کیا پاکستان بنگلہ دیش کے لیے ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرے گا؟

اگر اس وقت پاکستان نے بنگلہ دیش کا ساتھ دیتے ہوئے بھارت کی میزبانی میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہ کیا تو بھارتی حلقے بنگالی عوام کا مذاق اڑائیں گے کہ جن کے پیچھے لگ کر تم قربانی دے رہے تھے، ان کے لیے کرکٹ اور ڈالرز تم سے زیادہ اہم نکلے۔ آج کا بنگالی نوجوان جذبات سے سوچتا ہے اور یقیناً ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شمولیت کا فیصلہ بنگلہ دیشی نوجوانوں کو سخت مایوس کرے گا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار روف کلاسرا اپنے تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کے خاتمے کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان جو نایاب سیاسی اور عوامی قربت پیدا ہوئی ہے، وہ بھارتی میزبانی میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت سے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ کلاسرا کے مطابق پاکستان اس وقت ایک غیر معمولی مشکل میں پھنس چکا ہے۔ اگلے دو سے تین دنوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی یا نہیں۔
یہ صورتحال تب پیدا ہوئی جب بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں میچ کھیلنے سے انکار کر دیا اور آئی سی سی سے کہا کہ اس کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ بنگلہ دیش کو امید تھی کہ چونکہ پاکستان کے میچز پہلے ہی سری لنکا منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے آئی سی سی ان کی درخواست بھی منظور کر لے گی، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ درخواست مسترد ہونے کے بعد بنگلہ دیش نے پورے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، جس پر عالمی کرکٹ حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جب سب جانتے ہیں کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات شدید کشیدہ ہیں تو پاکستان کی طرح بنگلہ دیش کے میچز بھی سری لنکا منتقل کرنے میں کیا رکاوٹ تھی۔
روف کلاسرا کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں بنگلہ دیشی نوجوان محض تماشائی نہیں بلکہ فیصلہ کن سیاسی قوت بن چکے ہیں۔ حسینہ واجد کے خلاف آنے والا حالیہ انقلاب دراصل نوجوانوں کی قیادت میں برپا ہوا، جس نے ایک طویل فاشسٹ دور کا خاتمہ کیا۔ یہی نوجوان آج بھارت کے کردار پر سب سے زیادہ تنقید کر رہے ہیں اور قومی خودمختاری، انصاف اور وقار کو اپنا بنیادی نعرہ بنا چکے ہیں۔ ایسے میں کرکٹ جیسے جذباتی کھیل میں پاکستان کا فیصلہ انہی نوجوانوں کے ذہنوں میں پاکستان کی تصویر ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔
روف کلاسرا کے مطابق اس وقت بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی بعض حوالوں سے پاک بھارت کشیدگی سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ حسینہ واجد کے فرار اور ان کے خلاف عدالتی فیصلوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں، اور بنگلہ دیشی عوام کی اکثریت بھارت کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی نوجوان سوشل میڈیا، تعلیمی روابط اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے غیر معمولی قریب آئے ہیں۔
پاکستانی نوجوان بنگلہ دیش کے سیاسی شعور، قربانیوں اور جمہوری جدوجہد کو سراہ رہے ہیں، جبکہ بنگلہ دیشی نوجوان پاکستان کے لیے وہ نرم گوشہ رکھتے ہیں جو برسوں سے دبایا جاتا رہا تھا۔ کرکٹ، سیاست اور تاریخ کے معاملات میں دونوں جانب کے نوجوان ایک دوسرے کو اپنا فطری اتحادی سمجھنے لگے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ فیصلہ بنگلہ دیشی نوجوانوں کے دلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
روف کلاسرا یاد دلاتے ہیں کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد پاکستانی قوم طویل عرصے تک احساسِ جرم کا شکار رہی۔ آج بھی پاکستان میں ایک بڑی تعداد یہ مانتی ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ بنگالی عوام کی نہیں بلکہ مغربی پاکستان کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ کی پالیسیوں کی ناکامی تھی۔ ان کے بقول پاکستانیوں کے دل سے کبھی بنگالیوں کی محبت ختم نہیں ہوئی، اور یہی محبت آج ایک بار پھر دونوں قوموں کو قریب لا رہی ہے۔
ICC کا بنگلا دیشی صحافیوں کو T 20 ورلڈ کپ کی کوریج سے انکار
کلاسرا کے مطابق اگر پاکستان نے اس مرحلے پر بنگلہ دیش کا ساتھ نہ دیا تو بنگالی عوام کو محسوس ہوگا کہ 54 برس بعد پاکستان نے ایک بار پھر انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ بھارتی حلقے اس موقع پر بنگالیوں کو طعنے دیں گے کہ جن کے لیے تم نعرے لگاتے ہو، ان کے لیے کرکٹ اور ڈالر تم سے زیادہ اہم ہیں۔
روف کلاسرا کہتے ہیں کہ تمام فیصلے محض عقل سے نہیں ہوتے، بعض فیصلے دل سے بھی کیے جاتے ہیں، چاہے ان کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ یا آئی سی سی سے ملنے والے تیس ملین ڈالر زیادہ اہم ہیں یا سترہ کروڑ بنگالی عوام؟ یہ فیصلہ اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان نے صرف مالی مفادات کو ترجیح دی تو بعید نہیں کہ وہ بھی بنگلہ دیشی عوام کی نظر میں اسی مقام پر کھڑا ہو جائے جہاں آج بھارت کھڑا ہے۔
