کیا عمران کا مزاحمتی بیانیہ مفاہمت کا راستہ ہموار کر پائے گا؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جاری مزاحمت کا بنیادی مقصد مفاہمت کا راستہ استوار کرنا ہے کیونکہ اگر وہ ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے تو اسٹیبلشمنٹ پر مفاہمت کے لیے دباؤ ختم ہو جائے گا۔ انکے مطابق یہ طے کرنا ابھی مشکل ہے کہ عمران خان کی فوج سے لڑائی حقیقی ہے یا سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ لڑائی محض دکھاوے کی ہے تو چند ہفتوں میں عمران خان کسی فائیو سٹار گیسٹ ہاؤس نما جیل میں نظر آئیں گے، لیکن اگر یہ جنگ سنجیدہ نوعیت کی ہے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خان کی سیاست فیصلہ کن قربانی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ غالباً یہ چوتھی مرتبہ ہے جب عمران خان اور فوج کے درمیان کسی نہ کسی نوعیت کی ڈیل تحریک انصاف کی دہلیز تک پہنچی، مگر ہر بار کسی وجہ سے حتمی مرحلہ عبور نہ کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ ہر بار ڈیل عمران خان کے اشاروں پر آگے بڑھتی ہے، لیکن اسکی ناکامی میں بھی بنیادی کردار خود عمران خان کا ہی دکھائی دیتا ہے۔

 

نیازی کا کہنا ہے کہ جب بھی عمران خان کو کوئی ممکنہ ریلیف ملنے کی امید ملتی ہے تو وہ مزید رعایت حاصل کرنے کی کوشش میں سخت موقف کے ذریعے فیصلہ سازوں پر دباؤ بڑھانے لگتے ہیں۔ اکثر آخری لمحات میں عمران خان، ان کے کسی قریبی عزیز یا ساتھی کی جانب سے کوئی سخت یا دھمکی آمیز بیان سامنے آ جاتا ہے، جس سے پورا مفاہمتی عمل متاثر ہو جاتا ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق عمران خان کی جانب سے ڈیل کے پیچھے کوئی مستقل یا اصولی مؤقف کارفرما نظر نہیں آتا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر مرتبہ ممکنہ مفاہمت کے لیے اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

 

معروف تجزیہ کار نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو میر صادق، میر جعفر اور غدار جیسے سخت القابات دینے کے بعد ستمبر 2022 میں عمران خان نے انہی سے خفیہ طور پر تین ملاقاتیں کیں اور ڈیل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بقول، جس شدت سے جنرل باجوہ پر تنقید کی گئی، اسی تیزی سے انہیں غیر معینہ مدت تک توسیع دینے کی پیشکش بھی کی گئی۔ اس کے بدلے عمران خان نے جنرل باجوہ سے دوبارہ وزارت عظمی مانگی تھی تاہم وہ ان کی یہ خواہش پوری کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے تھے۔

 

نیازی کے مطابق عمران خان کی سیاسی زندگی متضاد بیانیوں کا مجموعہ رہی ہے۔ ایک طرف مزاحمتی بیانیہ اپنایا جاتا ہے، دوسری طرف مفاہمتی راستے بھی کھلے رکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی قیادت ایسے افراد کے سپرد کی گئی جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول سمجھے جاتے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں حکومت کی تشکیل بھی انہی روابط کو مدنظر رکھ کر کی گئی تاکہ کسی بھی مرحلے پر قابل قبول ڈیل ممکن ہو سکے۔ ادارہ جاتی فیصلوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ طاقتور حلقوں کے فیصلے شخصیات کے بجائے اداروں کی سطح پر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنے کا فیصلہ کسی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ تھا۔ اسی تناظر میں انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں نواز شریف کے خلاف شروع ہونے والی مہم کا حوالہ دیا، جو بعد میں بھی جاری رہی۔ انہوں نے 2014 کے دھرنے اور ڈی چوک کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی سیاسی قوتوں کو مخصوص انداز میں متحرک کیا گیا۔

 

عمران خان کی سیاسی اہلیت پر تنقید کرتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیہ بیک وقت چلاتے ہوئے دباؤ کے ذریعے بہتر ڈیل حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران کی پارٹی قیادت مفاہمت کی بات کرتی ہے جبکہ انکی بہنیں مزاحمتی بیانیے کے ذریعے عوام اور سوشل میڈیا کی حمایت سمیٹتی ہیں۔ اس صورت حال نے پارٹی کے اندر دو واضح گروہوں کو جنم دیا ہے جس سے تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔

طاقتور فیصلہ ساز عمران خان کو رہا کرنے کا رسک کیوں نہیں لیتے؟

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کی تکلیف کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس اور لاہور کی جیل سے سروسز ہسپتال منتقلی کے معاملے پر طنز و مزاح کیا جا رہا ہے۔ نیازی نے سوال اٹھایا کہ اگر تب نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس غلط تھیں تو کیا ان میں شامل ادارے بھی اس کے ذمہ دار تھے؟ ان کے مطابق اس طرز سیاست میں خود احتسابی کے بجائے مخالفین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، جو سیاسی اخلاقیات پر سوال اٹھاتا ہے۔ حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی جانب سے غیر ضروری سخت بیانات مفاہمت کے امکانات کو کمزور کر دیتے ہیں اور ہر بار مخاصمت نئی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت یا فوجی حلقوں پر تحریک انصاف کا کوئی فیصلہ کن عوامی دباؤ موجود نہیں۔ اس لیے موجودہ سیاسی صورتحال حال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ حالات کس طرف جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے کہ عمران کی فوج سے لڑائی حقیقی ہے یا محض ایک سیاسی چال ہے۔ اگر یہ لڑائی دکھاوے کی ثابت ہوئی تو عمران خان جلد کسی آرام دہ جیل میں ہوں گے، لیکن اگر یہ واقعی اصولی اور سنجیدہ تصادم ہے تو پھر عمران کی سیاست ایک بڑے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کا انجام قربانی پر ہو سکتا ہے۔

Back to top button