کیا امریکی خوشنودی کے لیے پاکستان 18 ارب ڈالرز جرمانہ دے پائے گا ؟

معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر اب آر یا پار والا معاملہ ہے، اگر ہمارے فیصلہ ساز اب بھی امریکہ سے ڈرتے رہے اور یہ منصوبہ مکمل نہ کیا تو اس کی پاداش میں پاکستان کو 18 ارب ڈالرز کا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ جائے گا۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کو تو ایک ارب ڈالرز کے قرضے کے لیے آئی ایم ایف کے ترلے کرنا پڑتے ہیں، ایسے میں کیا 18 ارب ڈالز کا جرمانہ امریکا ادا کرے گا؟
حامد میر روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ حکومت مسلسل پٹرول اور گیس مہنگی کر کے عوام سے گالیاں سنتی ہے۔ کیا ایران سے سستی گیس، سستا پٹرول اور سستی بجلی خرید کر عوام کو ریلیف نہیں دی سکتی؟ جہاں تک اسے امریکی پابندیوں کا خوف ہے تو پھر فیصلہ کر لیا جائے کہ ہم نے اپنی خودی کو بلند کرنا ہے یا 18 ارب ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنا ہے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی گیس کے ذخائر روس، ایران اور قطر کے پاس ہیں۔ تیل کے سب سے بڑے ذخائر ونیزویلا، سعودی عرب اور کینیڈا کے پاس ہے۔ چوتھے نمبر پر ایران اور پانچویں نمبر پر عراق ہے۔ پاکستان کا ہمسایہ ملک ایران گیس اور تیل کی دولت سے مالا مال ہے، دونوں ممالک کے درمیان 900 کلو میٹر لمبا بارڈر ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے گیس اور تیل کی قلت کا شکار ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود گیس اور تیل کی قلت پاکستانی معیشت کی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1995 میں ایران سے سستی گیس خریدنے کے ایک منصوبے پر بات چیت شروع کی اور ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ شروع کرنے کی ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے۔ 1996 میں انکی حکومت کو برطرف کر دیا گیا اور یہ منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ 2008 میں آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو اس منصوبے کو فائلوں سے کالا گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک طرف ایران سے سستی گیس اور تیل خریدنے کا فیصلہ کیا، دوسری طرف امریکا کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دی کیونکہ ایران کے ساتھ لین دین کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ امریکی پابندیاں تھیں۔ کچھ ہی عرصے میں صدر آصف زرداری کو احساس ہوا کہ ایران سے گیس خریدنے پرصرف امریکا نہیں بلکہ سعودی عرب کو بھی تحفظات ہیں۔ پاکستان کسی بھی صورت سعودی عرب کو ناراض نہیں کر سکتا تھا لہٰذا صدر آصف زرداری نے چین کی تائید سے ایران اورسعودی عرب میں مفاہمت کیلئےکوششوں کاآغاز کیا، جون 2011 میں صدر زرداری ایران گئے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کیساتھ ایک طویل اورون ٹو ون ملاقات کی۔ ایک ماہ کے اندر اندر جولائی 2011 میں صدر زرداری نے ایران کا ایک اور دورہ کیا اور خامنہ ای کے ساتھ پھر طویل ملاقات کی۔ دوسری طرف چین نے سعودی عرب سے بیک ڈور ڈیلومیسی شروع کی جسکے بعد ایران اور سعودی عرب میں ڈیڈ لاک ختم ہو گیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 2013 میں صدر زرداری نے ایرانی صدراحمدی نژاد کے ہمراہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا ۔ کچھ عرصے کے بعد نواز شریف وزیرا عظم بن گئے اور زرداری صاحب کی پہلی ٹرم ختم ہو گئی۔ جب نواز شریف پر دباو آیا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ سے نکل آئیں تو انہوں نے اس پراجیکٹ پر خاموشی اختیار کرلی اور قطر سے گیس خریدنی شروع کر دی۔ 2018 میں عمران خان وزیر اعظم بنے تو انہیں بھی مشورہ دیا گیا کہ ایران سے تجارت کا خیال دل سے نکال دیں۔
