کیا عمران اپنے بیٹوں کو سیاست کے بے رحم کھیل کا حصہ بنائیں گے؟

سیاست بے رحم لوگوں کا کھیل ہے جس میں کوئی کسی کا سگا نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کا انجام سب کے سامنے ہے، باپ اور بیٹی دونوں کو قتل کر دیا گیا، لہذا دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان واقعی اپنے بچوں کو اس بے رحم کھیل کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہیں جس میں جان دینی بھی پڑتی ہے اور لینی بھی پڑتی ہے۔

معروف لکھاری اور صحافی رؤف کلاسرا اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ جو بات ایک طعنے سے شروع ہوئی تھی وہ دھیرے دھیرے اب حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دیتی ہے۔ مریم نواز نے کچھ عرصہ قبل تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کے دوران کہا تھا کہ عمران خان دوسروں کے بچوں کو سڑکوں پر مروانے کے بجائے انگلینڈ سے اپنے بچوں کو بلائیں اور ان سے احتجاجی تحریک لیڈ کرائیں۔ اب علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران کے دونوں بیٹے پاکستان آ کر احتجاجی تحریک کو لیڈ کریں گے، جس پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جلتی پر تیل کا کام رانا ثناء اللہ نے یہ بیان داغ کر دیا کہ اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان آئے تو انہیں کافی مشکلات ہوں گی اور وہ گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔ کچھ وزیر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انہیں پاکستان آنے کی اجازت ہی نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہی نہیں۔

رہی سہی کسر جمائمہ خان نے ایک ٹویٹ میں پوری کر دی جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ ایک عرصے سے ان کے بچوں کی اپنے والد سے بات نہیں کرائی جا رہی۔ اب جب کہ ان کے پاکستان جانے کی بات ہو رہی ہے تو یہ دھمکی دے دی گئی ہے کہ وہ پاکستان گئے تو ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تو ذاتی انتقام ہے۔ لیکن وہ یہ بیان دیتے ہوئے بھول گئیں کہ اس انتقامی سیاست کی بنیاد عمران نے نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور دیگر کئی نون لیگی رہنماؤں کو اپنے دور حکومت میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال کر رکھی تھی۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ یوں قاسم خان اور سلیمان خان نے پاکستان آئے بغیر ہی یہاں سیاسی ماحول گرم کر دیا ہے۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمائمہ خان اپنے بچوں کو پاکستان آنے دیں گی کیونکہ وہ خود انتقامی سیاست کی وجہ سے پاکستان چھوڑ گئی تھیں۔ عمران خان نے اپنی کتاب ”مائی پاکستان‘‘ میں اپنا گھر نہ بسنے کی وجہ نواز شریف اور ان کی پارٹی کو ٹھہرایا تھا کیونکہ انہوں نے خان کو بدنام کرنے کی مہم شروع کی تھی جس کے بعد ان کا گھر نہ بس سکا۔ ان کی کردار کشی کی گئی۔ سیتا وائٹ سکینڈل کو اچھالا کر انہیں پریشان کیا گیا۔ جمائمہ خقن کے بارے کہا جاتا تھا کہ انہیں شکایت تھی کہ عمران کے پاس ان کیلئے وقت نہ تھا‘ وہ گھر پر کئی کئی دن اکیلی رہتی تھیں اور عمران سیاسی دوروں پر ہوتے تھے۔ لہٰذا وہ طلاق لیکر لندن واپس چلی گئیں‘ تاہم جمائمہ کو خود بھی کردار کشی کا سامنا رہا۔

ہم سب کو علم ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی کسی کے ساتھ رعایت نہیں رکھتا۔ اگر شریفوں نے بینظیر بھٹو‘ نصرت بھٹو‘ جمائمہ خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ رعایت نہیں برتی تو عمران خان نے بھی مریم نواز کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی اور ان پر ذاتی نوعیت کے حملے کیے۔ اس سے بھی بڑھ کر‘ پاکستان میں اقتدار اور پاور کیلئے آپ کو جان دینی بھی پڑتی ہے اور لینی بھی پڑتی ہے۔ ایک وزیراعظم گولی سے مارا گیا‘ دوسرا پھانسی لگا اور تیسری وزیراعظم بم دھماکے میں قتل کر دی گئی‘ نواز شریف اور باقیوں کو جیلوں کی سزا ہوئی۔

اس کھیل میں کسی کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے۔

لہٰذا اگر آج رانا ثناء اللہ یہ کہتے ہیں کہ عمران کے دونوں بیٹوں کو باپ کی رہائی کے لیے پاکستان واپس آنے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تو ایسا ہی ہو گا اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہو گی۔ ہاں اس سے پارٹی کا اندازِ سیاست بدل جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں بیٹے باپ کو رہائی دلوانے کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں، لیکن یہ باپ خود جب وزیراعظم پاکستان بنا تو ساڑھے تین برس تک برطانیہ کا دورہ نہیں کیا تھا۔ عمران خان پہلے وزیراعظم تھے جو اپنے دور اقتدار میں ایک مرتبہ بھی لندن دورے پر نہیں گئے۔

عمران خان کے مخالفین کے مطابق عمران کی تیسری اہلیہ بشری بی بی عرف پنکی پیرنی نہیں چاہتی تھی کہ خان صاحب اپنی اولاد سے ملیں لہذا انہوں نے یہ چورن بیچ ڈالا کہ اگر آپ کے بچے ملنے آئیں گے تو آپ کے لیے نحوست لائیں گے۔  چنانچہ اپنے دور اقتدار میں عمران بچوں سے ملنے ایک بار بھی لندن نہیں گئے۔ آج ان کے بچے ان سے ملنے کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں۔

کلاسرا کہتے ہیں کہ میں ذاتی طور پر اس حق میں ہوں کہ بچوں کو باپ سے فون پر بات چیت کی اجازت ہونی چاہیے۔ مان لیا نواز شریف کو گرفتاری کے بعد بسترِ مرگ پر پڑی اپنی اہلیہ کلثوم نواز سے فون پر بات بھی نہ کرنے دی گئی تھی، لیکن اگر عمران دور میں کچھ غلط ہوا تو ضروری نہیں کہ آج شہباز شریف دور میں بھی وہ غلطی دہرائی جائے۔ بہر حال اب سیاسی لڑائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ عمران کا ابھی تک اس حوالے سے ردعمل سامنے نہیں آیا کہ کیا وہ پاکستانی سیاست کے خطرناک الاؤ میں اپنے بچوں کو بھی لانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ راستہ تخت یا تختے کی طرف جاتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بینظیر بھٹو کی طرح خان کے بچے بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں‘ وہ مریم نواز کی طرح وزیراعلیٰ بھی بن سکتے ہیں یا پھر بینظیر بھٹو کی طرح جان بھی دے سکتے ہیں۔ سیاست بے رحم لوگوں کا کھیل ہے جس میں کوئی کسی کا سگا نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کا انجام سب کے سامنے ہے اور اب عمران خان اور نواز شریف اپنی جان داؤ پر لگا کر یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا عمران واقعی اپنے بچوں کو سیاست کے جان لیوا کھیل کا حصہ بنانے کو تیار ہیں، فی الحال ایسا دکھائی نہیں دیتا۔

Back to top button