کیا عمران اقتدار بچانے کے لیے اپنا آخری کارڈ استعمال کریں گے؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے باوجود عمران خان کے ہاتھ میں آئینی اور قانونی اختیار پر مبنی ترپ کا ایک پتہ ایسا ہے جس کی بدولت طاقت کا توازن اب تک ان کے پلڑے میں جھکا دکھائی دیتا ہے۔ ترپ کے اس پتے کا ممکنہ استعمال ہی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کھل کر اپنا وزن عمران مخالف پوزیشن کے پلڑے میں ڈالنے سے روکے ہوئے ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں اگر ترپ کا یہ پتہ استعمال کرنے کی نوبت آ بھی گئی تو ادارہ جاتی ردعمل کی صورت میں عمران کے بچنے کا امکان ففٹی ففٹی ہو گا۔
سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ اس وقت نمبرز گیم سے زیادہ کڑا مرحلہ تحریکِ عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد کی صورت حال سنبھالنے کا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کی سیاسی پیش رفت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز گیم تقریباً مکمل ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ غریدہ کہتی ہیں کہ 342 کے ایوان زیریں میں حکومت کے پاس اپنے اتحادیوں کو ملا کر 179 کا نمبر موجود ہے۔
اپوزیشن کے پاس 162 ووٹ موجود ہیں۔ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کامیاب کروانے کے لیے اپوزیشن کو 172 کا گولڈن نمبر درکار ہے یعنی اسے صرف 10 مزید ووٹ درکار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حتمی پارلیمانی نمبرز میں دونوں بینچز کو فی الحال ایک ایک ووٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ تحریکِ انصاف کے179 ممبرز میں سے ایک ووٹ کی کمی ہنگو سے ایم این اے خیال زمان اورکزئی کی وفات کی وجہ سے آئی ہے۔ جبکہ اپوزیشن کے 162 میں سے ایک ووٹ کی کمی ایم این اے علی وزیر کی گرفتاری کی وجہ سے ہے جو کہ پچھلے ایک برس سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
اگر تحریکِ عدم اعتماد جلد پیش کر دی جاتی ہے اور اس دوران علی وزیر کی رہائی عمل میں نہیں آتی تو پھر اپوزیشن کو کامیابی کے لیے مزید 11 ووٹ درکار ہوں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے پانچ ایم این ایز اور ایم کیو ایم کے سات ایم این ایز اسی وجہ سے انتہائی کلیدی اہمیت حاصل کر چکے ہیں۔
غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ نظر رکھنے والوں کے لیے تو یہ امر انتہائی باعثِ دلچسپی ہے کہ مسلم لیگ (ق) جس کا ماضی ہمیشہ ہی عسکری حلقوں کی آشیرباد اور اشاروں کا مرہونِ منت رہا ہے، وہ اچانک اپوزیشن سے اعلی سطح کی ملاقاتوں پر اتر آئے اور پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کے بدلے عمران خان اور عثمان بُزدار حکومت گرانے کو آمادگی بھی ظاہر کر چکی ہے۔
ظاہر ہے عقل رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ اب تک کی اُڑتی اُڑتی خبروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) عارضی طور پر پنجاب کی وزارتِ اعلٰی مسلم لیگ (ق) کے حوالے کرنے کے لیے نسبتاً راضی ہے اور اس صورت میں محتاط اندازے کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم صوبائی اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ قومی اسمبلی کی مدت کی تکمیل پر اپوزیشن کے مابین اختلافات نظر آتے ہیں لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ اس حوالے سے بھی معاملات جلف طے پا جائیں گے۔
یہی وہ چند ایک متنازعہ معاملات ہیں جن کو طے کرنے میں اپوزیشن کو تاخیر کا سامنا ہے اور اسی اعصاب شکن، مشکل ترین کام کے لیے سیاسی شطرنج کے ماہر ترین کھلاڑی آصف زرداری کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ معاملات کو حتمی شکل تک پہنچانے کے لیے خصوصاً مسلم لیگ (ق) نے ’گارنٹی‘ اور ’گارنٹر‘ کا مطالبہ کیا جس کے بعد آصف زرداری کا نام بطور ’فرنٹ پلیئر‘ سامنے لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق معاملات آصف زرداری کے ہاتھ میں آنے پر ایم کیو ایم نے بھی اطمینان کا اظہار کیا کیوں کہ پنجاب کی پارٹی کی نسبت سندھ کی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنے کے لیے ایم کیو ایم نسبتاً زیادہ آرام دہ محسوس کر رہی تھی۔
فی الحال نظر یہی آتا ہے کہ ایم کیو ایم اور قاف لیگ اس وقت تحریک انصاف کے ایک دھڑے کے پارٹی سے علیحدہ ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ جیسے ہی ایسا اعلان ہو جاتا ہے، چوہدری برادران اور ایم کیو ایم بھی اپنا قبلہ بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگائیں گی۔ لیکن اس صورتحال میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایک جانب جہاں اپوزیشن بھرپور جارحیت کے ساتھ حکومت مخالف داؤ پیچ کھیلنے میں مصروف ہے وہیں تحریکِ انصاف کی حکومت کی طرف سے تاحال جوابی جارحیت کا فقدان ہے۔ محض چند ایک وزرا صاحبان کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آئے جن میں بھی اعتماد کی کمی جھلکتی محسوس ہوئی۔
