چین کی پاک افغان جنگ بندی کی کوشش ناکام کیوں ہوں گی؟

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین پل کا کردار ادا کرنے والے قطر اور ترکیہ جیسے روایتی ثالثوں کے پس منظر میں جانے کے بعد سفارتی خلا کو پُر کرنے کے لیے چین کھل کر میدان میں آچکا ہے، جو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر زور دے رہا ہے بلکہ اس نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھی اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق اسلام آباد اور کابل کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ چین کی ثالثی کے باوجود دونوں ممالک کے مابین فوری جنگ بندی کے امکانات نہایت محدود بلکہ معدوم دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ فریقین کے مؤقف میں موجود خلیج تاحال برقرار ہے اور اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاک افغان سرحدی کشیدگی اور دونوں جانب سے عسکری سرگرمیوں میں اضافے نے خطے کی صورتحال کو غیر معمولی طور پر پیچیدہ اور کشیدہ بنا دیا ہے۔ ماضی میں جب بھی دونوں ممالک میں تناؤ میں اضافہ ہوا، پس پردہ سفارتی رابطےکشیدگی کو قابو میں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مگر اس بار بیک ڈور چینلز کی غیر موجودگی اور غیر فعالیت نے بحران کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، تاہم اب قطر اور ترکیہ کے بعد چین کا ثالثی کیلئے آگے آنا ایک ایسا اقدام ہے جو خطے میں ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں عموماً سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔ ماضی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کے باوجود خفیہ رابطے برقرار رہتے تھے، جو حالات کو بگڑنے سے بچاتے تھے۔ تاہم موجودہ بحران میں ان رابطوں کی عدم موجودگی یا کمزوری واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ چکا ہے۔سابق سفیر عبدالباسط کے مطابق چین نے کسی حد تک کشیدگی کم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارتی اثر و رسوخ محدود دکھائی دیتا ہے۔
خیال رہے کہ چین پاک افغان کشیدگی کو قابو کرنے کیلئے کھل کر میدان میں آ چکا ہے۔ چین نے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے خصوصی ایلچی کو پاکستان اور افغانستان بھیجا، جنہوں نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ کر کے تحمل اور مذاکرات پر زور دیا۔ مبصرین کے مطابق چین کا یہ کردار محض سفارتی نہیں بلکہ اس کے وسیع علاقائی مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات بیجنگ کو اس تنازع میں ایک متوازن ثالث بننے پر مجبور کر رہے ہیں۔ چین واضح طور پر سمجھتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام اس کے معاشی اور تزویراتی منصوبوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی طویل عرصے تک اس اصول پر قائم رہی کہ ایک مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ تاہم 2021 کے بعد حالات بدل گئے، اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اسلام آباد کو اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اب افغانستان کے حوالے سے زیادہ سخت اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جسے کابل آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان افغانستان پر اپنی شرائط مسلط کرنا چاہتا ہے، جبکہ افغان قیادت کسی بھی قسم کی "ڈکٹیشن” قبول کرنے کو تیار نہیں۔ یہی اختلافات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور سفارتی عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے بظاہر لگتا ہے کہ پاک افغان بیک ڈور رابطے مکمل ختم ہوچکے ہیں، تاہم دفاعی ماہرین مکمل طور پر اس امکان کو رد کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک میں کشیدگی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے اور ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم اس کے باوجود لگتا یہی ہے کہ دونوں ممالک میں کسی نہ کسی سطح پر رابطے اب بھی جاری ہیں تاہم ان کی غیر مؤثریت یا غیر مرئی حیثیت خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق چین کی ثالثی دونوں ممالک کو ایک بار پھر سفارتی میز پر آنے کا ایک موقع فراہم کررہی ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار اسلام آباد اور کابل کی سیاسی آمادگی پر ہے۔ اگر بروقت سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو پاک افغان تنازع ایک طویل اور پیچیدہ بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
کیا ایران کی جنگی مزاحمت کے پیچھے روس اور چین ہیں؟
واضح رہے کہ رواں برس 26 فروری کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مبینہ سرپرستی سے متعلق تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں افغانستان نے سرحدی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی اور پاکستان نے طالبان حکام کے خلاف باقاعدہ ’اعلانِ جنگ‘ کرتے ہوئے اگلے ہی روز کابل پر بمباری شروع کر دی۔ ابتدائی مرحلے میں قطر اور ترکی کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، تاہم خطے کی مجموعی صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں نے توجہ کا مرکز تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں ثالثی کا عمل بھی متاثر ہوا۔ بعد ازاں چین نے صورتحال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متحرک اور متوازن ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ مبصرین کے مطابق ثالثی کے ذریعے بیجنگ نہ صرف خطے میں استحکام کا خواہاں ہے بلکہ اپنے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کے تحت پاکستان میں جاری اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے، جس کے باعث اس کی سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
