عمران بنی گالہ بھیج دیے جائیں گے یا اور بھی سخت قید کاٹیں گے؟

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اہم ترین ملکی و بین الاقوامی معاملات پر موجودہ سیٹ اپ کی جانب سے اپنائی جانے والی مسلسل خاموشی کی پالیسی پراسراریت اور کنفیوژن میں مسلسل اضافہ کرتی جا رہی ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔

سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ نجم سیٹھی دعوی کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے عمران خان سے ’’ہولا‘‘ ہتھ رکھنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ اقتدار کے ایوانوں سے خبر آ رہی ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ سے اسلام آباد کی نسبتاً سخت جیل میں منتقل کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑا سیاسی کنفیوژن ہے۔ لیکن ریاست اور حکومت کی اس معاملے پر پراسرار خاموشی نت نئے سوالات جنم دیتی رہتی ہے۔ انکا کہنا یے کہ دنیا بھر میں اپنے دشمن سے فوجی حکمت عملی ہمیشہ پراسرار اور خفیہ رکھی جاتی ہے تاکہ اسے اصل طاقت اور تکنیک کا علم نہ ہو سکے اور میدان جنگ میں اس کے اندازے غلط ثابت کرتے ہوئے شکست دی جا سکے۔ دوسری طرف جدید جمہوری ریاستیں شفاف رہ کر اپنی طاقت اور مقبولیت کا جواز پیش کرتی ہیں۔ فوج اپنی حکمت عملی کا کبھی سر عام اعلان نہیں کرتی جبکہ حکومت اپنی حکمت عملی کا ببانگ ِ دُہل ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ اپوزیشن بڑبولی ہوتی ہے اور اکثر لغو الزامات لگا کر ریاست اور حکومت کو نشانہ بناتی ہے جسکا جواب شفافیت سے دیا جائے تو عام لوگوں کیلئے اسکا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں چونکہ پاکستان میں ہائبرڈ نظام رائج ہے چنانچہ ریاست، فوج اور حکومت آپس میں گڈمڈ ہیں اسلئے شاید ان کے فرائض کی تقسیم میں بھی کنفیوژن ہے۔ فوجی حکمت عملی پراسراریت کی متقاضی ہوتی ہے مگر جب کوئی قومی فریضہ آن پڑے تو پھر اسے خفیہ رکھنے کی بجائے شفاف بتانا اور لوگوں پر واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ انہیں اطمینان ہو کہ ریاست میں سب ٹھیک چل رہا ہے۔ کچھ لیکن جب سے بھارت سے جنگ جیتی گئی ہے اور امریکہ سے اعلانیہ دوستی کے چرچے ہوئے ہیں ہر معاملے میں پراسراریت بڑھتی جارہی ہے۔ دراصل اگر ریاست یا فوج، امریکی صدر سے ملے تو یہ سیاست ہے اور سیاست جتنی شفاف ہو اتنی ہی اچھی لگتی ہے۔ اس پر پراسراریت کے جتنے بھی پردے چڑھائے جائیں یہ پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہے۔

