مراد اور فیصل حلف لیکر گرفتار ہوں گے یا نا اہلی کا انتظار کریں گے؟

فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث پی ٹی آئی رہنما مراد سعید اور فیصل جاوید کے سینیٹر بن جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا دونوں نو منتخب سینیٹرز حلف لینے کے چکر میں گرفتاری کا رسک لیں گے یا اپنے ڈی سیٹ ہونے کا انتظار کرینگے؟
یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ کا حلف تین ماہ میں نہ اٹھانے والا ڈی سیٹ ہو گا، رانا ثناء اللہ کے مطابق یہ قانون خود تحریک انصاف نے اسحاق ڈار کے لیے بنایا تھا، اب خود اس کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ مراد سعید ہوں یا کوئی اور، قانون سب پر لاگو ہو گا
تاہم، آئینی ماہرین اس دعوے سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ آئینی ماہرین کاکہنا ہے تحریک انصاف کے دور حکومت میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ڈی سیٹ کرنے کے لئے آرڈیننس لایاگیا،الیکشن ایکٹ2017کی شق72میں ترمیم کی گئی اور منتخب رکن کو پابند کیاگیا تھا کہ وہ 60 روز میں حلف لے ورنہ ان کی نشست خالی قرار دی جائے گی تاہم قانونی جنگ اور سیاسی دباؤ کے باعث آرڈیننس کو باقاعدہ قانون میں نہیں بدلا جاسکا تھا۔قانونی ماہرین کے مطابق فی الحال سینیٹر کے حلف نہ اٹھانے کی صورت میں ایسی کوئی موثر قانونی شق موجود نہیں ہے جو ازخود ڈی سیٹ کرنے کا اختیار دے۔ تاہم آئین کے آرٹیکل64ٹو کے تحت کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو جومسلسل 40 نشستوں میں غیر حاضر رہے بذریعہ تحریک اس کی نشست کو خالی قرار دیا جاسکتا ہے ، مگر اس شرط کے لاگو ہونے کے لیے پہلے حلف اٹھانا ضروری ہے۔ اس لئے اگر نومنتخب سینیٹر مراد سعید اپنے عہدے کا حلف نہیں لیتے تو قانونی سقم کے باعث وہ اپنی نشست برقرار رکھ سکیں گے ، ان پر ڈی سیٹ کیلئے کوئی قانون لاگو نہیں ہوگا۔
آئینی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ”الیکشن ایکٹ کی شق 72 میں جو ترمیم کی کوشش کی گئی تھی، وہ صرف آرڈیننس کی حد تک محدود رہی۔ اس لیے حلف نہ لینے والے سینیٹر کو ڈی سیٹ کرنے کا کوئی مؤثر طریقہ کار فی الحال موجود نہیں۔”آئین کا آرٹیکل 64(2) یہ ضرور کہتا ہے کہ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ چالیس مسلسل اجلاسوں میں بغیر اجازت غیر حاضر رہے، تو ایک قرارداد کے ذریعے اسے ڈی سیٹ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس شق کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب کوئی رکن پہلے حلف اٹھا چکا ہو۔ آئینی ماہرین کے بقول "یہ ایک آئینی خلا ہے۔ جب تک رکن حلف نہیں لیتا، اس پر آئینی آرٹیکل لاگو ہی نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے سینیٹ میں ’غیرحلف یافتہ سینیٹر‘ کا تصور آئینی نظام میں موجود ہے، چاہے وہ عملی طور پر غیر فعال ہو۔”قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس دو آپشنز موجود ہیں ایک تو وہ نیا آرڈیننس لا کر حلف نہ لینے والے سینیٹرز کے خلاف واضح قانون سازی کر سکتی ہے دوسرا پارلیمنٹ میں بل لا کر الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 72 میں مؤثر ترمیم بھی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی اگر چاہے تو عدالت سے رجوع کر سکتی ہے تاکہ اپنے سینیٹرز کو حلف دلوانے کے لیے قانونی ضمانت حاصل کرے۔ مگر اس کا دارومدار اس پر ہو گا کہ پارٹی موجودہ سیاسی تناؤ میں عدالت سے رجوع کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔
9 مئی کے ملزمان کو سزائیں: فیض حمید کو سزا بھی سنانے کا امکا
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اگر وہ مراد سعید اور فیصل جاوید کو حلف لینے کے لیے سینیٹ میں پیش ہونے کا مشورہ دیتی ہے تو دونوں کی گرفتاری یقینی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے، تو سیاسی مخالفین انہیں "مفرور” قرار دے کر اخلاقی دباؤ بڑھائیں گے۔
سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق” سینیٹ میں ایک علامتی لڑائی لڑی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اپنے گرفتار یا روپوش رہنماؤں کو سینیٹ میں منتخب کروا کر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ سیاسی طور پر زندہ ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کیلئے اس کا عملی طور پر فائدہ کم اور قانونی مشکلات زیادہ ہو سکتی ہیں۔”اسی حوالے سے سینئر صحافی نصرت جاوید کا کہنا ہے”پی ٹی آئی کو عدالت یا سینیٹ میں پیش ہو کر قانونی تحفظ حاصل کرنا چاہیے، ورنہ یہ سینیٹ کی نشستیں صرف علامتی حیثیت رکھیں گی، جن کا ایوان میں کوئی عملی فائدہ نہیں ہو گا۔” بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق مراد سعید اور فیصل جاوید کی صورتحال صرف دو افراد کا کیس نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تر آئینی اور قانونی خلا کی نشان دہی کرتی ہے۔ حلف نہ لینے والے ارکان کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے، تاکہ سیاسی جماعتیں سینیٹ جیسے معتبر ادارے کو علامتی جنگوں کا میدان نہ بنائیں۔
