کیا چین پاک افغان جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہو پائے گا؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک چھوتی دکھائی دیتی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات لگا رہے ہیں، فضائی کارروائیاں اور ڈرون حملوں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں، اور سرحدی صورتحال مسلسل کشیدہ سے کشیدہ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے حساس وقت میں چین دونوں ممالک کے مابین مسلسل ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے اور جنگ بندی کروانے کے لیے متحرک نظر آ رہا ہے۔ تاہم اس کے باوجود افغانستان کی جانب سے شرپسندانہ کارروائیاں جاری ہیں جبکہ گزشتہ دو روز کے دوران کوہاٹ اور اسلام آباد میں ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد دونوں ممالک میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین کی سفارتی کوششیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کر سکیں گی، یا خطہ ایک نئے اور بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ جائے گا؟ اس کے ساتھ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ چین آخر اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے، چین کے خطے کے امن و امان سے کون سے معاشی اور سیاسی مفادات وابستہ ہیں، اور کیا واقعی چین دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب سرحدپار دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافے پر پاکستان نے صدائے احتجاج بلند کی تاہم افغان طالبان نےٹی ٹی پی کو پٹہ ڈالنے سے صاف انکار کر دیا۔جس کے بعد پاکستان نے خود پاکستان دشمن ٹی ٹی پی دہشتگردوں کی دھلائی اور ٹھکائی کا فیصلہ کیا اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کابل، پکتیا اور قندھار سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم افغان طالبان نے شرپسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستانی بمباری پر اظہار تشکر کی بجائے پاکستان پر جوابی حملے شروع کر دئیے جبکہ 13 اور 14 مارچ کو کوہاٹ اور اسلام آباد میں ڈرون حملوں اور افغانستان کی جانب سے پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کی وجہ سے دونوں ممالک میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ مبصرین کے مطابق ان واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں اور دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسے حالات میں چین نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کر دی ہے۔
چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ان دنوں کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطوں میں ہیں اور دونوں حکومتوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جائے اور جلد از جلد انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ چین کے سفارتکار افغان حکام سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق چین کی اس مفاہمانہ ثالثی کی کوششوں کے پیچھے صرف سفارتی دلچسپی نہیں بلکہ اہم معاشی اور سیاسی مفادات بھی کارفرما ہیں۔ ماہرین کے بقول چین نے پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر اور مواصلات کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اسی طرح چین افغانستان میں بھی مستقبل کی معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے امکانات دیکھ رہا ہے۔ اس لیے وہ خطے میں عدم استحکام کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی لئے وہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پرآنے پر مجبور کر رہا ہے
افغان طالبان کے ڈرونز اسلام آباد تک کیسے پہنچنے لگے؟
ماہرین کے مطابق چین کی ایک بڑی تشویش خطے میں سرگرم شدت پسند تنظیمیں بھی ہیں۔ پاکستان اور چین دونوں کو تحریک طالبان پاکستان، داعش اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے گروہوں سے سکیورٹی خدشات لاحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع مزید نہ بڑھے اور صورتحال کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے اور ان گروہوں کی کارروائیوں میں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان اس حوالے سے واضح اور تحریری یقین دہانی فراہم کریں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ تاہم افغان طالبان اس مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ دراصل پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اسے افغانستان پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔اسی بنیادی اختلاف کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل بار بار تعطل کا شکار ہوتا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف میں نرمی نہیں لاتے، اس وقت تک کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق چین اگرچہ دونوں ممالک پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملات میں کسی بھی ملک کے لیے پیچھے ہٹنا آسان نہیں ہوتا۔ افغان طالبان کے لیے تحریک طالبان پاکستان سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنا ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان بھی اپنے سکیورٹی خدشات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ اسی بنیاد پر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین کی ثالثی کے باوجود فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو کے امکانات محدود ہیں۔ تاہم چین ممکنہ طور پر یہ کوشش ضرور کرے گا کہ دونوں ممالک کو کم از کم عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جائے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور مستقبل میں مذاکرات کے لیے ماحول پیدا ہو سکے۔
