کیااسٹیبلشمنٹ مخالف اچکزئی اپوزیشن لیڈربن پائیں گے؟

عمران خان کی جانب سے تقریبا تین ماہ پہلے پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے باوجود ابھی تک ان کی تقرری نہیں ہو پائی جبکہ عسکری قیادت اور شہباز حکومت کو ہدف تنقید بنانے کے بعد وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے مزید دور ہو چکے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ان کے سپیکر قومی اسمبلی سے معاملات طے پا چکے ہیں اور آئندہ دو سے تین روز میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن تقرری کا اعلان کر دیا جائے گا۔
تاہم ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی کے حالیہ جارحانہ بیانات، اڈیالہ جیل اور پارلیمنٹ پر حملے کی دھمکیوں اور حکومت و اسٹیبلشمنٹ پر الزام تراشیوں کی وجہ سے نہ صرف سرکار ان کے اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے بلکہ تحریک انصاف کی قیادت بھی عمران خان کے پرائی جماعت کے سربراہ کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر معترض ہے۔ مبصرین کے مطابق اپنوں و بیگانوں کی جانب سے مخالفت کے بعد محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب سپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نامزد کردہ قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی ممکنہ تقرری کی صورت میں ایک نئے قانونی محاذ آرائی کا امکان ہے، اکبر ایس بابر سمیت تحریک انصاف کے بانی رہنماؤں نے محمود اچکزئی کی تقرری کے خلاف قانونی فورم سے رجوع کرنے کیلئے صلاح مشورے شروع کر دئیے ہیں اور اس ممکنہ اقدام کو وفاقی آئینی عدالت یا الیکشن کمیشن میں لے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بھی سامنے لایا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان 2018 میں الیکشن ایکٹ 2017 سے متعلق ایک اہم فیصلے میں واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی سزا یافتہ فرد سیاسی معاملات میں مداخلت یا سیاسی فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی سیاسی معاملات میں مداخلت کر سکتا ہے چونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ایک سزا یافتہ مجرم ہیں اس لئے ان کے نامزد کردہ شخص کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنا نہ صرف آئینی فیصلے کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ اعلیٰ عدلیہ کی حکم عدولی بھی ہے، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اگر محمود خان اچکزئی کی تقرری عمل میں آتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف پارلیمان کے اندر بلکہ عدالتی سطح پر بھی ایک طویل قانونی جنگ شروع ہونے کا خدشہ ہے، جو ملکی سیاست اور پارلیمانی کارروائیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً دو ماہ قبل 6اکتوبر 2025 کو عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدوں کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کی نامزدگیاں کی گئی تھیں حالانکہ دونوں کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ محمود اچکزئی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں جبکہ علامہ عباس ناصر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ ہیں۔ عمران خان کی جانب سے یہ نامزدگیاں اس وقت سامنے آئیں جب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عمر ایوب خان اور شبلی فراز نااہلی کے باعث ان عہدوں سے ہٹ چکے تھے۔ اس کے باوجود پارٹی کے اندر سے کسی متبادل نام پر اتفاق کے بجائے بیرونی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیے جانے کو تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اسے پارٹی قیادت پر عدم اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔ذرائع کے مطابق عمران خان کے اس فیصلے نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت میں پہلے سے موجود ناراضی اور مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا تھا، جبکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور تقسیم مزید نمایاں ہو گئی تھی۔ بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی کے بعد محمود خان اچکزئی نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھانے کے چکر میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو نشانے پر لیتے ہوئے اپنے خطابات اور پریس کانفرنسز میں فوجی قیادت پر تنقید، الزامات اور دھمکیوں کی بوچھاڑ شروع کردی جس کی وجہ سے ان کی بطور قائد حزب اختلاف تقرری مسلسل تاخیر کا شکار دکھائی دی۔
تاہم اب تازہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی وفد کو یقین دہانی کرائی کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کی تقرری مکمل کر لی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے چیف وہپ منگل کو دوبارہ اپوزیشن لیڈر کے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے، بدھ کے روز سپیکر کاغذات کا جائزہ لیں گے، جبکہ جمعرات کو تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری آئندہ 2 سے 3 روز میں متوقع ہے۔
سہیل آفریدی کا استقبال سندھ حکومت کے گلے کیسے پڑ گیا؟
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں سپیکر ایاز صادق جبکہ سینیٹ میں چیئرمین یوسف رضا گیلانی کو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ جب تک ان دونوں ایوانوں کے پریذائیڈنگ افسران یعنی سردار ایاز صادق اور یوسف رضا گیلانی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کی نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے اپنے دستخطوں کے ساتھ جمع کروائی گئی درخواست کی تصدیق نہیں ہوتی، کسی بھی شخص کا اپوزیشن لیڈر بننا نا ممکن ہے۔ ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی کے بیانات کی وجہ سے ہی قومی اسمبلی میں آزاد قرار دیے گئے تحریک انصاف کے ارکان کی طرف سے جمع کروائی گئی اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی درخواست وصولی کا اعلامیہ بھی ابھی تک سپیکر چیمبر سے جاری نہیں ہو پایا۔ ذرائع کے مطابق قائد حزب اختلاف کی نشست پر تقرری سے پہلے سپیکر ایوان میں اس منصب کے خالی ہونے کا اعلان کرینگے جس کے بعد ارکان سے نامزدگی کے لئے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق قائد حزب اختلاف کے تقرر سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی موصول ہونے والی درخواست پر ارکان کی جانب سے کیے گے دستخطوں کی انفرادی طور پر تصدیق کرینگے۔ اگر کسی ایک بھی رکن کے دستخط دو نمبر نکلے اور ان کی تصدیق نہ ہوسکی تو پوری درخواست کو مسترد کردی جائے گا۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی قیادت کے دعوؤں کے مطابق محمود اچکزئی قائد حزب اختلاف منتخب ہوتے ہیں یا ان کا جارحانہ طرز سیاست انھیں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے مزید دور کر دیتا ہے۔
