کیا امریکی حملے سے پہلے ہی ایران معافی مانگ لے گا؟

 

 

 

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل گہرے ہوتے دکھائی دیتے ہیں، خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی بڑھتی موجودگی، طیارہ بردار جہازوں کی پیش قدمی اور فوجی سازوسامان کی منتقلی اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی محض سفارتی دباؤ تک محدود نہیں رہی بلکہ طاقت، بقا اور وقار کی علامت بن چکی ہے۔ تہران کے نقطۂ نظر سے واشنگٹن کی شرائط مذاکرات نہیں بلکہ مکمل تزویراتی پسپائی کے مترادف ہیں۔ یورینیئم افزودگی کا خاتمہ، بیلسٹک میزائل پروگرام پر قدغن اور خطے میں اثر و رسوخ کم کرنے کا مطالبہ دراصل اس دفاعی ڈھانچے کو توڑنے کے برابر ہے جسے ایران نے دہائیوں کی قربانیوں کے بعد  تشکیل دیا ہے۔تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسے وقت میں، جب عسکری توازن واضح طور پر واشنگٹن کے حق میں دکھائی دیتا ہے، تہران ’ہتھیار ڈالنے‘ کے بجائے تصادم کا راستہ کیوں اختیار کر سکتا ہے؟ ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے نزدیک امریکہ کی جانب سے محدود جنگ کا خطرہ شاید قابلِ برداشت ہو، مگر مکمل سٹریٹیجک جھکاؤ داخلی کمزوری، اقتدار کے توازن میں بگاڑ اور ممکنہ عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا ایرانی پانیوں کے قریب پہنچنا اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کا مشرق وسطیٰ کی جانب پیش قدمی کرنا محض علامتی اقدام نہیں بلکہ ممکنہ فوجی آپشنز کی تیاری کا اشارہ ہے۔ دفاعی سازوسامان کی مرحلہ وار منتقلی نے یہ تاثر مزید مضبوط کر دیا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور اگر مؤقف میں لچک نہ آئی تو تصادم خارج از امکان نہیں۔تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے اور کھلی جنگ کا معاملہ واشنگٹن کے لیے بھی آسان نہیں ہے کیونکہ امریکی حکام جانتے ہیں کہ عسکری برتری کے باوجود جنگیں پیشگی حساب کتاب کے مطابق نہیں چلتیں۔ امریکی تجزیہ کاروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو اس حوالے سے متنبہ کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ کوئی بھی محدود کارروائی وسیع تصادم میں بدل سکتی ہے، خطے میں طاقت کا خلا شدت پسند گروہوں کو ابھار سکتا ہے اور عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے بقول تہران کے سامنے انتخاب دو برے آپشنز کے درمیان ہے: پسپائی یا تصادم۔ تاہم کم از کم عوامی بیانیے میں ایران خود کو دوسرے راستے کی طرف مائل دکھا رہا ہے،ایک ایسا راستہ جو پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔

طاقتور فیصلہ ساز عمران خان کو رہا کرنے کا رسک کیوں نہیں لیتے؟

ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے لیے یہ محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ ریاستی بقا کا سوال بن چکا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر سے مکمل سٹریٹیجک جھکاؤ داخلی طاقت کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے، جانشینی کے حساس مرحلے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کر سکتا ہے۔ اگرچہ ایک محدود فوجی تصادم مہنگا ثابت ہو سکتا ہے، مگر اسے ناقابلِ برداشت نہیں سمجھنا چاہیے اس کے برعکس مکمل پسپائی کو نظام کے لیے زیادہ بڑا خطرہ تصور کیا جارہا ہے۔ اسی لئے ایران پسپائی کی بجائے تصادم کا راستہ اختیار کرتا نظر آتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی بڑی فوجی تعداد اور زمینی تنصیبات کے باوجود، امریکی ٹیکنالوجی، فضائی برتری، اور دفاعی نظام اسے ایک مضبوط پوزیشن میں رکھتے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کی قوتیں مختلف انداز میں متوازن ہیں، جس کا مطلب ہے کہ براہِ راست جنگ کی صورت میں نتائج پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور پورا خطہ اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے،

 

Back to top button