کیا مولانا اور دیگر جماعتیں عمران کی رہائی کے لیے الائنس بنائیں گی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف بطور ایک جماعت سوشل میڈیا کے بیرونی گروہ کے ہاتھوں ہائی جیک ہو چکی ہے جبکہ اس کی اندرونی قیادت ’بیرونی سوشل میڈیا‘ کے دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں تحریک انصاف دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک چلانے میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ ویسے بھی تحریک انصاف کی مجوزہ تحریک کا عمران خان کی رہائی کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا نہیں۔ لہذا یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین خصوصا مولانا فضل الرحمن اپنے ازلی مخالف عمران خان کی رہائی کے لیے اپنا کاندھا استعمال ہونے دیں گے یا نہیں؟
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ملک کے حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ یہاں عدالت، صحافت، سیاسی جماعتیں سب منقسم ہیں، گویا معاشرے کی نظریاتی تقسیم کا اہتمام ہو چکا ہے ایسے میں کون ہو گا جو آئین اور جمہوریت کے لیے سب کو ایک جگہ متحد کرے؟ سوال یہ ہے کہ ہم حالت انقلاب میں ہیں یا سبز باغ کے پیچھے گرداں ہیں؟ انقلاب گویا خود پریشان ہے کہ کس موسم میں آئے۔ ہم مسلسل کشمکش میں ہیں کہ انقلاب کی حد اور احتجاج کی ناک کا کیا کرنا ہے؟ اتنا کچھ ہو چکا مگر انقلاب کا سِرا ہاتھ نہیں لگ رہا اور جدوجہد مفرور ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ سوشل میڈیا پر برپا انقلاب کو پیر کب ملیں گے اور ’شعوری انقلاب‘ کی آخری منزل کیا ہو گی؟
عاصمہ کہتی ہیں کہ نئی نویلے انقلابی شور مچا رہے ہیں کہ ملک مسلسل مارشل لا میں ہے، آمریت پنجے گاڑھ چکی ہے، اظہار رائے پر قدغنیں اور تحریر و تقریر پر پابندی ہے، لیکن سوال یہ کہ کیا اب سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا؟ یا یہ ہر دور کی ’کنٹرولڈ‘ جمہوریت اور آزادیوں پر پابندیوں کا ایک تسلسل ہے جو کسی کو اب نظر آیا اور کسی کو تب۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران خان کے اپنے دور حکومت میں پاکستان کے حالات موجودہ حالات سے مختلف تھے۔ انکا کہنا یے کہ جمہوریت، نظریے اور آزادی رائے سے وابستگی حالات اور موسم کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک تسلسل کے ساتھ جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم آئین کے رستے سے ہٹتے چلے گئے اور اب سر زمینِ بے آئین میں آزادیاں ڈھونڈتے ہوئے ماضی کو فراموش کر دینا چاہتے ہیں۔ لہازس ضروری ہے کہ جو کل غلط کیا گیا تھا ہم پہلے اسے تسلیم کریں اور پھر آگے بڑھیں، تب ہی درست سمت کا تعین ممکن ہو گا۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ تحریکیں نظریے سے چلتی ہیں، شخصیت پرستی سے نہیں۔ لیکن تحریک انصاف کی ساری سیاست شخصیت پسندی کے گرد گھوم رہی ہے اور گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے کی کوشش کرنے والوں کا بنیادی مقصد بھی اپنے کپتان کی رہائی کے سوا کچھ نہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں 2002 کے انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی جماعتیں پَر نہیں مار سکتی تھیں، نواز شریف، بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھے۔ اے آر ڈی وجود میں آئی اور نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں سیاسی جماعتیں متحرک ہوئیں، نوابزادہ صاحب کی پریس کانفرنسیں اور سیاسی سرگرمیاں بطور رپورٹر کور کرنے کا موقع ملا۔
عاصمہ بتاتی ہیں کہ نوابزادہ صاحب ایف سیون ٹو سیکٹر کے ایک بوسیدہ سے مکان میں رہائش پذیر تھے جبکہ تحریک کے پاس چلنے کے معاشی ذرائع نہ ہونے کے برابر۔۔ اے آر ڈی کو صرف اللہ کا ہی آسرا تھا مگر نوابزادہ صاحب اپنے افکار اور اشعار سے جذبہ جگاتے رہتے تھے۔ باہر بیٹھی قیادت اور اندر بیٹھے کارکنوں کو یہ احساس البتہ تھا کہ قیادت محفوظ ہاتھوں میں ہے جو کسی سے خفیہ مذاکرات کرے گی نہ ملاقات۔ وہ بتاتی ہیں کہ 2002 سے 2004 تک آمریت کی سختیاں زیادہ تھیں اس کے باوجود چند سر پھرے تحریک چلاتے نظر آتے تھے۔