پاکستانی عوام کو کامل یقین ہے کہ فیلڈ مارشل اور امریکی صدر کی ملاقات میں سوفیصد ملکی مفاد کی بات طے ہوئی ہو گی مگر لغو گو باتیں بنانے سے باز نہیں آتے۔ ناہنجار یوتھیے کبھی معدنیات کے سودے کا تو کبھی مہنگے پیٹرول کی درآمد کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن ریاست کا اس حوالےسے گھڑا گھڑایا جواب ہوتا ہے کہ ہم باتیں نہیں کرتے بلکہ عمل کر کے دکھاتے ہیں، لیکن سیاست میں یہ مقولہ نہیں چلتا۔ جب تک عمل کی باری آتی ہے الفاظ کا زہر اس قدر پھیل چکا ہوتا ہے کہ وہ عمل بھی ناپسندیدہ نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ لہذا ریاست اور حکومت کی جانب سے اہنائی گئی پراسرار خاموشی معنی خیز بھی ہے اور سوال طلب بھی۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مڈل ایسٹ کے بحران میں پاکستان کا کردار یقیناً مثبت تھا۔ ایران کے صدر کا دورہ اور ایرانی پارلیمان کے اظہارِ تشکر سے اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے کوئی اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کردار کیا تھا ؟ اسرائیل کو کس طرح جنگ سے روکا گیا؟ اس دوران کیا بات چیت ہوئی؟ پاکستان کا اس صورتحال میں کیا کردار تھا؟ کیا ان سوالات پر پراسراریت کا گہرا پردہ ہی پڑا رہے گا یا پاکستانی عوام کو شفافیت کے اصول کے تحت کچھ بتایا بھی جائے گا۔ ہمارے ہاں ہر چیز کو خفیہ اور پراسرار رکھنے کو ریاست سے وفاداری سمجھ لیا گیا ہے، لیکن اگر سیاست ریاست کی پراسراریت نہ سمجھ سکے تو دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے ریاست کو سیاست کے ذریعے شفافیت قائم رکھ کر لوگوں کو آگاہی دینا لازم ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کل پاکستان یورپ اور امریکہ میں بہت متحرک ہے۔ فیلڈ مارشل یا اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے امریکہ اور یورپ کے دورے زیر غور ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دورہ پاکستان پر بھی پس پردہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ وزیر خزانہ اورنگ زیب نے امریکہ سے ٹیرف پر جو مذاکرات کئے ہیں کیا ان کی تفصیل اور اثرات سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری نہیں؟ امریکی پیٹرول درآمد کیوں کیا جارہا ہے کیا کویت اور عرب ممالک سے یہ سستا پڑ رہا ہے؟ معدنیات کتنی ہیں اورانکے بارے میں کیا سوچ ہے؟ عوام کو یہ سب بتانا ضروری ہے۔ امریکی اعلانات میں سے ایک نے تو سب پاکستانیوں کو حیران کر دیا ہے جو کہ پاکستان میں پیٹرولیم کے ذخائر کی امریکی کمپنیوں کے ذریعے دریافت ہے۔ سب سے بڑھ کر ٹرمپ کا یہ چھکا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان اپنا پٹرول انڈیا کو بیچے۔ اس اعلان نے تو سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا بیان آنے کے بعد پاکستانی عوام کو اس پراسرار معاملے کی وضاحت دی جاتی اور بتایا جاتا کہ ہمارے پاس گیس اور پیٹرول کے کتنے خزانے ہیں اور انہیں نکالنے کیلئے کون سا سستا ترین فارمولا اپنایا جائے گا؟ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

احتجاج کی ناکامی نے PTI کا رہا سہا بھرم بھی کھول کر رکھ دیا

سینئیر صحافی کہتے ہیں کہ ایک طرف تو ریاست پاکستان کی پراسراریت کا رونا ہے اور دوسری طرف تحریک انصاف کے نام نہاد حامیوں کی لغو گوئی ہے، حکومت بولتی ہی نہیں اور یوٹیوبر بڑبولے ہیں، ریاست خاموش ہے تو اپوزیشن منہ پھٹ ہے، حکومت مصلحت آمیز تو اپوزیشن بڑھک باز ہے۔ ایسے میں عوام جائیں تو کدھر جائیں پراسراریت سوال پیدا کرتی ہے مصلحت شکوک پیدا کرتی ہے اور بڑبولاپن ذہن کو چکرا دیتا ہے۔ پاکستان کی غالب اکثریت کو یقین ہے کہ پاکستان مڈل ایسٹ، چین اور کاروباری معاملات میں عوامی جذبات اور ریاستی مفادات کے عین مطابق اپنا کردار ادا کر رہا ہے مگر چند عاقبت نااندیش جو واویلا کر رہے ہیں ان کا منہ بند کرنا ضروری ہے ۔کیا یہ واضح کرنا مناسب نہ ہوگا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اپنے تاریخی موقف پر قائم ہے؟ یہ بتانے میں کیا حرج ہے کہ ایران کی جنگ رکوانے میں پاکستان نے کیا مثبت کردار ادا کیا؟ اس راز کو چھپانے کا کیا فائدہ ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر کہاں پیٹرول تلاش کر رہا ہے اور اسکے پاکستان کو کیا فوائد ملیں گے؟ غرضیکہ وُہ معاملات جو خفیہ اور پراسرار رکھے جا رہے ہیں ان کو ظاہر کرنے سے شفافیت آئے گی اور فوج اور حکومت کی ساکھ مزید بہتر ہو گی۔

Back to top button