کیا افغانستان کو پاکستان کا متبادل تجارتی روٹ مل جائے گا؟

پاک افغان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور گزشتہ چھ ہفتوں سے پاکستان کی جانب سے سرحدی تجارت کی مکمل معطلی کے بعد افغانستان نے بالآخر پاکستان پر اپنا تجارتی انحصار کم کرنے کے لیے نیا متبادل راستہ تلاش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت افغان طالبان حکومت کے وزیرِ تجارت نورالدین عزیزی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ پاکستان کی جگہ بھارت کو بطور مستقل متبادل تجارتی روٹ استعمال کرنے کے امکانات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا افغان طالبان حکومت واقعی بھارت سے ایسا روٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جو پاکستان کے مقابلے میں مؤثر اور سستا ہو؟
افغان وزیرِ تجارت نورالدین عزیزی کے دورہ بھارت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے اور افغانستان کی برآمدات و درآمدات کے لیے نئے راستے کھولنے پر مذاکرات جاری ہیں، طالبان حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے تقریباً تمام تجارتی راستے چھ ہفتوں سے بند پڑے ہیں جس سے وہ معاشی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں یہ افغان طالبان حکومت کے کسی سینئر وزیر کا دوسرا دورہ بھارت ہے، یہ دورہ ماضی کے دشمن ممالک کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت ماضی میں افغان طالبان کو پاکستان کی پراکسی قرار دیتا رہا ہے۔
طالبان حکومت نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کے متبادل تجارتی راستوں پر غور کر رہی ہے۔ اسکے ساتھ حکومت نے افغان تاجروں پر زور دیا کہ اب وہ پاکستان کے ساتھ تجارت سے گریز کریں۔ یہ دباؤ دراصل اُن شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد بڑھا جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ ان جھڑپوں کے بعد پاکستان میں تحریک طالبان کی جانب سے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو پاکستان نے طورخم اور چمن سمیت تمام اہم تجارتی راستے بند کر دیے۔ یاد رہے کہ افغان اشیا خصوصاً تازہ پھلوں اور زرعی اجناس کے لیے پاکستانی راستہ افغانستان کے لیے تاریخی طور پر سب سے سستا، تیز رفتار اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت افغانستان کو وہ راستہ دے سکتا ہے جو پاکستان سالہا سال سے اسے فراہم کرتا رہا ہے؟ طالبان حکام کے مطابق پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کے بعد ان کے پاس ’’پاکستان کا متبادل‘‘ تلاش کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔ چونکہ افغانستان نے پہلے بھی ایران کی چابہار بندرگاہ کے راستے بھارت کو تازہ و خشک پھل، ماربل اور جڑی بوٹیاں برآمد کی تھیں، اس لیے موجودہ مذاکرات بھی زیادہ تر چابہار بندرگاہ کے گرد گھوم رہے ہیں۔ دورے سے قبل نورالدین عزیزی نے واضح کیا تھا کہ انکے بھارتی حکام سے مزاکرات کا محور چابہار کے راستے افغان سامان کی بھارت تک ترسیل کو آسان بنانا‘‘ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان افغان مصنوعات کے لیے بہترین منڈیاں ہیں، لیکن چونکہ پاکستان کے ساتھ کاروبار رک چکا ہے، اس لیے بھارت کو زرعی اور دیگر اشیا برآمد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
افغانستان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے رکن خان جان الکوزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تجارتی راستے بند ہونے کے بعد انڈیا افغان تاجروں کے لیے تیزی سے ایک اہم منڈی بنتا جا رہا ہے، اور تاجروں میں توقع پائی جاتی ہے کہ تجارت مزید بڑھے گی۔ پاک افغان تجارت کی بندش نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ طورخم اور چمن، جنہیں دونوں ممالک کی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے، بار بار جھڑپوں کے باعث بند پڑے ہیں، جبکہ 12 ہزار سے زائد ٹرک جن میں افغان تاجروں کا سامان بھی شامل ہے اس وقت کراچی کی بندرگاہ اور دیگر مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان حکام کا موقف رہا ہے کہ وہ ٹرانزٹ روٹس سمیت تمام راستے کھلے رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ اس میں دونوں ملکوں کا فائدہ ہے اور یہ علاقائی اقتصادی رابطوں کے لیے بھی ناگزیر ہیں، لیکن پاکستان کے سخت موقف نے انہیں متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت معطل ہونے سے پاکستان کا بھی بھاری معاشی نقصان ہو رہا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان رسمی کے علاوہ غیر رسمی تجارت کا والیم بھی خاصا بڑا ہے۔ پاکستان سے افغانستان جانے والی اشیا کی فہرست کہیں طویل ہے، جس میں اجناس، پھل، سبزیاں، ادویات، سیمنٹ، پلاسٹک، موٹر سائیکلز، ٹریکٹر، پولٹری اور بے شمار دیگر مصنوعات شامل ہیں، جبکہ افغانستان سے پاکستان زیادہ تر پھل، خشک میوہ جات اور کوئلہ درآمد کیا جاتا ہے۔
پاکستانی ائیر سپیس کی بندش سے انڈیا کو شدید مالی نقصان کا سامنا
تجارت کی بندش سے کس ملک کو زیادہ نقصان پہنچے گا؟ اس بارے میں ماہرین کی رائے منقسم ہے، مگر اکثریت کے مطابق نقصان پاکستان کو زیادہ ہوگا، کیونکہ افغانستان اس وقت پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی اور مسلسل بڑھتی ہوئی منڈی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے ناصر خان کے مطابق چمن بارڈر سے روزانہ تقریباً تین سو پاکستانی ٹرک افغانستان جاتے تھے، جبکہ اس کے مقابلے میں افغانستان کی جانب سے آنے والی ٹرکوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اسی لیے اس بندش سے پاکستان کی برآمدات اور کاروباری حلقے شدید متاثر ہوں گے۔
پاکستانی حکام بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اگرچہ تجارت کی بندش دونوں ملکوں کے لیے نقصان دہ ہے، مگر پاکستان کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ لیکن اصل سوال وہی ہے جس نے خطے کی سیاست کو بے چین کر رکھا ہے: کیا طالبان حکومت بھارت سے ایسا مستقل اور قابلِ عمل متبادل تجارتی راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جو کہ پاکستان کے تاریخی اور سستے روٹ کا مقابلہ کر سکے؟ آنے والے دن اس بدلتی ہوئی تجارتی ڈپلومیسی کے اہم رخ کا فیصلہ کریں گے۔