مشرف دور میں نواز لیگ کے سابق سیکرٹری اطلاعات مرحوم صدیق الفاروق اُٹھائے گے، مخدوم جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا، سینٹر مشاہد اللہ خان نے شاہراہ دستور تک پہنچنے کی کوششیں کیں، اقبال ظفر جھگڑا صحافیوں تک خبر پہنچانے کی تگ و دو کرتے رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے نیر بخاری اور نذیر ڈھوکہ مرحوم سمیت کئی کارکن سڑکوں پر نکل آتے اور اپنی جدوجہد کا اظہار کرتے رہتے۔
اس دور میں اخبارات میں اپوزیشن کی دو کالمی خبر کو جگہ مل جاتی اور نئے نئے ’آزاد‘ چینلوں پر چند سیکنڈوں کی کوئی فوٹیج چل جاتی تو یہی کارکنوں کی کامیابی ہوتی۔ نہ کوئی کفن باندھتا، نہ قبر کھودتا اور نہ سوشل میڈیا تھا کہ کوئی مہم چلتی مگر سیاست اپنی زندگی اور صحافت اپنی آزادی کا اظہار چھینتی دکھائی دیتی، کوئی انقلاب لانے کے دعوے نہ کرتا مگر اپنی ذات کے اندر انقلاب کی کوششیں ضرور دکھائی دیتیں۔ عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ آج ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد بنانے کی کوششیں جسری ہیں۔ عدالتیں آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے آئین کی بجائے مختلف سیاسی گروہوں کے سامنے سرنڈر کر چکی ہیں جبکہ پارلیمینٹ اپنی سیاسی جگہ کھو بیٹھی ہے اور صحافت نئے قانون کے تحت پابندیوں اور اندیشوں کی نذر ہو چکی ہے۔
دوستی جانب صحافتی تنظیمیں، جو کہ احتجاجی تحریکوں کی بنیاد بنتی ہیں، اب تک الگ الگ صفحوں پر ہیں۔ پیکا قانون پر کئی ایک تنظیمیں الگ الگ اجلاس بلا رہی ہیں مگر اب تک نہ تو کوئی متفقہ لائحہ عمل بن سکا اور نہ ہی مجوزہ مسودہ تیار ہو سکا ہے۔ مختصر یہ کہ صحافتی برادری پیکا مخالف قوانین کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ایک جگہ اکٹھی نہیں ہو سکی۔
عاصمہ کے بقول یہی حال سیاسی جماعتوں کا ہے۔ چھوٹی بڑی درجن بھر سیاسی جماعتیں ایک جگہ کھڑی ہیں مگر اب تک جمہوریت، آئین کی سربلندی کا ’مشترکہ ایجنڈا‘ طے نہیں پا سکا۔ ہو سکتا ہے کہ جلد کوئی پیش رفت سامنے آ جائے مگر تحریک انصاف کا موقف اس پر کیا ہو گا اور عمران خان کس کو ساتھ لے کر چلیں گے؟ یہ سوال تاحال جواب طلب ہے۔اپوزیشن جماعتوں میں تحریک انصاف سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے مگر کون سا دھڑا زیادہ مضبوط ہے اس کا فیصلہ بھی نہیں ہو پایا۔ اتنی بڑی جماعت کو نہ تو اپنا لائحہ عمل پتہ ہے اور نہ ہی طریقہ۔۔ اب تک احتجاج سے لے کر سول نافرمانی، خطوط سے لے کر امریکی لابنگ تک کے حربے ناکام ہوئے ہیں، تنظیم کمزور اور دھڑے مضبوط ہو رہے ہیں۔
سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ لگتا ہے تحریک انصاف بطور جماعت سوشل میڈیا کے بیرونی گروہ کے ہاتھوں ہائی جیک ہو چکی ہے جبکہ اندرونی قیادت ’بیرونی سوشل میڈیا‘ کے دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ کوئی حکومت مخالف مشترکہ تحریک کیسے جنم لے گی؟ اسکا ایجنڈا وسیع ہو گا یا فقط عمران خان کی رہائی تک محدود؟ ان معاملات پر سنجیدہ بحث تاحال جگہ نہیں لے سکی۔ حال ہی میں ایک اجلاس میں مولانا فضل الرحمن نے یہ سوال اُٹھایا کہ اتحاد میں کوئی اختلاف نہیں تاہم اُن کے ’تحفظات‘ کون دور کرے گا اور ضمانت کیا ہو گی؟ مولانا فضل الرحمن قائد ہوں گے یا خان صاحب اُن پر بھروسہ نہیں کریں گے؟
یاد رہے کہ پی ڈی ایم نے مولانا کو اپنی تحریک کا سربراہ بنایا تھا، دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب بھی ایسا ہو گا یا فقط انہیں لوگوں کا ہجوم اکٹھا کر عمران کی رہائی کے لیے استعمال کیا جائے گا اور پھر دوبارہ انہیں ڈیزل کا خطاب دے دیا جائے گا۔ سوالنیہ بھی ہے کہ کیا خیبر پختونخوا میں مولانا کے ساتھ پی ٹی آئی کا انتخابی اتحاد ہو گا یا نہیں اور کیا انہیں پچھلے الیکشن میں ان سے چھینے گے اضلاع واپس کیے جائیں گے؟ سوال یہ بھی یے کہ خیبر پختونخوا میں علی امین گنڈا پور کی موجودگی میں علاقائی اور نظریاتی اختلاف پسِ پُشت ڈال کر آگے کیسے بڑھا جائے گا۔
عاصمہ کا کہنا یے کہ اپوزیشن جماعتیں اتحاد بنانے سے قبل اب تک طے نہیں کر پائیں کہ حکومت کے خلاف کوئی ممکنہ تحریک چلنے کی صورت میں بات چیت کس سے ہو گی، فوجی قیادت سے یا پھر سیاسی رہنماؤں سے؟ یہاں عدالت، صحافت اور سیاسی جماعتیں سب ہی منقسم ہیں، گویا معاشرے کی نظریاتی تقسیم کا اہتمام ہو چکا ہے، ایسے میں کون ہو گا جو آئین اور جمہوریت کے لیے سب کو ایک جگہ متحد کرے ورنہ یہ سمجھ لیا جائے گا کہ اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا۔
