اسرائیل کو مغربی کنارے کو ضم کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے ، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کو ضم کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ انہوں نے اسرائیلی دائیں بازو کے کچھ سیاست دانوں کی جانب سے مغربی کنارے پر مکمل اسرائیلی خودمختاری کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: "اب بہت ہو چکا ہے، یہ سلسلہ رکنا ہوگا۔”

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: "میں یہ ہونے نہیں دوں گا، بالکل نہیں۔ اسرائیل کو مغربی کنارے کو ضم کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔” قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے بھی ان کے ان بیانات کی تصدیق کی ہے۔

جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ آیا انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اس بارے میں گفتگو کی ہے، تو صدر ٹرمپ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا، لیکن اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا: "چاہے بات کی ہو یا نہ کی ہو، میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔”

اگرچہ ٹرمپ نے انضمام کو روکنے کے لیے کسی مخصوص حکمتِ عملی کی وضاحت نہیں کی، لیکن ان کے غیر متوقع طرزِ سیاست کے پیشِ نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو اقوام متحدہ میں خطاب کے لیے نیویارک پہنچے ہیں۔ ان کے دفتر کے مطابق، وہ وطن واپسی کے بعد ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کر لیا ہے، جسے دو ریاستی حل کے امکانات کو زندہ رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے ان اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کا سلسلہ 1967 کی جنگ کے بعد سے جاری ہے۔ ان بستیوں نے فلسطینی علاقوں کو تقسیم کر کے ایک ایسا انفرا اسٹرکچر کھڑا کر دیا ہے جو متنازعہ منصوبے E1 پروجیکٹ کے ذریعے مشرقی بیت المقدس کو مغربی کنارے سے کاٹ دیتا ہے۔ فلسطینی اسی علاقے کو مستقبل میں اپنی ریاست کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

دریں اثنا، اسرائیل کے وزیر خزانہ اور انتہائی دائیں بازو کے رہنما بیزلیل سموتریچ نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی ریاست کا تصور اب ختم ہو چکا ہے۔ عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے بھی امریکی صدر کو خبردار کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے کسی بھی ممکنہ انضمام کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ان خطرات کا بھرپور ادراک ہے۔

مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں اس وقت تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار 27 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان رہ رہے ہیں۔ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس کو یکطرفہ طور پر ضم کر رکھا ہے، جسے عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ آبادکاریاں غیر قانونی ہیں، تاہم اسرائیل انہیں مذہبی، تاریخی اور سیکیورٹی بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے۔

Back to top button