بجلی کے بل میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج ایک فراڈ

ایک تو پاکستانی عوام آئے روز بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہیں لیکن دوسری جانب رہی سہی کسر بجلی کے بلوں میں شامل کیے جانے والے غیرقانون فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج سے پوری کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ ہر مہینے پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی صارفین کو بلون میں ہزاروں روپے کا ٹیکا لگایا جا رہا ہے جو مجموعی طور پر کئی ارب روپے بن جاتے ہیں۔

عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے حال ہی میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگی رکن اختیار ولی نے ’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی جسے ایوان میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہونے کے باوجود متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں موقف اپنایا گیا کہ وفاقی حکومت بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارچ طویل عرصے سے وصول کر رہی ہے جو عوام کے ساتھ ظلم ہے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ بجلی کی پیدوار خیبر پختونخوا میں ہونے کے باوجود یہاں کے عوام سے بھی سرچارج لیا جا رہا ہے اور بجلی کی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسمنٹ 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی بھی ہے۔

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر عوامی ردعمل بھی آ رہا ہے، انہیں شکایت ہے کہ بجلی کا اصل بل کم اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج زیادہ ہے، سوشل میڈیا پر بھی یہ مسئلہ زیر بحث ہے۔ پشاور کے رہائشی محمد انور نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر میں ایک ایئر کنڈیشنر ہے اور گذشتہ سال اگست میں اوریجنل بل چھ ہزار روپے تھا لیکن فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج لگا کر ان کا بل 9 ہزار روپے تک پہنچ گیا، انکا کہنا تھا کہ ہمیں آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج کس مد میں وصول کیا جاتا ہے؟

ذیادتی یہ ہے کہ وہ گھریلو صارفین جن کا ماہانہ بل ایک ہزار روپے سے کم ہوتا ہے، یہ سرچارج ان سے بھی لیا جاتا ہے، ٹوئٹر پر بلال درانی نامی صارف نے بجلی کا ایک بل شیئر کیا جہاں اصل بل 929 روپے ہے لیکن اس میں 2721 روپے ملا کر مجموعی بل 3 ہزار روپے سے زائد تک پہنچ گیا۔ دسمبر میں بجلی کے قیمتوں پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔

بلاول کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں سالانہ اضافے کے بعد فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی مزید مہنگی کرنا عوام کا معاشی قتل ہے، نیپرا کی جانب سے دسمبر میں جاری شدہ پریس ریلیز کے مطابق بجلی کے قیمتوں میں 4 روپے فی یونٹ اضافے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس اضافے کی وجہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ہے جس میں عوام سے 60 ارب روپے سے زائد وصول کیے جائیں گے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج’ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن، اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک ایکٹ 1997‘ کے تحت لیا جاتا ہے، اس قانون کی شق نمبر 31، ذیلی شق چار کے مطابق تمام بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق ہر ماہ کے سات دن تک بلوں میں قیمتیں ایڈجسٹ کریں، اسی شق کے مطابق تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وفاقی حکومت کو یہ سرچارج ادا کریں گی۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی سفارش کر دی

صارفین سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج یونٹ کے حساب سے لیا جاتا ہے، مثال کے طور پر بجلی صارف نے دسمبر میں 100 یونٹس استعمال کیے اور بل ایک ہزار روپے آیا لیکن دسمبر میں ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تو ڈسٹری بیوشن کمنپی اسی اضافے کے مطابق فی یونٹ کے حساب سے اس تبدیلی کو ایڈجسٹ کرے گی۔ اب وہی صارف جس کا بل دسمبر میں ایک ہزار تھا اور جنوری میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا ریٹ فی یونٹ ایک روپے بڑھا، تو یہی اضافہ ان سے جنوری کے بل میں وصول کیا جائے گا، فیول پرائس ایڈجسمنٹ سرچارج کی مد میں فی یونٹ اضافے کا تعین نیپرا کرتا ہے اور اسی حساب سے متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو بذریعہ نوٹیفیکیشن آگاہ کیا جاتا ہے۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اگر تیل کے قیمتوں میں اضافہ ہو جائے، تب تو یقیناً یہ سرچارج زیادہ ہوتا ہے لیکن اگر قیمتیں کم ہوں تو اسی حساب سے صارفین کے بلوں میں سے منہا بھی کیا جاتا ہے، یہ سرچارج وفاقی حکومت طے کرتی ہے اور ڈسٹری بیوشن کمپینوں کو صرف بتایا جاتا ہے کہ اس حساب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے تحت بل بنایا جائے، اس کے علاوہ ڈسٹری بیوشن کمپینوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

Back to top button