی اگر 2024 کی طرح 2025 میں بھی سمجھ بوجھ سے عاری اور جذبات پر مبنی رہی، تو یہ سال تحریک انصاف کے لیے مزید سختیاں لائے گا اور پارٹی مزید اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہے گی۔‘ان کا کہنا تھا: ’اگر نئے سال میں بھی سول نافرمانی جیسی ناقص حکمت عملیاں ہی جاری رکھی گئیں تو پی ٹی آئی کا پھر خدا ہی حافظ۔’ایسے میں 2025 بھی 2023 اور 2024 سے پھر مختلف تو ہو گا لیکن اس پیرائے میں کہ گذشتہ دو سالوں کی نسبت پارٹی کی مشکلات مزید بڑھیں گی۔‘

یوتھیوں کی عمران کو ٹرمپ کی حلف برداری پر بلانے کی کوششیں

عادل شاہ زیب کے مطابق، ’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گذشتہ دو سالوں کی ناقص فیصلہ سازی اور سمجھ سے بالاتر سیاسی حکمت عملی سے پارٹی نے خود کو بند گلی میں دھکیلا اور پھر 26 نومبر کی فائنل کال سے پارٹی نے خود کو ’انتہائی مہارت‘ سے بند گلی کی آخری دیوار سے بھی لگا دیا۔‘ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے یہی سلسلہ جاری رہا تو پی ٹی آئی کی داستان بھی نہیں رہے گی داستانوں میں۔۔۔۔

Back to top button