کیا فاطمہ جناح ثانی بننے کی علیمہ خان کی کوشش کامیاب ہو گی ؟

ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں قائد اعظم کا لقب پانے والے محمد علی جناح بھی ایک ہی پیدا ہوئے اور انکی ہمشیرہ فاطمہ جناح بھی ایک ہی تھیں جنہیں قوم نے مادرِ ملت کا خطاب دیا۔ پاکستان میں ان دونوں عظیم رہنماؤں کا رتبے کے اعتبار سے نہ تو کوئی ثانی ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں بہن اور بھائی اس ملک کے بانیان ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ بانی کا کوئی ثانی نہیں ہوتا، لیکن اگر کوئی ایسا دعویٰ کرنے کی کوشش کرے بھی تو اس کا کوئی معانی نہیں ہوتا۔
افسوس کہ آج کل عمران خان کی ہمشیرہ اور تحریک انصاف کی کرتا دھرتا علیمہ خان خود کو فاطمہ جناح قرار دلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف میں عمران کو قائداعظم کا ہم پلہ، انکا ثانی اور انکا ہم زاد قرار دینے کا رواج عام ہے جو کہ افسوسناک ہے۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ میں لکھا ہے کہ محمد علی جناح اور فاطمہ جناح کارتبہ انکے کردار اور جدوجہد کی وجہ سے ایسا عظیم تر ہے کہ ان جیسا مرتبہ حاصل کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ محمد علی جناح کو قائداعظم کا خطاب عوام نے دیا۔ تاہم انکے بعد لوگوں نے خود کو بڑا بنا کر دکھانے کے شوق میں مختلف النوع خطابات و القابات اپنائے، کچھ کے حاشیہ برداروں نے ان کے ناموں کے ساتھ بڑے بڑے لاحقے لگانا شروع کردیئے۔ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان قائد ملت کہلائے، انکے بعد ملک غلام محمد کہاں پیچھے رہنے والے تھے، انہوں نے خادمِ ملت کہلوانا شروع کر دیا، صدر اسکندر مرزا مرد آہن پکارے جاتے تھے اور جنرل ایوب خان قائد انقلاب، انکے بعد جب جنرل آغا محمد یحییٰ خان برسر اقتدار آئے تو موصوف خلیفہ بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے لیے مرد مومن مرد حق کا نعرہ لگوایا۔ تاہم ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کو قائد عوام اور دختر مشرق کے القابات عوام کی طرف سے ملے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ چلیں یہاں تک تو ٹھیک تھا کہ آپ کے حامی آپ کو خطابات سے نوازتے رہیں اور آپ انہیں ہنس کر ٹالتے رہیں۔ لیکن اب جو سب سے بُری وبا پھوٹی ہے وہ قائداعظم ثانی اور فاطمہ جناح کہلانے کی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ایک دہائی تک جو نظریاتی مقابلہ رہا اس میں نواز شریف کو قائد اعظم ثانی کے لقب سے پکارا گیا۔ ایک متوالے نے تو اس عنوان کے تحت ایک کتاب بھی لکھ ماری۔ بظاہر نواز شریف نے خود کبھی اس لقب کو نہ مشہور کروایا اور نہ اس پر صاد کیا۔ لیکن حال ہی میں ایک پڑھے لکھے دانشور نے انہیں 1906 میں مسلم لیگ کے قیام سے لیکر آج تک کا سب سے بڑا لیڈر قرار دے دیا، گویا انہوں نے نواز شریف کی تعریف کرتے کرتے انہیں قائداعظم اور دوسرے تمام اکابر مسلم لیگیوں سے بڑا قرار دے دیا۔
انکا کہنا ہے کہ میرے نزدیک یہ حرکت مضحکہ خیز ،بھونڈی اور قابل مذمت ہے۔ آج کل سرکاری فنڈز سے نواز شریف اور مریم نواز کے ناموں سے سرکاری منصوبوں کا افتتاح بھی کسی طرح مستحسن نہیں۔ اصولی طور پر کسی زندہ لیڈر کی قدر وقیمت اور قدوقامت کا اندازہ اسکی زندگی میں ہو ہی نہیں سکتا، چنانچہ کسی منصوبے کو کسی شخصیت سے معنون کرنا بھی ہو تو ایسا اس کی وفات کے بعد کیا جاتا ہے۔ زندہ لوگوں کے ناموں پر گلیاں، بازار اور سٹرکیں کبھی مشہور نہیں ہو پاتیں اور عوام انہیں سرکاری ناموں کی بجائے عوامی ناموں سے ہی پکارتے ہیں۔
