کیا عمراندار ججز آسانی سے 26 ویں آئینی ترمیم کو قبول کر لیں گے؟

26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو جہاں پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی سے تعبیر کیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق ترمیم سے پارلیمان کا اصل مقام بحال ہوا ہے اور اس سے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان محاذ آرائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔وہیں دوسری جانب بعض دیگر تجزیہ کار اور قانونی ماہرین آئینی ترامیم کی منظوری بارے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ترمیم کو متنازع قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت نے آئینی ترمیم کر کے آزاد عدلیہ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی ہے اور اس ترمیم سے حکومت کے خلاف فیصلے کرنے سے کوئی بھی جج گھبرائے گا۔

لیکن ایسے میں سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ان عدالتی اصلاحات سے عام شہریوں کو کیا فائدہ ملے گا اور کیا ملک میں انصاف کا نظام تیز کام کر سکے گا؟ اس حوالے سے بحث بھی جاری ہے کہ کیا عمراندار ججز 26ویں آئینی ترمیم کو آسانی سے قبول کر لیں گے یا اس بارے اپنا کوئی رد عمل سامنے لائیں گے۔ تاہم یہ بات تو یقینی ہے کہ آنے والے چیف جسٹس کا عمراندار ججز کو قابو کرنا اور ان کا زہر نکالنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہو گا۔

ناقدین کے مطابق ترمیم کا بنیادی مقصد اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو کنٹرول کرنا ہے اور اس سے یقینی طور پر عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی۔ اس ترمیم نے دونوں اداروں یعنی پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان طاقت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا یے کہ ترمیم کا واحد مقصد عدلیہ کو حکومت کے خلاف فیصلوں سے روکنا ہے۔ اب حکومت یعنی سیاست دان یہ فیصلہ کریں گے کہ ملک کا چیف جسٹس کون ہو گا اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کون ہوں گے اور کون نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو سب سے زیادہ مزاحمت ججز کی جانب سے مل رہی تھی اور اب اس مزاحمت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔

ناقدین کا مزید کہنا تھا کہ اب ججز پرفارمنس کی اسکروٹنی کے لیے بیورو کریٹس کی طرح سیاست دانوں اور حکومت کے خلاف فیصلے سے اجتناب کریں گے۔ اس سے خوشامدی کلچر پروان چڑھے گا اور کمزور ججز انصاف کے بجائے اپنی نوکری پکی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مبصرین کے مطابق جوڈیشل کمیشن جس میں اب سیاست دان بھی ہوں گے، جب وہ جج کی کارکردگی کا تعین کریں گے تو یہاں سے عدلیہ کی آزادی پر وار ہوتا ہے۔اسی طرح چیف جسٹس کے تعین کے وقت پھر سے سیاست دانوں کی مرضی شامل کرنا بھی عدلیہ کی آزادی کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔

اُن کے بقول مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک حاضر سروس جج کے کردار پر سوال اٹھانے کا اختیار پارلیمنٹیرین کو مل جاتا ہے اور یہ شرط رکھ دی جائے کہ اس کے کردار پر اٹھائے جانے والے سوالات پر تسلی پر ہی وہ آگے بڑھ پائے گا یا وہ چیف جسٹس بن پائے گا۔

تاہم تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ ان تاثرات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کی یہ کہنا درست نہیں کہ عدالتی امور سے عدلیہ کی بالادستی یکسر ختم ہو گئی ہے کیونکہ اب بھی عدالتی معاملات میں جوڈیشری کی بالادستی قائم ہے کیونکہ اس وقت جوڈیشل کمیشن کے 13 ممبرز ہیں ان میں سب سے بڑا شیئر ہولڈر جوڈیشری ہے ان کے جوڈیشل کمیشن میں پانچ لوگ ہیں اس کے علاوہ بار کونسل کا ممبر بھی ان کا ہی کہلاتا ہے اس طرح 6 لوگ ان کے ہیں پھر ان کا یہ دعویٰ یا پروپیگنڈا غلط ہوگیا کہ حکومت کی مداخلت زیادہ ہے ۔ باقی پانچ حکومت کے ممبرز ہیں اس کے علاوہ دو اپوزیشن کے ہیں اس طرح سے بیلنس جو ہوا وہ ایک بار کے نمائندے اور دو اپوزیشن کے نمائندوں کے پاس ہوا تو پھر حکومت کی اکثریت کیسے ہوگئی۔ حکومت کے تو صرف پانچ ارکان ہیں کاسٹنگ ووٹ تو اپوزیشن یا بار کے پاس ہے ۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم میں ججز کی تعیناتی بارے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے وہ تمام بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل پاکستان میں ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کار جو 19 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے لایا گیا تھا، وہ ٹھیک نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ آئین میں کی جانے والی اٹھارہویں ترمیم میں ججوں کی تعیناتی کا جو طریقہ کار وضع کیا گیا تھا، اسے یہاں واپس لانے کی کوشش کی گئی اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد ایڈووکیٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ اس آئینی ترمیم میں کچھ بھی غلط ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قانون سازی عدلیہ کا نہیں بلکہ پارلیمان کا اختیار ہے اور پارلیمان یہ اختیار استعمال کرتے ہوئے آئین میں ترمیم لائی ہے۔

دوسرا یہ کہ ہماری عدلیہ کی تاریخ ایسے غلط کاموں سے بھری پڑی ہے جس میں اس نے آئین اور جمہوریت کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے آمروں کے مفادات کی نگرانی کی۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی تعیناتی میں پارلیمنٹ کا کردار ہونا چاہیے اور ان کے بقول اس سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اس ترمیم سے عدلیہ کی آزادی سلب نہیں ہو گی۔

26ویں آئینی ترمیم ،PTIقیادت تنقید کی زد میں کیوں؟

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق کسی عدلیہ نے آج تک جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کام نہیں کیا بلکہ جمہوریت کو نقصان ہی پہنچایا ہے اور ڈکٹیٹروں کوا ختیار دیا کہ وہ آئین میں ترمیم خود کرلیں ججز کا کام انصاف دینا ہے اور ان کو یہ منصب خدانے عطا کیا ہے لیکن یہ خودخدا بن جاتے ہیں اور ان کے اندر تکبر آجاتا ہے۔

تاہم سابق جسٹس عثمانی کے خیال میں جب سے چیف جسٹس کی تعیناتی سنیارٹی کی بنیاد پر ہونے لگی تھی، اس کے بعد سے ان کی اہمیت بہت بڑھ چکی تھی۔چیف جسٹس بھی وزیرِ اعظم، آرمی چیف کی طرح ملک میں ایک قسم کے اسٹیک ہولڈر بن چکے تھے۔

چیف جسٹس کے پاس آئینی شقوں کی تشریح کرنے کی طاقت تھی تو پھر انہوں نے اپنے اپنے طریقوں سے تشریح کی۔ دوسری جانب ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں سیاسی کیسز کی بھر مار نے بھی چیف جسٹس کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

ان کے بقول ججز کی تعیناتی کے عمل میں پارلیمان کی شمولیت بہت ضروری ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا سیاسی ماحول اس طرح کا ہے کہ اداروں کے درمیان ایک تصادم کی فضا رہتی ہے۔ تاہم ججز کی تعیناتی میں پارلیمان کی شمولیت اس ترمیم کی اچھی چیز ہے۔ اگر اس پر بہتر طریقے سے عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں بطور قوم اس سے کافی فوائد مل سکتے ہیں۔

Back to top button