کیا ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے؟

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات نے نہ صرف ایک خطرناک عالمی جنگ کو ٹال دیا ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سفارتکاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جس سے اس کی حیثیت اور مرتبے میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اگر مذاکرات نہ ہوتے تو خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا تھا، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے۔ تاہم پاکستان کی بروقت سفارتی مداخلت نے نہ صرف جنگ بندی ممکن بنائی بلکہ دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر بھی لے آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد کی اس کامیاب سفارتکاری نے اسے بین الاقوامی سیاست میں ایک مرکزی کھلاڑی بنا دیا ہے۔ اب پاکستان کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا، اور بڑی طاقتیں بھی اسے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوں گی۔ انکا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات پاکستان کی عالمی حیثیت میں بڑی تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہو رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید واضح ہوں گے۔
دوسری جانب تقریباً چالیس دن تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد جب امریکی اور ایرانی وفود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مذاکرات ایک نازک جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور ایک وسیع تر امن معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ عمل آسان نہیں ہوگا، تاہم اس کا آغاز ہی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس بات چیت کا محور دو متضاد تجاویز ہیں۔ ایران نے دس نکاتی فریم ورک پیش کیا ہے جبکہ امریکہ پندرہ نکاتی منصوبہ لے کر آیا ہے۔ دونوں فریقین نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن دونوں کے مابین اختلافات بدستور نمایاں ہیں، جو اس عمل کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ ایران کا نیوکلئیر پروگرام ہے۔ امریکہ سخت نگرانی اور یورینیم افزودگی پر پابندیوں کا خواہاں ہے، جبکہ ایران اپنے پرامن جوہری حق کو تسلیم کروانے پر اصرار کر رہا ہے۔ تہران کے نزدیک یہ معاملہ قومی خودمختاری سے جڑا ہوا ہے، جس پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں بھی ایک بڑا تنازع ہیں۔ ایران فوری اور مکمل پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکہ مرحلہ وار نرمی اپنانے کے حق میں ہے، جو ایران کی جانب سے عملی اقدامات سے مشروط ہوگی۔ اس اختلاف نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کی سٹریٹجک اہمیت بھی زیر بحث ہے۔ ایران اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنے حق کو تسلیم کروانا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اسے مکمل طور پر کھلی بین الاقوامی راہداری کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز ہی وہ مقام ہے جہاں سے تیل کی بین الاقوامی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس مسئلے کی حساسیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ علاقائی اثر و رسوخ کا معاملہ بھی مذاکرات میں شامل ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کروانا چاہتا ہے، جبکہ ایران ان گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے خلیجی ریاستوں سے امریکی افواج کے انخلا کی ضمانت بھی طلب کی ہے۔
ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ایک اور اہم تنازع ہے۔ امریکہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنے دفاع کا بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی ایران کے مطالبات میں شامل ہے اسی لیے اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان تمام پیچیدہ معاملات کے باوجود، پاکستان نے بطور میزبان اور سہولت کار ایک انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے لیے اہم ترین کامیابی یہ ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی حکومت نے پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے دونوں ممالک کو مذاکرات پر آمادہ کیا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان نے اس عمل میں صرف سہولت کار ہی نہیں بلکہ ایک مؤثر رابطہ کار کا کردار بھی ادا کیا، جس نے دونوں فریقین کو فیس سیونگ فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں نے اسلام آباد کو ایک قابل اعتماد پلیٹ فارم کے طور پر قبول کیا۔
پاکستان نے سیز فائر توڑنے کی اسرائیلی سازش کیسے ناکام بنائی؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکیہ، مصر اور دیگر ممالک کی مشترکہ کوششوں سے دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن ہوئی، تاہم اسلام آباد نے اسے عملی شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز کر دیا۔ اسکے علاوہ لبنان پر اسرائیل کے حملے بھی اس پورے عمل پر اثر انداز ہو رہے تھے، چنانچہ پاکستان نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے دوبارہ صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور لبنان پر اسرائیلی حملے رکوا دیے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس بحران کے دوران نہ صرف ایک ممکنہ عالمی جنگ کو ٹالنے میں کردار ادا کیا بلکہ اپنی سٹریٹجک اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ عالمی سطح پر اب اسے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پیچیدہ تنازعات میں ثالثی اور سفارتکاری کی صلاحیت رکھتا ہے۔
