کیا جنگ میں ایران کے اتحادی چین اور روس اسکا ساتھ دیں گے؟

 

 

 

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ تہران کو اپنے دونوں بڑے اتحادیوں، یعنی روس اور چین، سے عملی طور پر کس حد تک حمایت مل سکتی ہے۔ بظاہر زبانی کلامی تو دونوں بڑی طاقتیں ایران کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتیں، لیکن یہ دونوں ممالک ایران کے لیے براہِ راست محاذ آرائی مول لینے سے بھی گریزاں ہیں۔

 

روس نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، تاہم اس کا عملی ردعمل اب تک محتاط اور محدود دکھائی دیتا ہے۔ روسی ترجمان نے ’حملوں پر شدید مایوسی‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے باوجود صورت حال ’جارحیت‘ میں تبدیل ہو گئی۔ ان کے مطابق ماسکو ایرانی قیادت اور خلیجی ریاستوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو ’بلا اشتعال جارحیت‘ اور خودمختار ریاستوں کے رہنماؤں کا ’شکار‘ قرار دیا۔

 

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیتی پیغام بھیجا اور اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ تاہم قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ماسکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر براہ راست تنقید سے گریز کیا ہے اور یوکرین تنازع میں امریکہ کی ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں محتاط لہجہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی ایران کے لیے حمایت بڑی حد تک بیان بازی تک محدود رہنے کی ایک بڑی وجہ یوکرین میں جاری جنگ ہے، جس نے ماسکو کے وسائل اور توجہ کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ 17 جنوری 2025 کو ایران اور روس کے مابین سٹریٹیجک شراکت داری کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم یہ باقاعدہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نہیں۔ دونوں ممالک نے معلومات کے تبادلے اور مشترکہ مشقوں کا وعدہ کیا، مگر  اس معاہدے میں حملے کی صورت میں ایک دوسرے کے دفاع کی ضمانت شامل نہیں۔

 

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران روس اور ایران کے مابین فوجی تعاون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس اپنے ہمسایہ مسلم ملک ایران کو یاک-130 تربیتی طیارے اور ایم آئی-28 حملہ آور ہیلی کاپٹر فراہم کر چکا ہے جبکہ ایس یو-35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی ابھی متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم کی فراہمی کا معاہدہ بھی زیرِ بحث ہے، تاہم اس پر پیش رفت واضح نہیں۔

 

دوسری جانب ایرانی ساختہ ’شاہد‘ ڈرونز نے یوکرین جنگ میں روس کا پلڑا بھاری رکھا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں روس نے مقامی ڈرون سازی بڑھا کر ایران پر انحصار کم کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ماسکو کے لیے ایران اس قدر اہم ضرور ہے کہ وہ اس کا مکمل انہدام نہیں چاہتا، مگر اتنا اہم بھی نہیں کہ وہ براہِ راست ایک پرائی جنگ میں کود کر امریکہ سے پنگا لے۔ چین نے بھی آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

 

تاریخی طور پر بیجنگ امریکی حمایت یافتہ حکومتوں کی تبدیلی کی پالیسی کا ناقد رہا ہے۔ چین اور ایران کے تعلقات کی بنیاد باہمی اقتصادی مفادات پر ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود بیجنگ نے تہران کے لیے اقتصادی ’لائف لائن‘ کا کردار ادا کیا ہے۔ 2025 میں ایران کی برآمدات کا 80 فیصد سے زائد خام تیل چین نے خریدا۔ 2021 میں دونوں ممالک نے 25 سالہ سٹریٹیجک معاہدہ کیا جس کے تحت چینی سرمایہ کاری ایرانی انفراسٹرکچر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں متوقع ہے۔

ایران اسرائیل جنگ سے پاکستانی معیشت خطرے میں کیوں؟

سفارتی سطح پر چین ماضی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف قراردادوں کو روکنے یا ویٹو کی دھمکی دینے کے ذریعے تہران کی ’سفارتی ڈھال‘ بنتا رہا ہے، مگر اس نے کبھی براہِ راست فوجی مداخلت کی پیشکش نہیں کی۔ ایران نہ صرف خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے مقابل ایک اہم فریق ہے بلکہ وہ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کا بھی رکن ہے۔ تہران کی ممکنہ سیاسی تبدیلی ان بلاکس کی ساکھ اور ماسکو اور بیجنگ کے عالمی وژن کو متاثر کر سکتی ہے۔

موجودہ منظرنامے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف مکمل زمینی جنگ کا آغاز نہیں کرتے، تہران کا سیاسی اور فوجی ڈھانچہ فوری طور پر منہدم ہونے کا امکان کم ہے۔ روس سفارتی بیانات اور محدود فوجی تعاون تک خود کو محدود رکھ سکتا ہے، جبکہ چین اقتصادی اور سفارتی سطح پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ یوں بظاہر دونوں بڑی طاقتیں ایران کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتیں، مگر اس کے لیے براہِ راست محاذ آرائی مول لینے سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔

 

Back to top button