کیا امریکہ سے دوستی پاکستانی معیشت کوبحال کرپائےگی؟

ملکی معیشت اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے معاشی انقلاب کیلئے جس "سنہرے موقع” کی تلاش تھی، وہ شاید واشنگٹن میں دستک دے چکا ہے۔ تاہم یہ دستک دروازہ کھولنے کیلئے ہے یا صرف خواب دکھانے کے لیے، اس پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔ایک طرف پاکستانی حکام ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقاتوں، فوٹو سیشنز اور ’’دوستی‘‘ کی خبروں سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہو چکا یا ہونے کو ہے، دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ 29 فیصد ٹیرف کا خطرہ اب بھی پاکستانی برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر کے سر پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے۔حکومتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان یہ تضاد صرف تجارتی منڈیوں کو نہیں بلکہ پاکستان کی پوری معیشت کو غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے مسلسل دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا سے زیرو ٹیرف تجارتی معاہدے پر بات چیت حتمی مراحل میں ہے اور یہ معاہدہ پاکستانی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل و زرعی مصنوعات کے لیے گیم چینجر بن سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے: جب امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کرنے کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن میں صرف چند دن باقی ہیں، تو امریکہ سے ہونے والا مجوزہ زیرو ٹیرف تجارتی معاہدہ کہاں ہے؟

معاشی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر پاکستان امریکہ سے معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو امریکا کے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف دوبارہ عائد کنے سے ملکی معیشت پر کئی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ معاہدہ نہ ہونے سے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ٹیکسٹائل سیکٹر کو شدید نقصان پہنچے گا، کیونکہ امریکہ پاکستانی ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ برآمدات میں کمی کا براہِ راست اثر صنعتوں پر پڑے گا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مزدور بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ برآمدات گھٹنے سے ملک میں زرِ مبادلہ کی آمد رک جائے گی، جو پہلے ہی نازک صورتحال سے دوچار معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید بڑھ جائے گا، جس سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے قرضوں پر انحصار بڑھانا پڑے گا، اور یوں معاشی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق امریکہ سے تجارتی معاہدہ ہونے بارے حکومتی دعوے صرف معیشت پر نہیں بلکہ سفارتی تعلقات پر بھی مبنی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو "پسندیدہ ملک” قرار دینا، ان کے بیٹے کی کمپنی کا پاکستان میں داخلہ، اور پاکستانی حکام کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا — یہ سب ایک سیاسی رومان کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ رومان معاشی حقیقت بن سکتا ہے؟ اس حوالے سے معروف ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے: "اگر پاکستان امریکی درآمدات پر ٹیکس ختم کر دے تو 20 کروڑ روپے کی قربانی دے کر 6 ارب ڈالر کما سکتا ہے، یہ بری ڈیل نہیں ہوگی۔” مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ سیاسی خوشنودی سے زیادہ معاشی سمجھداری کا تقاضا کرتی ہے۔

ڈاکٹر سلیمان شاہ جیسے ماہرین کا اس حوالے سے ماننا ہے کہ اگر امریکا سے تجارتی معاہدہ نہ ہوا تو پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا کباڑہ ہو جائے گا۔ ملک کے بڑے ٹیکسٹائل گروپس امریکا پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ٹیرف بڑھا تو وہ یا تو بند ہو جائیں گے یا ملک چھوڑ دیں گے۔یہ صرف صنعتی بحران نہیں ہو گا یہ ایک سماجی معاشی تباہی ہو گی جس کے اثرات ہر مزدور، ہر خاندان، اور بالآخر ہر پاکستانی کی جیب تک پہنچیں گے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش، چین اور آسیان جیسے ممالک کے ٹیرف موازنہ کی بنیاد پر امید لگائے بیٹھا ہے کہ شاید امریکا اس کے ساتھ نرمی کرے گا مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی منظرنامے میں ٹریڈ وار، جغرافیائی تناؤ، اور سیاسی ترجیحات اکثر معاشی مفادات کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کی کمزور سفارت کاری اور غیر یقینی معیشت اس سنہری موقع کو شاید ہاتھ سے نکلتا دیکھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ شفاف، متوازن اور قومی مفاد میں طے کیا جائے تو بلاشبہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر پاکستان امریکہ سے تجارتی معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد امریکی ٹیرف کی واپسی ملکی معیشت کیلئے صرف ایک "معاشی جھٹکا” نہیں بلکہ ایک "معاشی زوال” کا آغاز ہو گا۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ٹرمپ کے "دوستانہ موڈ” سے فائدہ اٹھا کر اپنی معیشت کو نئی زندگی دے سکتے ہیں؟ یا پھر یہ سب بھی کرپٹو پالیسی کی طرح ایک اور شیخ چلی کا خواب ثابت ہو گا؟

Back to top button