ایک طرف حکومت خود ہی یہ دعوی کر کے کہ اس کے اراکینِ پارلیمان کو پیسوں کے بدلے ووٹ خریدنے کی آفرز ہو رہی ہیں، اپنے ہی ایم این ایز کو شرمندگی کی صورتحال میں دھکیل رہی ہے جبکہ اتحادیوں کے حکومت کے ساتھ رہنے کا اعتماد بھی متزلزل نظر آتا ہے۔
کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ اتحادی ہمیشہ بارڈرلائن پر ہوتے ہیں اور کبھی ’خواہش‘ کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ’امید‘ ہے اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ حکومتی وزرا کے محض بیانات کا ہی جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ درونِ خانہ حالات کی تبدیلی کی سنگینی کا بخوبی احساس ہو چکا ہے۔
غریدہ کہتی ہیں کہ اب یہ بھی یاد کر لیجیے کہ اوائلِ جنوری میں عمران خان نے خبردار کر دیا تھا کہ ’اگلے تین ماہ بہت اہم ہیں۔‘ اس وقت بظاہر نہ تو حکومت کو کوئی خطرہ محسوس ہو رہا تھا نہ ہی اپوزیشن ایسی تگڑی تھی لیکن پسِ پردہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور پک رہا تھا جس کی بِھنک خان تک پہنچی تھی اور اُنہی ’خبردار‘ کیے گئے تین ماہ کے دوران ہی حالات کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ اب تو خبر یہ بھی ہے کہ اِن ہی ’تین ماہ‘ کی ڈیڈلائن تک یعنی مارچ میں ہی عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی جائے۔ تحریک پیش کرنے کی صورت میں دونوں ممکنہ صورتحال انتہائی دلچسپ ہوں گی کیوں کہ اس میں پاکستان کی سیاست کے نئے تاریخی لمحات طے ہو رہے ہوں گے۔
بقول غریدہ فاروقی، اوّل صورتحال تو یہ کہ تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو جائے۔ اس صورت میں ظاہر ہے اپوزیشن کی بہت سُبکی ہو گی، عوام کا اعتماد اپوزیشن پر سے اٹھ جائے گا اور عمران خان پہلے سے زیادہ طاقتور وزیراعظم بن کر سامنے آئیں گے۔ دوسری صورت یہ کہ تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو جائے لیکن اگر اسکی کامیابی کا 50 فیصد یقین بھی عمران کو ہوا تو خبر دینے والوں کے مطابق قبل از وقت اسمبلیاں توڑنے کو ترجیح دی جائے گی۔ اس صورت میں عمران اپنی مدت پوری نہ کرنے کا بیانیہ لے کر سڑکوں پر آ سکتے ہیں اور ’سیاسی شہادت‘ کے جذبات کا بڑی حد تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف وزیراعظم نے حالیہ ایک تقریر میں اشارہ بھی کیا تھا کہ اگر ان کی حکومت گرائی گئی تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور زیادہ خطرناک ہو جائیں گے۔ بظاہر یہ ایک ’تُرپ کا پتّہ‘ ہے جو وزیراعظم کے پاس آئینی، پارلیمانی، قانونی اور جمہوری اعتبار سے موجود ہے۔ وزیراعظم کے پاس ’تُرپ کا دوسرا پتّہ‘ بھی موجود ہے لیکن اس کا استعمال چند دیگر عناصر و افراد سے جُڑا ہے اور اس کی ٹائمنگ بھی انتہائی نازک ہے جس کی بِنا پر اُس ’پتّے‘ کے استعمال کے فائدے کا تناسب ففٹی ففٹی ہے۔
اور اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا عمران اقتدار سے نکالے جانے کے بعد خاموشی سے بَنّی گالہ روانہ ہو جائیں گے، کیا وہ کتابیں پڑھنا اور لکھنا شروع کر دیں گے، کیا وہ کرکٹ میچز پر کمنٹری شروع کر دیں گے یا لندن روانہ ہو جائیں گے؟ یا کیا یہ ممکن ہے کہ حکومت گرائے جانے کے بعد اپوزیشن کے عائد کردہ الزامات کے تحت مقدمات کا آغاز کر دیا جائے اور عمران کے گرد گھیرا تنگ ہوجائے۔۔۔؟
غریدہ کے مطابق ظاہر ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے کامیاب ہونے کے اگلے ہی روز تو یہ سب کچھ شروع نہیں ہو جائے گا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ مَنّتوں مرادوں اور مِنتّوں سے ملی اپنی حکومت کے گرائے جانے کے ساتھ ہی خان چپ کر کے نہیں بیٹھ جائیں گے یا خامشی سے یہ سارا تماشہ نہیں سہیں گے۔۔۔۔ فارغ تو نہیں بیٹھیں گے محشر میں جُنوں میرا۔۔۔۔ کے مصداق خان کی حکمتِ عملی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور تاریخی لمحہ ہو گا اور اسی لیے دوسری صورت حال کے ممکنات کاجائزہ لینے ذیادہ ضروری ہے۔
اسی لیے تاحال عمران خان نے اپنے ’پتّے‘ سینے سے لگا کر رکھے ہیں، لیکن بہرحال اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی اگلے چند دنوں میں ایک ایسے کھیل کا آغاز کرنے جا رہی ہیں جو کسی کے لیے بھی ’دا لاسٹ گیمبل‘ یعنی ’آخری جُوُا‘ یا ’دا لاسٹ گیمبل‘ یعنی ’ہارا ہوا جُوّا‘ ثابت ہونے سکتا ہے۔