حامد میر کے بقول سوچنے کی بات یہ ہے کہ 2009 کے بعد پاکستان کی ہر سیاسی حکومت کو ایران سے گیس خریدنے سے منع کیا گیا لیکن کسی حکومت نے یہ منصوبہ ختم نہیں کیا۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ جب کوئی پاکستانی حکومت گیس اور تیل مہنگا کرتی ہے تو عوام اُسے بد دعائیں دیتے ہیں۔ لہذا سیاسی حکومتیں محض امریکا کی خوشنودی کیلئے ایسا منصوبہ ختم نہیں کر سکتیں جس سے پاکستان عوام کو فائدہ ہو۔دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور ایران نے جب گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا آغاز کیا تو اس میں کسی تنازعے کی ثالثی کیلئے فرنچ لاء کے تحت قائم ایک عالمی عدالت کو ثالث بنایا گیا۔ پاکستان اس معاہدے سے نکل جاتا تو اسے کم از کم 18 ارب ڈالرز بطور جرمانہ ادا کرنے پڑتے۔ اس معاہدے پر اتفاق رائے 1995 میں ہوا جبکہ اسبکا باقاعدہ آغاز 2009 میں ہوا۔ اس منصوبے کا افتتاح 2013 میں ہوا۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو معاہدے کے مطابق 2024 میں اس منصوبے کو ہر صورت مکمل کرنا تھا۔ 2022 میں شہباز شریف وزیر اعظم بنے تو ملک بدتر ین معاشی بحران کا شکار تھا اور ڈیفالٹ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا۔ پاکستان کبھی چین اور کبھی سعودی عرب سے قرض لیکر ڈیفالٹ سے بچ رہا تھا ۔آئی ایم ایف سے معاہدے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اس صورتحال میں امریکا کو ناراض کرنا ممکن نہ تھا لہٰذا پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر خاموشی اختیار کی گئی۔ لیکن مارچ 2023 میں ایک بڑا بریک تھرو ہو گیا۔ ایران اور سعودی عرب میں مفاہمت کی کوششیں کامیاب ہو گئیں اور چین نے دونوں ممالک میں صلح کروا دی۔ کسی کو یاد نہ تھا کہ ایران اور سعودی عرب میں دوستانہ تعلقات کی بحالی کیلئے کوششوں کا آغاز کب اور کس نے کن مقاصد کیلئے کیا تھا۔ بہرحال بیجنگ میں ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کے فوری بعد مئی 2023 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران سے سستی بجلی خریدنے کے ایک معاہدے پر دستخط کر دئیے۔
حامد میر کے مطابق خیال تھا کہ اب ایران سے گیس کی خرید کے پراجیکٹ کو بھی مکمل کرلیا جائے گا، لیکن امریکا نے صاف صاف بتا دیا کہ ایران سے گیس خریدنے کا مطلب پاکستان پر امریکی اکنامک پابندیوں کا آغاز ہوگا۔ پاکستان نے امریکی دھمکیوں کے باعث اس منصوبے کو پھر التواء کا شکار کر دیا لیکن دوسری طرف ایران کی حکومت بے چین ہو رہی تھی کیونکہ معاہدے کے مطابق ایران اپنے حصے کی پائپ لائن بچھا چکا تھا اور اب باقی کام پاکستان نے کرنا تھا۔ ایران نے پاکستان کو بتا دیا تھا کہ اگر مارچ 2024 تک وہ اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کرتا تو پھر ایران پاکستان کو لیگل نوٹس دینے پر مجبور ہو جائے گا کیونکہ اگر ایران مارچ تک لیگل نوٹس نہ دیتا تو ستمبر 2024 کے بعد اُسے نوٹس دینے کا اختیار بھی نہ رہتا۔
چنانچہ ایران نے پاکستان کو لیگل نوٹس دیدیا جسکے بعد امریکی اور بھارتی میڈیا میں دھوم مچ گئی کہ اب پاکستان کو 18 ارب ڈالرز ایران کو ادا کرنا پڑیں گے، نوٹس ملنے کے بعد پاکستان نے فرنچ عدالت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کی تیاری شروع کردی لیکن اس دوران اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔ خلاف توقع پاکستان اور سعودی عرب نے ایران کی بھرپور سفارتی حمائت کی۔ طویل عرصے کے بعد پاکستان اور ایران کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہو گئی۔ چند دن قبل آذربائیجان میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شہباز شریف کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہمیں گیس پائپ لائن پراجیکٹ کے معاملے پر مزید قانونی کارروائی سے روک دیا ہے اور بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے کی ہدائت کی ہے۔ شہباز شریف نے فوری طور پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی جو یہ معاملہ جلد از جلد طے کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ معاملہ بات چیت سے طے نہیں ہوتا تو معاہدے کے مطابق معاملہ پھر سے فرنچ عدالت میں جائے گا اور اگر فیصلہ پاکستان کے خلاف آگیا تو وہ 18 ارب ڈالرز کا جرمانہ کیسے ادا کرے گا؟
حامد میر کے بقول حکومت ہر دوسرے تیسرے مہینے کبھی پٹرول اور کبھی گیس مہنگی کر کے عوام سے گالیاں سنتی ہے۔ کیا ایران سے سستی گیس، سستا پٹرول اور سستی بجلی خرید کر عوام کو ریلیف نہیں دی سکتی؟ جہاں تک امریکا کی پابندیوں کا خطرہ ہے تو پھر فیصلہ کرلیں کہ اپنی خودی کو بلند کرنا ہے یا 18 ارب ڈالرز ادا کرنا ہے۔
