کیا پاکستان انگلینڈ میں فسادات پھیلانے والے پاکستانی کو ڈی پورٹ کرے گا؟

فیک نیوز کے ذریعے برطانیہ میں پرتشدد ہنگاموں اور فسادات کو بھڑکانے کے الزام میں لاہور سے گرفتار ملزم فرحاں آصف کا معاملہ عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے اور اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا لاہور ڈیفنس سے گرفتار ہونے والے ملزم کو برطانیہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟ قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے مابین اس حوالے سے کوئی معاہدہ تو موجود نہیں تاہم حکومت ملزم کو برطانیہ کے حوالے کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں ہنگاموں کا سلسلہ شمالی برطانوی قصبے ساؤتھ پورٹ میں 29 جولائی کو تین کمسن لڑکیوں کے قتل کے ردعمل میں شروع ہوا تھا جس کا سوشل میڈیا پر غلط طور پر الزام ایک مسلم پناہ گزین پر لگایا گیا تھا۔ان جھوٹی خبروں کے پھیلنے کے بعد برطانیہ بھر کے شہروں اور شمالی آئرلینڈ میں بھی تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ لیکن حالیہ چند روز میں بدامنی کے واقعات میں ملوث افراد کی شناخت میں تیزی آنے کے بعد ہنگاموں اور تشدد میں کمی آ گئی ہے۔
وائس آف امریکہ نے نو اگست کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں پہلی مرتبہ اس فیک نیوز اور فرحان آصف کی ویب سائٹ ‘چینل تھری ناؤ’ کا انکشاف کیا تھا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ‘چینل تھری ناؤ’ نے خود کو امریکی ویب سائٹ ظاہر کر کے خبر دی کہ ساؤتھ پورٹ حملے کا ملزم 17 سالہ مسلمان پناہ گزین علی ال شکاتی ہے۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ حالانکہ علی ال شکاتی نام کے نوجوان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی ‘چینل تھری ناؤ’ کوئی امریکی نیوز ویب سائٹ ہے۔غلط معلومات کے پھیلاؤ کی وجہ سے برطانوی پولیس نے اصل حملہ آور کی شناخت ظاہر کی تھی ملزم نہ ہی کوئی مہاجر تھااور نہ ہی مسلمان، لیکن اس کے باوجود برطانیہ میں ہنگاموں میں کمی نہیں آئی تھی۔ تاہم اب فیک نیوز پھیلانے والا ملزم فرحان آصف گرفت میں آ چکا ہے جس کے بعد عوامی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا ملزم کو برطانیہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ گو کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا باضابطہ معاہدہ موجود نہیں ہے۔ تاہم ماضی میں کچھ واقعات پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔برطانیہ میں مقیم بیرسٹر امجد ملک بتاتے ہیں کہ برطانیہ کے شہر گلاسکو میں ایک قتل ہوا تھا جس کا ملزم بعد ازاں پاکستان آ گیا تھا۔ جنہیں پاکستان سے گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا تھا۔بیرسٹر امجد ملک بتاتے ہیں کہ الیکٹرانک کرائم کے تحت قوانین بنائے ہی اِس لیے جاتے ہیں کہ کوئی بھی شخص برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان میں پرتشدد واقعات کو نہ اُبھار سکے۔ ایسے معاملات میں جتنا تعاون پاکستان کرے گا اتنا ہی تعاون برطانیہ کرے گا لگتا ہے کہ برطانوی حکومت کے مطالبے پر پاکستان ملزم فرحان آصف کو کو برطانیہ کے حوالے کر دے گا
واضح رہے کہ ملزم فرحان آصف کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزم فرحان آصف نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ ملزم نے ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر انگلینڈ میں چاقو زنی کے واقعے کی تصاویر شیئر کیں اور ویب سائٹ پر فیک آرٹیکل پبلش کیا۔۔ آرٹیکل میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ گرفتار ہونے والا مسلمان ہے اور حملہ آور کو برطانیہ میں پناہ گزین بھی بتایا گیا۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کا دعویٰ ہے کہ فرحان آصف تیسرا شخص ہے جس نے اِس خبر کو شئیر کیا۔ اُن کا کہنا تھا برطانیہ میں ہونے والے ہنگاموں کی خبر سب سے پہلے روس کی ویب سائٹ پر شیئر کی گئی۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ جب فرحان آصف نے یہ خبر شئیر کی تو یہ خبر مزید پھیلتی گئی اور وائرل ہو گئی۔ اُس کے بعد برطانوی نجی نشریاتی ادارے نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ خبر پاکستان سے نکلی ہے جب کہ ‘بی بی سی ویری فائی’ اور دیگر ذرائع نے کہا کہ پاکستانی شخص تیسرا بندہ ہے جس نے یہ خبر شئیر کی۔ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہنا تھا کہ بات جب زیادہ بڑھی تو پاکستانی شخص فرحان آصف نے اپنے چینل سے خبر کو ہٹا دیا اور معافی نامہ لکھ دیا۔ ملزم نے معافی نامے میں لکھا کہ وہ ایک فری لانسر ہے۔ اُس نے صرف اپنے لائیکس اور فالورز بڑھانے کے لیے خبر کو پھیلایا تھا کیونکہ اُسے فری لانسنگ سے ماہانہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے آمدنی ہوتی ہے۔فرحان آصف نے بتایا کہ اُسے نہیں معلوم تھا کہ معاملہ اتنا بڑھ جائے گا۔
