اینکر اقرار الحسن کی سیاسی جماعت یا ایک اور پانی کا بلبلا ؟

 

 

 

پاکستان میں معروف شخصیات کی جانب سے نئی سیاسی جماعتوں کا قیام کوئی نئی بات نہیں، تاہم حالیہ پیشرفت میں معروف اینکر اور صحافی اقرار الحسن نے ’عوام راج تحریک‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایک ایسے وقت میں، جب ملک میں پہلے ہی درجنوں سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور نوجوان ماضی کی کئی سیاسی تحریکوں سے مایوس دکھائی دیتے ہیں، ایسے میں نوجوان قیادت، خاندانی سیاست کے خاتمے اور اقتدار سے لاتعلقی کے دعوؤں کے ساتھ سامنے آنے والی اقرار الحسن کی سیاسی جماعت واقعی نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کر پائے گی یا یہ بھی پاکستانی سیاست میں ایک اور وقتی تجربہ ثابت ہو گی؟

 

خیال رہے کہ معروف اینکر اقرار الحسن کا لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ’عوام راج تحریک‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو مایوسی اور انتشار کے سوا کچھ نہیں دے سکیں۔ ان کا اپنی سیاسی جماعت قائم کرنے کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ سیاست میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ ان کے مطابق وہ خود نہ تو کوئی انتخاب لڑیں گے اور نہ ہی کسی حکومتی عہدے کے خواہاں ہیں، بلکہ وہ ایک ایسی فکری تحریک شروع کرنا چاہتے ہیں جو خاندانی سیاست، کرپشن اور شخصیت پرستی کے خلاف ہو۔

تاہم ناقدین کے مطابق پاکستانی سیاست میں نئی جماعتوں کی تاریخ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں 168 سے زائد سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، لیکن قومی سطح پر اقتدار چند ہی جماعتوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دہائیوں سے اقتدار کا حصہ بنتی رہی ہیں، جن پر موروثی سیاست کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں عمران خان کی تحریک انصاف وہ واحد بڑی مثال ہے جس نے نوجوانوں کو متحرک کر کے نہ صرف قومی سیاست میں جگہ بنائی بلکہ حکومت تک بھی پہنچی۔

 

اسی تناظر میں سیاسی مبصرین اقرار الحسن کے فیصلے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی سیاسی جماعت کے بانی کا خود انتخابی عمل سے الگ رہنے کا اعلان جمہوری روح کے منافی ہے کیونکہ جو شخص خود بیلٹ باکس کے ذریعے عوام سے ووٹ لینے کو تیار نہ ہو، اس کی قیادت پر عوامی اعتماد قائم ہونا مشکل ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق پاکستان میں اس نوعیت کی کئی جماعتیں ماضی میں بنیں، مگر وہ مخصوص نعروں سے آگے نہ بڑھ سکیں اور وقت کے ساتھ منظرنامے سے غائب ہو گئیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سیاست محض نیک نیتی کے دعوؤں یا سوشل میڈیا مقبولیت سے نہیں چلتی۔ عوامی خدمت، تنظیم سازی، اور مسلسل عوامی رابطہ وہ عناصر ہیں جن کے بغیر کوئی جماعت انتخابی سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ویسے بھی پاکستان میں ووٹر صرف نوجوان نہیں بلکہ ہر عمر اور طبقے پر مشتمل ہیں، اس لیے کسی جماعت کا صرف نوجوانوں پر انحصار اس کا دائرہ کار محدود کر سکتا ہے۔

 

سینیئر تجزیہ نگار مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بہت سی جماعتیں ایک شخصیت کے گرد گھومتی رہیں اور جلد ہی دم توڑ گئیں۔ ان کے بقول اگر ’عوام راج تحریک‘ واقعی نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور خاندانی سیاست سے نجات کا متبادل پیش کرنا چاہتی ہے تو اسے محض نعروں سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی دکھانا ہو گی۔

 

تاہم اقرار الحسن کے مطابق ’عوام راج تحریک‘ کا مقصد نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم سے نکال کر مثبت اور تعمیری سیاست کی طرف لانا ہے۔ ان کے مطابق جماعت کے اندرونی معاملات، عہدوں کا تعین اور فیصلے مشاورت اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو تنظیم سازی میں استعمال کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ جماعت کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں ہو گی بلکہ عوام کی اجتماعی تحریک بنے گی۔

شہبازشریف کی فراغت اورقومی حکومت کاکتناامکان ہے؟

ناقدین کے مطابق ملک میں اس وقت جمہوری حکومت موجود ہے اور مختلف جماعتیں وفاق اور صوبوں میں برسرِ اقتدار ہیں، جہاں نوجوان پہلے ہی عملی سیاست کا حصہ ہیں۔ ایسے میں ایک نئی جماعت کے لیے سیاسی خلا محدود دکھائی دیتا ہے۔ ویسے بھی اقرار الحسن کی جماعت کو الیکشن کمیشن میں رجسٹر کرانے کا عمل ابھی باقی ہے، جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ تحریک انتخابی سیاست میں کس حد تک قدم رکھتی ہے۔ اصل امتحان تنظیم سازی، عوامی حمایت اور بیلٹ باکس پر کارکردگی ہو گا۔ تاہم وقتی طور پر ’عوام راج تحریک‘ نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔ اقرار الحسن کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ’پاکستان عوام راج تحریک‘ ملک کو حقیقی تبدیلی کی راہ پر گامزن کرے گی، جبکہ ناقدین اسے محض ایک نیا سیاسی تجربہ قرار دے رہے ہیں۔ مگر سوال اب بھی وہی ہے: کیا یہ تحریک نوجوانوں کی مایوسی کو امید میں بدل پائے گی، یا یہ جماعت بھی پاکستان کی سیاست میں آنے والی متعدد جماعتوں کی طرح پانی کا بلبلا ثابت ہو گی؟

Back to top button