کیا پاکستان امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کروا پائے گا؟

پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکہ بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبروں نے خطے کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، تاہم دونوں اطراف سے متضاد بیانات، خفیہ رابطوں اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے صورتحال کو غیر معمولی حد تک پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات میں پیش رفت کے دعوؤں کے ساتھ ایرانی انرجی تنصیبات پر حملے مؤخر کر دئیے ہیں وہیں دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ایک نئی سفارتی چال اورمحض عالمی منڈیوں کو پرسکون کرنے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی ثالثی میں امریکہ ایران مذاکرات سے جنگ بندی ممکن ہے یا یہ محاذ آرائی آنے والے دنوں میں شدت اختیار کرنے والی ہے؟
مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق جاری سفارتی سرگرمیاں بظاہر امید کی ایک کرن ضرور ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک پیچیدہ اور غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں اور ایرانی قیادت کی تردید کے درمیان واضح تضاد اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے، جس کے باعث فوری کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک پاکستان سمیت علاقائی ممالک کی ثالثی کوششیں اہم ضرور ہیں، لیکن جب تک دونوں فریق سنجیدہ اور براہِ راست مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے، کشیدگی میں حقیقی کمی ناممکن ہے جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اور سخت بیانات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صورتحال کسی بھی وقت مزید بگڑ سکتی ہے، جس سے خطے کے امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق ایران امریکہ مذاکرات میں حالیہ پیش رفت میں سب سے اہم پہلو پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار ہے، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی قیادت کے درمیان رابطوں کی اطلاعات نے سفارتی سرگرمیوں کو نئی جہت دے دی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد خود کو ایک ممکنہ مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو نہ صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے بلکہ بیک چینل سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں بھی شامل ہے۔ ادھر خطے کے دیگر اہم ممالک، خصوصاً مصر اور ترکی، بھی اس سفارتی عمل میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کا معاملہ محض دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا حصہ بن چکا ہے۔ تاہم اس تمام سرگرمی کے باوجود اصل سوال بدستور قائم ہے کہ کیا واقعی امریکہ اور ایران کے مابین کوئی بامعنی مذاکرات ہو رہے ہیں یا یہ سب سفارتی دباؤ اور تاثر سازی کا حصہ ہے؟
امریکی حکام کے مطابق ایران سے اعلیٰ سطح پر رابطے جاری ہیں اور کئی نکات پر اتفاق رائے بھی ہو چکا ہے، لیکن ایرانی قیادت اس دعوے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ تہران کے مطابق نہ تو ایران کے امریکہ کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات ہوئے ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی پیش رفت ہوئی ہے جسے باضابطہ سفارتی کامیابی کہا جا سکے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی میں بھی مذاکرات کے نام پر دباؤ بڑھایا گیا، جس کے بعد عسکری کارروائیاں دیکھنے میں آئیں، اس لیے اس بار بھی اعتماد کا فقدان واضح ہے۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ صورتحال محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں۔ میزائل حملوں، دھمکیوں اور جوابی بیانات نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جہاں کسی بھی غلط اندازے کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اگرچہ بعض مواقع پر حملوں میں عارضی وقفے یا نرم بیانات سامنے آئے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اقدامات مستقل امن کی طرف قدم ہیں یا محض وقتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی بازگشت کے دوران ایک اور پیچیدہ سوال یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ ایران کے اندر فیصلہ سازی کی اصل طاقت کس کے پاس ہے اور مذاکرات کی صورت میں حقیقی نمائندگی کون کرے گا۔ مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے سفارتی عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے واضح اور مستحکم قیادت ناگزیر ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں دونوں فریق بیک وقت دباؤ اور لچک کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ امریکا عسکری برتری کے ذریعے دباؤ بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنی مزاحمتی صلاحیت دکھا کر برابری کی پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان، ترکی اور مصر کی جانب سے ثالثی کی کوششیں ضرور جاری ہیں، مگر کسی حتمی پیش رفت کے آثار فی الحال دھندلے دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات ایک امید بھی ہیں اور ایک ابہام بھی۔ بظاہر سفارتکاری کے دروازے کھلے ہیں، مگر زمینی حقائق اور باہمی عدم اعتماد اس راستے کو کٹھن بنا رہے ہیں۔ تاہم آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ پاکستان دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں اور آیا یہ رابطے واقعی کشیدگی کے خاتمے کی طرف لے جاتے ہیں یا ایک نئی محاذ آرائی کی بنیاد بنتے ہیں تاہم تردیدی بیانات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا میہ کوششیں کسی بامعنی مذاکرات یا پیش رفت کی شکل اختیار کر سکیں گی یا نہیں۔
