کیا CCD کو قتل کا لائسنس دینے سے جرائم ختم ہو جائیں گے؟

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے غنڈہ گردی ختم کرنے کیلئے تیار کیا جانے والا باوردی غنڈوں کا گینگ نہایت تندہی سے جعلی پولیس مقابلوں میں غنڈوں اور ڈکیتوں کا خاتمہ کر رہا ہے، لیکن ایسا کرنے سے یہ ناسور ختم ہونے کے بجائے مزید پھیل جائے گا۔ شہباز شریف کا بطور وزیراعلیٰ پہلا دورِحکومت ہو یا پھر کراچی آپریشن، وہاں غنڈوں کے خاتمے کے لیے تعینات کردہ غنڈے کرائے کے قاتل بن گئے تھے اور پھر وہ وقت آ گیا تھا جب اشرافیہ نے سرکاری غنڈوں کو پیسے دے کر اپنے ذاتی دشمن مروانا شروع کر دیئےتھے۔

یاد رہے کہ پنجاب میں مریم نواز کی ہدایت پر قتل، ڈکیتی اور زیادتی جیسے جرائم پر قابو پانے کے لیے کرائمز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یا سی سی ڈی کے قیام کے بعد سے صوبے میں پولیس مقابلوں میں 40 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے اور یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ سی سی ڈی والے پیسے لیکر بااثر افراد کے مخالفین کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہے ہیں۔ سی سی ڈی کے سربراہی ڈی آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے پاس ہے جو ماضی میں اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سربراہی بھی کر چکے ہیں۔ پنجاب میں بڑھتے ہوئے جعلی پولیس مقابلوں نے لوگوں پر دہشت اور خوف طاری کر دیا ہے جس کے بعد عدالتوں نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے۔

2025 کے اوائل میں قائم ہونے والا سی سی ڈی، پنجاب بھر میں قتل، ڈکیتی، جنسی جرائم، گینگ وار، اور زمینوں پر قبضے جیسے منظم جرائم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے بنایا گیا۔ ساڑھے چار ہزار اہلکاروں پر مشتمل اس فورس کا دائرہ کار تحصیل کی سطح تک پھیلا ہوا ہے، جہاں یہ ڈرون نگرانی، ڈیجیٹل ڈیٹا بیس، اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے ذریعے کام کر رہی ہے۔ یہ فورس اپنے قیام کے بعد سے 800 سے زائد "پولیس مقابلے” کر چکی ہے جن میں 160 ملزمان ہلاک، 53 زخمی، اور 49 گرفتار ہوئے۔ ان میں بعض انتہائی مطلوب افراد شامل تھے،۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ایک ایک دن میں پانچ سے سات پولیس مقابلے تقریباً ایک طرح کا معمول بن چکے ہیں۔ سی سی ڈی نے صوبے کے مختلف شہروں کے سرکردہ بدمعاشوں کی فہرستیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں جعلی پولیس مقابلوں میں پار کیا جا رہا یے تاکہ نہ رہے مجرم اور نہ ہی ہو جرم۔

اس حوالے سے معروف لکھاری بلال غوری روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد کئی برس تک کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ یعنی  CID نہایت موثر انداز میں کام کرتا رہا۔ پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا یعنی کرائم برانچ اور سپیشل برانچ۔پولیس آرڈر 2002ء کے تحت کرائم برانچ کو مزید دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ کرائم اور انویسٹی گیشن ونگ۔ اس دوران کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی CIA بھی کام کرتی رہی جسے بعد ازاں آرگنائزڈ کرائم یونٹ یعنی OCU میں تبدیل کردیا گیا۔

لیکن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس کا دائرہ کار پورے صوبے میں پھیلانے کیلئے رواں سال کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی CID قائم کردیا۔جب سے پولیس کے اس ذیلی محکمے نے کام شروع کیا ہے، جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ خواتین کی عصمت دری جیسے واقعات میں ملوث افراد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جاتے ہیں اور بچوں سے درازدستی کرنیوالے جنسی درندے اپنے نیفے کا پستول چل جانے سے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔

اسوقت سی سی ڈی کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ بدمعاشوں کی پسندیدہ سواری ڈبل کیبن ڈالے کی مارکیٹ کریش کرگئی ہے کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں صرف ایک ہی بدمعاش ہے جس کا نام سی سی ڈی ہے۔

بلال غوری کے مطابق اب’’بھائی لوگ‘‘شرافت کی زندگی گزارنے کا اعلان کررہے ہیں یا پھر کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ بظاہر یہ اچھا لگتا ہے کہ پہلی بار مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو نشان عبرت بنایا جارہا ہے۔ صرف عام لوگ ہی نہیں بلکہ اشرافیہ کے بڑے بھی صفائی کی اس مہم میں آن بورڈ ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ سی سی ڈی ٹھیک کام کررہی ہے۔ انکا خیال یے کہ اگر معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنا ہے، بڑھتی ہوئی لاقانونیت کو ختم کرنا ہے تو یہی حل ہے۔

لیکن بلال غوری کہتے ہیں کہ یہ ایک سراب، مغالطہ اور غلط فہمی ہے۔ آپ غنڈہ گردی کو ختم کرنے کیلئے باوردی غنڈوں کا گینگ تیار کررہے ہیں جس سے یہ ناسور ختم ہونے کے بجائے مزید پھیل جائے گا۔شہبازشریف کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب پہلا دورِحکومت ہو یا پھر کراچی آپریشن، کیا وہاں پالے گئے انکاؤنٹرز سپیشلسٹ کس کو یاد نہیں؟ کیا ہم بھول گئے کہ صرف انعام کے لالچ میں ایک بے گناہ مزدور غلام رسول بروہی کو ڈاکو معشوق بروہی قرار دے کر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا تھا۔ یاد رکھیں کہ جب ان وردی والوں کے منہ کو خون لگ جاتا ہے تو پھر یہ پولیس بھی مافیا کا حصہ بن جاتی ہے اور غنڈوں کی نئی کھیپ سامنے آجاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کو لاقانونیت سے ختم کیا گیا ہو۔ تشدد اور انتشار کو ہمیشہ قانون کی عملداری سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر دیرپا امن قائم کرنا ہے تو پولیس مقابلوں کا کلچر متعارف کروانے کے بجائے سی سی ڈی کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملزموں کے خلاف شواہد جمع کرکے مضبوط مقدمہ بنانے کی ترغیب دیں تاکہ استغاثہ کی کمزوری سے ملزم عدالتوں سے بری نہ ہو سکیں۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ سی سی ڈی کی پہچان اور تعارف یہ ہونا چاہئے کہ جس کیس کی تفتیش اسے دیدی جائے، اس میں سزایابی کا امکان 99 فیصد ہو۔ ورنہ اس ’’قانونی لاقانونیت‘‘سے تو مرض ختم ہونے کے بجائے لاعلاج ہو جائے گا۔

Back to top button