کیا امریکہ سے دوستی چین کو پاکستان سے دور کر دے گی؟

پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی قربت نے بیجنگ اور اسلام آباد کے تعلقات کا توازن خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں زیادہ متوازن حکمتِ عملی اختیار نہ کی تو پاکستان اپنے چین جیسے بہترین اتحادی کو کھو بھی سکتا ہے۔

بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں نے عالمی اور علاقائی سطح پر طاقتوں کی نئی صف بندی کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات جنوبی اور مغربی ایشیا میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک ایسا ملک بن کر سامنے آیا ہے جسے بیک وقت سفارتی مواقع بھی حاصل ہوئے ہیں اور سنگین تزویراتی خدشات کا سامنا بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ابتدائی عالمی بے یقینی کے بعد دنیا اب ٹرمپ دور کے پیدا کردہ چیلنجز کا جواب دینے کی تیاری میں ہے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کے بعد امریکا کی خارجہ پالیسی کس رخ پر جائے گی۔ کیا واشنگٹن اسی جارحانہ اور لین دین پر مبنی طرزِ عمل کو جاری رکھے گا، یا نئی قیادت اس میں نظرثانی کرے گی؟

یہی غیر یقینی صورتحال یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ریاستوں کو اپنی ترجیحات نئے سرے سے طے کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی ممالک امریکا کے ساتھ اپنے اقتصادی، سیاسی اور تزویراتی تعلقات پر ازسرِنو گفت و شنید کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان حالیہ فری ٹریڈ فریم ورک، اور بھارت کے ساتھ یورپ کی بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری، ایشیا میں یورپ کے تعلقات میں ایک وسیع تر ازسرِنو ترتیب کا عندیہ دیتی ہے۔ چین اس تمام تبدیلی کے باوجود نسبتاً مستحکم انداز میں اپنی اقتصادی اور تزویراتی پوزیشن کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، حالانکہ اس کے ساتھ جڑی سیاسی و معاشی پیچیدگیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی پوزیشن اس پس منظر میں خاصی نازک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجارتی اور معاشی میدان میں پاکستان نہ تو چین اور بھارت جیسے بڑے ہمسایہ ممالک کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس وہ ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے جو بدلتے ہوئے عالمی تجارتی معیارات کا بھرپور جواب دے سکے۔ انکا کہنا ہے کہ ایک درمیانے درجے کی ریاست ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے اختیارات محدود ہیں، جس سے اس کے فیصلوں کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایک طرف چین کی تزویراتی اور اقتصادی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف واشنگٹن میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، خصوصاً ایسے علاقائی ماحول میں جہاں بھارت کو واضح سفارتی اور اقتصادی برتری حاصل ہے۔ یہی دوہرا دباؤ پاکستان کے دیرینہ سفارتی مخمصے کو جنم دیتا ہے، جس میں اسے بیجنگ پر انحصار اور امریکا میں ممکنہ تنہائی کے درمیان توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کار نشان دہی کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا اعلانیہ اعتراف اور بعد ازاں پاکستانی قیادت سے براہِ راست رابطے اسلام آباد کے لیے ایک اہم سفارتی بریک تھرو ہیں۔ ان کے مطابق اس پیش رفت کے نتیجے میں ایک نئی تزویراتی صف بندی سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کو مرکزی دفاعی اتحادیوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آذربائیجان، مصر، سوڈان اور حتیٰ کہ سیاسی انتشار کا شکار لیبیا بھی اس دائرۂ تعاون میں شامل دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ اعلیٰ سطحی عسکری روابط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ردِعمل سے نکل کر منتخب تزویراتی شراکت داری کی سمت بڑھ رہی ہے، اگرچہ اس کی طویل المدتی افادیت پر سوالات بدستور موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نئی صف بندی کو بظاہر صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل رہی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان مغربی ایشیا میں امریکا کا ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے، خاص طور پر غزہ سے متعلق ممکنہ امن اقدامات اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں۔

اگرچہ اسرائیل اس سعودی، ترک اور پاکستانی دفاعی فریم ورک کا حصہ نہیں ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف فریقوں کے مفادات بعض معاملات میں ایک دوسرے سے مکمل طور پر متصادم نہیں۔ یہی پہلو اس بندوبست کا سب سے حساس عنصر سمجھا جا رہا ہے۔ ابھی تک پاکستان نے دانستہ طور پر کسی ایسی صف بندی کا واضح اشارہ نہیں دیا، جس کی بنیادی وجہ داخلی سیاسی تقاضے اور ایران سے متعلق محتاط مؤقف ہیں۔ ایران کے معاملے پر سیاسی تجزیہ کار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان نہ تو ایران کے خلاف کسی فوجی جارحیت کی حمایت کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی بحران کی صورت میں تہران کے لیے ایسا فعال شراکت دار بن سکتا ہے جس کی توقع کی جاتی ہو۔ یہی محتاط توازن پاکستان کو بیک وقت اندرونی اور بیرونی دباؤ میں رکھتا ہے۔

داخلی سطح پر سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ریاست نے مغربی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی کے خلاف ممکنہ مذہبی ردِعمل کو بڑی حد تک قابو میں رکھا ہے، تاہم سیاسی اور سماجی نوعیت کی مزاحمت بدستور موجود ہے، جس کے اثرات زیادہ تر داخلی سیاست تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

اس کے برعکس بھارت، امریکا کے ساتھ تجارتی تنازعات، ٹیکسز سے متعلق اختلافات اور صدر ٹرمپ کے متنازع بیانات کے باوجود، تزویراتی سطح پر خود کو ازسرِنو منظم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی نے ان ممالک کے ساتھ روابط بڑھائے ہیں جو ٹرمپ کی تجارتی اور جغرافیائی سیاسی پالیسیوں سے غیر مطمئن ہیں، اور یہ وسعت اس نے کسی بڑے تزویراتی سمجھوتے کے بغیر حاصل کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، ایک کمزور معیشت، بگڑتی ہوئی داخلی سلامتی اور دائمی سیاسی عدم استحکام کے باعث محدود تزویراتی انتخاب رکھتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی امریکا نواز دفاعی صف بندی کے ساتھ بڑھتی ہوئی وابستگی نے چین کے ساتھ تعلقات کے توازن کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بڑھا دیا ہے، جو ٹرمپ کے بعد پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر اسلام آباد نے متبادل تزویراتی راستے پیدا نہ کیے تو اس کی سفارتی گنجائش محدود ہوتی جائے گی، اور بالآخر اسے مغربی ایشیا میں امریکا اور سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے جیو پولیٹیکل فریم ورک کے ساتھ مزید گہرائی میں جانا پڑ سکتا ہے، خصوصاً اسرائیل اور ایران جیسے حساس معاملات کے حوالے سے۔

انڈیا کیساتھ کھیلنے سے انکار: پاکستان نے ICC کو ہلا کر رکھ دیا

تجزیہ کاروں کے مطابق ان تمام خدشات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ایک جامع اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی، جس میں ایک نئی ہمسایہ پالیسی بھی شامل ہو، تاکہ علاقائی کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور طویل المدتی جیو اکنامک مفادات محفوظ رہ سکیں۔

Back to top button