کیا FIA پی ٹی آئی MNA پر پیکا ایکٹ کا اطلاق کرے گا؟

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور وزیرا عظم عمران خان کے مشیر علی نواز اعوان کی جانب سے معروف خاتون صحافی عاصمہ شیرازی پر پیسوں کے عوض حکومت کے خلاف کالم لکھنے کا الزام لگانے کے بعد عاصمہ شیرازی نے عدالت جانے کا عندیہ دیا ہے۔ چنانچہ صحافتی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ایف آئی اے حکومتی رکن اسمبلی کے خلاف بھی بدنام زمانہ پیکا قانون کے تحت کارروائی کرے گا یا پھر یہ قانون صرف حکومتی ناقدین ہی کو سبق سکھانے کے لئے استعمال ہوتا رہے گا؟
یاد رہے کہ قوم سے حالیہ خطاب میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے کھل کر پیکا قانون کی وکالت کی لیکن صحافتی حلقوں سمیت تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، بار ایسوسی ایشنز اور دیگر تنظیمیں پیکا قانون اور ترمیمی آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہیں۔
پیکا قانون کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھی یکم مارچ کو وزیراعظم کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گمراہ کیا جارہا ہے کیونکہ ہتک عزت کا قانون تو پہلے سے موجود ہے لہٰذا اس کے لیے پیکا کے کالے قانون کو استعمال کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔
واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے اخخ ٹی وی پروگرام میں سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی پر پیسے لے کر حکومت کے خلاف کالم لکھنے کا الزام لگایا تھا۔ 28 فروری کو وزیر اعظم کے قوم سے خطاب سے متعلق جب کامران شاہد کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی ارشاد بھٹی نے کہا کہ اپنی تقریر میں عمران خان نے کہا ہے کہ صحافی پیسے لے کر گند اچھالتے ہیں لہذا اگر میں ایف آئی اے میں یہ الزام لے کر چلا جاؤں تو کیا وزیر اعظم یہ الزام ثابت کر سکیں گے؟
اس کے جواب میں پروگرام میں شریک علی نواز اعوان نے کہا کہ ہم بالکل ثابت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی یہ دعویٰ سچ ثابت کر دیتا ہوں۔ آپ عاصمہ شیرازی کا کالم اٹھا کر دیکھ لیں۔ علی نواز کےا س دعوے پر میزبان کامران شاہد نے کہا کہ اب آپ نے براہ راست عاصمہ پر الزام لگا دیا ہے۔ عاصمہ شیرازی کے خیالات جو بھی ہیں، آپ یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ وہ پیسے لے کر لکھتی ہیں۔
کیا PTI جان بوجھ کر شہباز کا اورنج لائن منصوبہ لٹکا رہی ہے؟
اس کے لئے آپ کو ثبوت دکھانے پڑیں گے کہ ان کے اکاؤنٹ میں پیسے کس جماعت نے جمع کروائے۔ لیکن چونکہ آپ وزیر ہیں، اسلیے آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ مراد سعید کی طرح آپ کی درخواست اٹھائی جائے گی لیکن عام آدمی کی شنوائی نہیں ہوگی جن کے 90 ہزار سے زائد کیسز زیرِ التوا ہیں۔
دوسری جانب اس پروگرام کے بعد عاصمہ شیرازی نے ٹوئٹر پر واضح الفاظ میں علی نواز اعوان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ یا تو اپنا الزام ثابت کریں یا مجھ سے معافی مانگیں۔ انہوں نے لکھا کہ علی نواز اعوان صاحب۔ آپ نے کامران شاہد کے پروگرام میں مجھ پر پیسے لے کر کالم لکھنے کا الزام لگایا۔
میں آپ کو اپنی کردار کشی اور جھوٹا الزام لگانے پر عدالت لے جانے کا حق رکھتی ہوں۔ تیار ہو جائیے۔ عاصمہ کی جانب سے عدالت جانے کا عندیہ دیئے جانے کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ ایف آئی اے حکومتی رکن کے خلاف بھی بدنام زمانہ پیکا قانون کے تحت کارروائی کرے گا یا پھر یہ قانون صرف حکومت مخالف افراد ہی کو سبق سکھانے کے لئے استعمال ہوتا رہے گا ؟
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو پیکا قانون کی ترمیم شدہ دفعہ 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رکن پارلیمان اور وفاقی وزیر امین الحق نے عمران خان کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے پیکا آرڈیننس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم حکومتی وزرا کا اصرار ہے کہ قوانین میں یہ ترامیم سوشل میڈیا پر غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص یا ادارے کو بدنام نہ کرے۔ قانون میں اس ترمیم کے تحت ’فیک نیوز‘ یعنی جعلی خبریں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر اب نہ صرف پانچ سال تک کی قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے بلکہ اسے ناقابل ضمانت جرم بھی قرار دیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت کارروائی کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتاری کے لیے کسی وارنٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ ترمیم شدہ قانون کے مطابق ضروری نہیں کہ یہ غلط خبر کسی شخص سے متعلق ہی ہو۔ اگر یہ خبر کسی ادارے، تنظیم یا کمپنی سے متعلق ہے تو بھی اس قانون کے تحت متاثرہ ادارہ یا تنظیم اس شخص کے خلاف کارروائی کی درخواست دے سکتا ہے۔ اور کچھ صورتوں میں تو غلط خبر یا معلومات کے خلاف شکایت کرنے والا کوئی تیسرا فرد بھی ہوسکتا ہے جو اس خبر سے براہ راست متاثر نہ ہوا ہو۔
پیکا آرڈیننس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس ترمیم میں فیک نیوز کی تشریح نہیں کی ہے جس سے اس کا غلط استعمال ہوسکتا ہے۔ غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کے اپنے طریقۂ کار موجود ہیں جس کا استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی خبروں کو فیکٹ چیک کرنے کے لیے متعدد ادارے بھی موجود ہیں جو کہ بین الاقوامی فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک سے تصدیق شدہ ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسا کوئی بھی ادارہ نہیں جو اس نیٹ ورک سے منسلک یا تصدیق شدہ ہو۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے ٹوئٹر پر غلط خبروں کو فیکٹ چیک کرنے کے لیے ‘فیک نیوز بسٹر’ نامی ایک اکاؤنٹ بنایا گیا ہے۔
تاہم بہت سے صحافیوں کا الزام ہے کہ یہ اکاؤنٹ صرف حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے مواد کو غلط قرار دیتا ہے اور اس بات کی وضاحت بھی نہیں دی جاتی کہ کوئی خبر غلط کیوں ہے جو کہ فیکٹ چیکنگ کے اصولوں کے خلاف ہے۔ صحافیوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ حکومتی عہدیدار بغیر وضاحت ان کی خبر یا مواد کو غلط قرار دیتے ہیں جس سے سوشل میڈیا پر ان صحافیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے خلاف آن لائن مہم چلائی جاتی ہیں۔
انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک کے مطابق غلط خبر کا تعین کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر جانبدار ادارہ ہو اور وہ تمام فریقین کے مواد کی جانچ پڑتال کرے۔ ان کے مطابق کسی خبر کو غلط یا فیک نیوز قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے متعلق صحیح حقائق بھی سامنے رکھے جائیں کیوںکہ محض کسی خبر کو جعلی قرار دینا کافی نہیں۔
