کیا امریکہ ٹرمپ کے ہاتھوں سوویت یونین کی طرح تباہ ہو گا؟

ماضی میں جس طرح اپنے وقت کی سپر پاور سوویت یونین افغانستان پر حملہ آور ہو کر ایک دلدل میں دھنس گیا اور بالآخر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، اسی طرح امریکہ بھی ایران پر حملے کی غلطی کرنے کے بعد ایک گہری دلدل میں دھنستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں امریکہ کے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
معروف تجزیہ کار بلال غوری نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے اور عالمی طاقتوں کے زوال کی کہانیاں اکثر ایک ہی طرز پر لکھی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جو اسے داخلی و خارجی بحرانوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سوویت یونین نے افغانستان میں مداخلت کو ایک محدود فوجی کارروائی سمجھا تھا، مگر وہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ یہی صورتحال امریکہ کے ساتھ افغانستان اور عراق میں دیکھنے کو ملی، جہاں ابتدائی کامیابی کے بعد طویل عدم استحکام نے امریکی طاقت کو کمزور کیا۔
بلال غوری کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے نتائج اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ایران نہ صرف ایک بڑی فوجی اور علاقائی طاقت ہے بلکہ اس کے اتحادی پورے مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جو کسی بھی جنگ کو ایک وسیع علاقائی تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ انکے مطابق امریکہ پہلے ہی داخلی تقسیم، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک نئی جنگ نہ صرف اس کی معیشت پر بوجھ ڈالے گی بلکہ عوامی سطح پر مزید انتشار کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے ک ٹرمپ کی ایران مخالف جنگ کی امریکی سیاسی جماعتوں بھر پور مخالفت کر رہی ہیں۔
بلال غوری اس پہلو کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ امریکی معاشرہ پہلے ہی شدید پولرائزیشن کا شکار ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور نسلی و سماجی تنازعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اندرونی استحکام کمزور ہو رہا ہے۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ روایتی جنگ نہیں ہوگی بلکہ اس میں گوریلا حکمت عملی، پراکسی جنگیں اور سائبر حملے شامل ہوں گے۔ اس قسم کی جنگ امریکہ کو ایک طویل اور غیر یقینی صورتحال میں الجھا سکتی ہے، جیسا کہ ماضی میں افغانستان میں ہوا۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ چین اور روس جیسے ممالک پہلے ہی امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ کو چیلنج کر رہے ہیں، جبکہ یورپی اتحادی بھی کئی معاملات پر امریکہ سے فاصلے اختیار کر رہے ہیں۔ غوری کے مطابق اگر امریکہ نے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی اپنائی تو یہ نہ صرف خطے کو غیر مستحکم کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کرے گی، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگی اخراجات امریکہ کے قرضوں میں مزید اضافہ کریں گے، جو پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ڈالر کی قدر متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی مالیاتی نظام میں بھی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر اپنی حد سے تجاوز کرنے کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ سوویت یونین کی مثال اس کی واضح دلیل ہے، اور اب کچھ تجزیہ کار امریکہ کو اسی راستے پر جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ بلال غوری کہتے ہیں کہ اگر امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور دانش مندی کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ نہ صرف ایران کے خلاف جنگ میں بری طرح پھنس سکتا ہے بلکہ اس کے داخلی مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں، جو ایک بڑے قومی بحران کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
