کیا عمران 27 مارچ کو نئے ارمی چیف کا اعلان کریں گے؟

اسلام آباد کے باخبر حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان 27 مارچ کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب میں
جنرل قمر باجوہ کی جگہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان کر سکتے ہیں
اور یہی وہ ٹرمپ کارڈ ہے جس کی طرف انہوں نے اگلے روز اشارہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ 23 مارچ کو وزیر اعظم ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے اور وقت آنے پر پتہ چل جائے گا کہ استعفی کون دیتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن اپنے سارے کارڈز شو کر چکی ہے لیکن میرے پاس ترپ کا ایک ایسا پتہ ہے جو میں آخری دن شو کروں گا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ وقت سے پہلے نئے آرمی چیف کی تقرری بارے صلاح مشورہ کر چکے ہیں اور انہوں نے 27 مارچ کو پی ٹی آئی کے جلسے میں نئے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان کرنے کا ذہن بنالیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وزیر اعظم کو ایسا کوئی ایکشن نہ لینے کا مشورہ دیا ہے لیکن بابر اعوان اور شہباز گل اس معاملے میں وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعوان وزیر اعظم کو بتا چکے ہیں کہ جس آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کا اختیار ملا تھا اسی ترمیم نے انہیں کسی بھی وقت آرمی چیف ہٹانے اور نیا چیف لگانے کا اختیار بھی دے دیا تھا۔ خیال رہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی معیاد اس سال نومبر میں ختم ہو رہی ہے اور عمران خان ان کی جگہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہتا ہے جو ماضی میں ان کے لئے سیاسی انجینئرنگ کرتے رہے ہیں۔
وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے سیاسی مشکلات کا آغاز لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے جانے اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے آنے سے ہوا جنہوں نے آئی ایس آئی کو مکمل طور پر غیرسیاسی کرنے کا اعلان کر دیا۔ وزیر اعظم کے لئے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے ساڑھے تین برس میں ان کے تمام تر سیاسی اور ذاتی مخالفین کو آئی ایس آئی کے ذریعے کاؤنٹر کیا جاتا رہا لیکن اب ادارے کے نیوٹرل ہو جانے کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا ہے۔
اسی وجہ سے اپوزیشن نے بھی عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کردی ہے جس کے نتیجے میں ان کی چھٹی یقینی نظر آتی ہے۔ بقول مریم نواز اگر عمران خان نیوٹرل کو جانور قرار دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج پر دباؤ ڈال لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے کیونکہ اب ان کو ماضی کی طرح بندے پورے کر کے دینے والا کوئی نہیں۔
چنانچہ تحریک عدم اعتماد میں اپنی یقینی شکست کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے خطرناک ہوتے ہوئے یہ دھمکی لگا دی ہے کہ ان کے پاس ترپ کا ایک پتہ اب بھی موجود ہے جسے وہ آخری دن استعمال کریں گے۔ عمران خان نے کسی بھی صورت مستعفی نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری گیند تک اپوزیشن کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا اور ووٹنگ سے ایک روز قبل ایک بڑا سرپرائز دوں گا جو سارے کھیل کا نقشہ پلٹ دے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دراصل جنرل باجوہ کو دھمکی دی ہے کیونکہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد وہ اسمبلی توڑنے کے اختیار سے تو محروم ہو چکے ہیں لیکن ان کے پاس اب بھی آرمی چیف کی تقرری کا اختیار موجود ہے۔ عمران خان تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے مسلسل فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی غیرجانبداری ختم کرے اور بدی کی قوتوں کے خلاف ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہو جائے۔ وزیراعظم فوج کی غیرجانب داری ختم کروانے کے لیے اس حد تک آگے چلے گئے کہ انہوں نے ایک تقریر میں یہ بھی کہہ دیا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے جب کہ انسان غلط اور صحیح میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا وقت جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے، توں توں وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان خلیج بھی بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یاد رہے کہ 23 مارچ کے روز جب وزیراعظم اور آرمی چیف اسلام آباد میں اکٹھے ہوئے تو دونوں نے سلامی کے چبوترے پر بھی ایکدوسرے سے دوری اختیار کیے رکھی۔ حالانکہ ماضی میں دونوں سٹیج پر ساتھ ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔
دوسری جانب 23 مارچ کی تقریب کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن اپنے سارے کارڈز شو کر چکی ہے لیکن میرے پاس اب بھی ایک ایسا کارڈ موجود ہے جو سارا کھیل الٹا کر رکھ دے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی تو لڑائی شروع ہی نہیں ہوئی،
لڑائی ہونے تو دیں، پھر دیکھتے ہیں کون استعفیٰ دے گا، انہوں نے کہا کیا میں لڑائی سے پہلے ہی اپنے ہاتھ کھڑے کردوں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ میں نے ماضی میں کبھی ایسا کیا ہے اور نہ آئندہ کروں گا، ویسے بھی میرے پاس ترپ کا ایک پتہ موجود ہے جو میں آخری دن شو کروں گا۔
اسلام آباد کے با خبر حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جان بوجھ کر اس طرح کی گفتگو کر رہے ہیں تاکہ آرمی چیف کو دباؤ میں لاکر نیوٹرل پوزیشن بدلنے پر مجبور کیا جا سکے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب عمران خان بہت دیر کر چکے ہیں اور فوجی قیادت بھی اپنی غیر جانبداری میں اتنی دور نکل چکی ہے کہ اس کی واپسی ممکن نہیں۔
عمران خان کی سرپرائز دینے کی دھمکی کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر فیض حمید کو نیا آرمی چیف تعینات کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں کہ سی او اے ایس بننے کے لیے کم از کم ایک سال تک کور کمانڈ کرنے کا تجربہ ضروری ہے جبکہ جنرل فیض کو کور کمانڈر پشاور مقرر ہوئے ابھی چھ ماہ بھی پورے نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی ایسا کوئی فیصلہ فوج کا ادارہ بھی قبول نہیں کرے گا جس کی ایک واضح مثال نومبر 1999 میں دیکھی جا چکی ہے جب وزیراعظم نواز شریف نے جنرل مشرف کو عہدے سے ہٹا کر جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا چیف لگایا تھا لیکن اس ایکشن کے ردعمل میں فوج نے نواز شریف کو معزول کر کے گرفتار کر لیا تھا۔
