کیا 27ویں ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل سپریم کمانڈر بن جائیں گے؟

 

 

 

اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 243 میں ایسی تبدیلیاں زیر غور ہیں جن کے تحت صدرِ مملکت آصف زرداری کی جگہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بنا دیا جائے۔ تاہم حکومت یا فوج کی جانب سے اب تک اس کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، اور یہ سب باتیں فی الحال غیر مصدقہ افواہوں کے زمرے میں آتی ہیں۔

 

یاد رہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 243 مسلح افواج کی کمان سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق وفاقی حکومت کو مسلح افواج پر مکمل کمان اور کنٹرول حاصل ہوگا، جبکہ صدرِ پاکستان بطور سپریم کمانڈر ان افواج کے اعلیٰ ترین عہدے دار ہوں گے۔ اس آئینی آرٹیکل کی شق نمبر 1 کہتی ہے کہ مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہوگا۔

شق نمبر 2 کے مطابق مسلح افواج کی اعلیٰ ترین کمان صدرِ مملکت میں متعین ہوگی، جبکہ شق نمبر 3 میں کہا گیا ہے کہ صدرِ پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیراعظم کے مشورے پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کریں اور ان کی مراعات و مدتِ ملازمت کا تعین کریں۔

 

تاہم اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ مجوزہ 27ویں ترمیم کے ذریعے “فیلڈ مارشل” کا عہدہ آئین میں شامل کرتے ہوئے اسے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کا درجہ بھی دے دیا جائے گ۔

خیال رہے کہ پاکستانی عسکری تاریخ میں “فیلڈ مارشل” کا عہدہ غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی میں جنرل ایوب خان نے خود کو فیلڈ مارشل بنایا تھا۔ تاہم اب اس عہدے کو آئینی حیثیت دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ “آپریشن بنیان المرصوص” میں پاک فوج کی بھارت کے خلاف کامیابی کے بعد حکومتِ پاکستان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے کر پانچ ستارے عطا کیے تھے، جس کے نتیجے میں وہ تکنیکی طور پر نیوی اور ایئر فورس کے فور سٹار افسران سے بھی سینیئر ہو گئے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر 27 ویں ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی کور دے دیا گیا تو وہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو صدرِ پاکستان کے آئینی و دفاعی اختیارات اور ان کی حیثیت کم ہو جائے گی۔ تاہم حکومتی یا فوجی حلقوں نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ مجوزہ ترمیم کا معاملہ تب منظرِ عام پر آیا تھس جب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی سے 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی درخواست کی ہے، انہوں نے لکھا کہ مجوزہ آئینی ترمیم میں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں صوبائی حصے کا تحفظ ختم کرنا، آرٹیکل 243 میں ترمیم کرنا، اور تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی وفاق کو واپس دینے کی تجاویز شامل ہیں۔

 

اسکے بعد سینیٹ میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بلاول بھٹو کی ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “انہوں نے ہوا میں بات نہیں کی، ان نکات پر بات ضرور ہوئی ہے، لیکن بہتر ہوگا کہ ترمیم کا مسودہ پہلے سینیٹ میں لایا جائے، کیونکہ قومی اسمبلی میں تو نمبرز گیم واضح ہے۔” اس حوالے سے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آئین میں فیلڈ مارشل کی تعیناتی سے متعلق خاموشی ہے۔ جنرل عاصم منیر کو یہ عہدہ وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدرِ پاکستان نے عطا کیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اب آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے اس عہدے کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

 

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ ابھی تک سامنے نہیں آیا، لیکن سیاسی بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے مسلح افواج کی سپریم کمان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق “اگر فیلڈ مارشل کو آئینی حیثیت دے دی گئی تو ممکن ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ غیر ضروری ہو جائے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق یہ تصور درست نہیں کہ ترمیم کے بعد فوج وفاق کے ماتحت نہیں رہے گی۔ فوج آئین کے مطابق وفاقی حکومت کے تحت ہی رہے گی، البتہ فیلڈ مارشل کو کمانڈ اور کوآرڈینیشن کا زیادہ مؤثر کردار دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ امریکہ یا چین میں دیکھا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کا عہدہ عطا تو کر دیا گیا تھا مگر اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ آئین کے ارٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے محض آئینی وضاحت دی جا رہی ہے، جبکہ سپریم کمانڈ بدستور صدرِ پاکستان کے پاس ہی رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔

27ویں آئینی ترمیم پاس کرانے کے لیے نمبرز گیم کتنی آسان ہے

دفاعی ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں جدید جنگ کے تقاضے اس بات کے متقاضی ہیں کہ تینوں افواج یعنی بری، بحری اور فضائی کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہو۔ فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی سطح پر لانا اسی سمت میں ایک قدم تصور کیا جا رہا ہے تاکہ قومی سلامتی کے فیصلے زیادہ مربوط انداز میں کیے جا سکیں۔ تاہم بعض آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے صدرِ کے بطور سپریم کمانڈر اختیارات کم ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ آئینی فریم ورک صدر کو دفاعی اداروں پر علامتی لیکن آئینی اختیار دیتا ہے، جسے مکمل طور پر فوجی کمانڈ کو منتقل کرنا ایک نیا پنڈورا باکس کھول سکتا ہے۔

 

Back to top button