سینیئر صحافی کے مطابق سرکار تو خیر جو بھی کرتی رہی ہے اس کا سب کو علم ہوتا ہے اور اس پر تنقید بھی ہوتی ہے لیکن اپوزیشن بھی اس مرض میں مبتلا ہو چکی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنےلیڈروں کو انسان نہیں سمجھتیں، وہ انہیں دیوتا بنا کر پوجتی ہیں، یہی حال عوام کا ہے کہ انکے پسندیدہ لیڈر کی کسی پالیسی سے اختلاف کیا جائے تو وہ ناقدین کو لفافی، غدار اور دشمن جیسے ’’خطابات‘‘ سے نوازنا شروع کر دیتے ہیں۔ سیاست میں اندھی عقیدت پیرو کاروں کی آنکھیں اور ذہن بند کر دیتی ہے جس سے وہ لیڈر کی اچھائیوں اور برائیوں پر نقد و نظر کے قابل نہیں رہتے ۔جب کسی لیڈر کو دیوتا مان لیا جائے تو پھر اس کی پوجا ہی ہو گی، اس پر تنقید یا اس کا احتساب تو ممکن نہیں رہے گا۔
سہیل وڑائچ کے بقول یہ بیماری ہمارے ملک کی سبھی جماعتوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ مڈل کلاس جماعت ہونے کے باوجود تحریک انصاف بھی اسی مرض کا شکار ہے، عمران خان کے دور کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ تحریک انصاف میں عمران کو قائداعظم کا ہم پلہ، انکا ثانی اور انکا ہم زاد قرار دینے کا رواج عام ہے، پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے دوران بھی قائد اعظم کی شبیہ سے مماثلت رکھنے والی عمران خان کی تصویر نظر آتی تھی۔
سیاستدانوں کو قائد اعظم بننے کا شوق اپنی جگہ لیکن یہ شوق تب خطرناک ہو جاتا ہے جب خان کی بہن علیمہ خان کو فاطمہ جناح بنانے کی کوشش کی جائے ۔پہلے بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی نصرت بھٹو اور کلثوم نواز بننے کے لیے سڑکوں پر نکلی تھیں، لیکن اب جیل میں بند ہونے کے بعد انکا سارا زور دشمنوں کو بددعائیں دینے پر لگ رہا ہے۔ اب کپتان کی ہمشیرہ، فاطمہ جناح بننے کیلئےمیدان میں اتر چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل فاطمہ جناح نے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کا مقابلہ کیا تھا، تو کیا اب فاطمہ جناح ثانی بننے کی کوششوں میں مصروف علیمہ خان، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مقابلہ کریں گی، اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا اڈیالہ جیل میں بند مرشد نئی نصرت بھٹو یعنی بشریٰ بی بی کو آگے لا کر کلثوم نواز بنانا چاہتے ہیں یا علیمہ کو نئی فاطمہ جناح بنانے کے خواہشمند ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ خطابات سے آپ خود کو بڑا محسوس کر سکتے ہیں مگر ویسا خود کو بنا نہیں سکتے۔ کئی پہلوان رستم پنجاب اور رستم ہند کہلاتے رہے، لیکن کوئی ایران کے اصلی رستم کی جگہ نہ لے سکا، کئی لکھاری اردو اور پنجابی کے شیکسپیئر کہلاتے رہے لیکن نہ تو کبھی شیکسپیئر کا مقام پا سکے اور نہ کبھی شیکسپیئر بن سکے، کئی گلوکار اپنے عہدکے تان سین کہلائے مگر تان سین جیسا کوئی نہیں بن سکا۔ خدمت خلق میں کئی لوگوں نے نام کمایا ہو گا لیکن کوئی عبدالستار ایدھی کے رتبے تک نہیں پہنچ پایا۔ اسی طرح علم سیاسیات کی چالاکیوں کو بیان کرنے کی کوشش کئی لوگوں نے کی، لیکن کوئی میکاولی اور چانکیہ کے مقام کو نہ چھو سکا ۔ شاعر گو بہت ہیں مگر میرؔ اور غالبؔ کوئی نہیں ،اقبالؔ اور فیضؔ تک پہنچنا بھی فی الحال دور دور تک نظر نہیں آتا۔
مودی سرکار 250 فوجیوں کی موت تسلیم کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟
مختصرا یہ کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور مادر ملت فاطمہ جناح کا رتبہ انکے کردار اور انکی جدوجہد کی وجہ سے ایسا عظیم تر ہے کہ ان جیسا خطاب پانا یا ان جیسا مرتبہ حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ہمیں خود کو قائداعظم، فاطمہ جناح ، شاعر اعظم یا ادیب اعظم کہلوانے کی بجائے یہ کام تاریخ پر چھوڑنا ہوگا۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ کس نے تاریخ کے کوڑے دان میں جانا ہے اور کس نےاپنی عظمت و تابناکی کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔
