ریاست مخالف عناصر سے آئین سے باہر بات نہیں ہوگی : وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ حکومت سے ناراض نوجوانوں کے تحفظات دور کرکے انہیں گلے لگایا جائے گا، لیکن ریاست مخالف کارروائیاں کرنے والوں سے آئین کے دائرے سے باہر بات چیت ممکن نہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کےلیے ماضی کی حقیقتوں کو جاننا ضروری ہے، جب کہ بلوچستان سے متعلق دیگر علاقوں میں پایا جانے والا عمومی تصور حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان میں شورش کی بنیادی وجہ غیر متوازن ترقی یا بیروزگاری نہیں بلکہ دیگر عوامل ہیں۔ ناراض نوجوانوں کے شکوے سن کر ان کا ازالہ کیا جائے گا، تاہم جو عناصر ریاست کے خلاف سرگرم ہیں، ان سے آئینی دائرے میں ہی بات ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں امن و امان کےلیے صوبائی ایکشن پلان تیار کرلیا گیا ہے، اور سکیورٹی فورسز گرے زونز میں بھرپور آپریشنز کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ دوست اور دشمن میں فرق کرنا مشکل ہوچکا ہے، لیکن دہشت گردوں کو ایک انچ زمین پر بھی مستقل قبضہ کرنے نہیں دیا جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر جامع قانون سازی ہوچکی ہے، اور بلوچ قوم کو ایک بےمقصد جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ گورننس اور سروس ڈلیوری کے نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں، جب کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں 99 فیصد بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔ طلبہ کو قومی اور بین الاقوامی سکالر شپس دی جا رہی ہیں۔

عام عوام پر ٹیکس بوجھ میں کمی حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیراعظم

انہوں نے ڈیگاری میں مرد و خاتون کے بہیمانہ قتل کا ذکر کرتےہوئے کہاکہ تحقیقات جاری ہیں، لیکن مقتولین کے ورثا میں سے کسی نے بھی ایف آئی آر کے اندراج کےلیے رجوع نہیں کیا، اس لیے مقدمے کی مدعی ریاست ہے۔

Back to top button