پاکستان ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہو گا یا نہیں؟

 

 

 

امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے تشکیل دیے جانے والے ’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کو شامل ہونے کی دعوت تو دے دی ہے لیکن اسلام آباد میں اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکی دعوت نامہ موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے۔ اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان امریکی جنرل کی سربراہی میں بننے والی مجوزہ ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا حصہ بننے کا خواہاں نہیں، کیونکہ پاکستان اس کے ممکنہ مضر اثرات سے گریز کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسی کسی کوشش میں شامل ہوگا۔

 

پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اسی صورت میں کسی ایسی فورس میں شامل ہو سکتا ہے جب اس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا نہ ہو۔ چونکہ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اس لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا پاکستان اس ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بنے گا یا نہیں، اور اگر پاکستان اس بورڈ میں شامل ہوتا ہے تو اس کے سفارتی، سیاسی اور داخلی سطح پر کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر 2025 کو امریکہ کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کی منظوری دی تھی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے کی توثیق کی گئی۔ اس منصوبے کے تحت ایک نیا عبوری ’بورڈ آف پیس‘ قائم کیا جائے گا جبکہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق یہ فورس اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ اور تصدیق شدہ فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں کی سکیورٹی سنبھالے گی اور حماس سمیت ریاست مخالف گروہوں کو غیر مسلح کرنے میں معاونت کرے گی، جس نکتے پر پاکستان سمیت بعض ممالک نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

 

صدر ٹرمپ کے دعوت نامے پر ردعمل دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں شامل رہے گا تاکہ فلسطین کے مسئلے کا دیرپا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سامنے آ سکے۔ اس بیان کی وضاحت کے لیے جب ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے تاحال اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق موجودہ ’سٹیٹس‘ یہی ہے کہ امریکی دعوت نامہ موصول ہو چکا ہے اور اس پر حتمی فیصلے کا اعلان ہونا باقی ہے۔

 

وفاقی کابینہ کے رکن اور وزیر اعظم شہباز شریف کے قریبی ساتھی مصدق ملک نے بھی بتایا کہ یہ معاملہ ابھی تک وفاقی کابینہ کے سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے دفتر خارجہ اس حوالے سے بریفنگ دے گا اور اس کے بعد مشاورت کے ذریعے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ غزہ ’بورڈ آف پیس‘ صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کا حصہ ہے، جو جنگ بندی کے بعد دوسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق ہے۔ وائٹ ہاؤس نے گزشتہ جمعے کو اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ کے مجوزہ ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور دیگر عالمی شخصیات اس بورڈ کی رکن ہوں گی۔ اسی منصوبے کے تحت غزہ میں ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے، جس پر پاکستان اور امریکی حکام کے بیانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔

 

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب مسعود خان کے مطابق بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت پاکستان کی ایک سفارتی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ان آٹھ اسلامی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے صدر ٹرمپ کو غزہ میں جنگ بندی پر آمادہ کیا، اور اسی پس منظر میں اب پاکستان کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ مسعود خان کے مطابق اس بورڈ میں اصل فیصلے امریکی صدر، ان کے وزیر خارجہ اور قریبی ٹیم ہی کرے گی جبکہ دیگر ممالک کا کردار زیادہ تر مشاورتی ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط حتمی نہیں اور امریکہ میں اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں کہ مالی شرط کو لازمی قرار نہ دیا جائے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے لیے اس بورڈ میں شامل ہونا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی کے مطابق اگر ایک ارب ڈالرز کی شرط لازمی ہوئی تو پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف کا رخ کرنا پڑ سکتا ہے۔ انکے مطابق یہ بورڈ بین الاقوامی چارٹر اور عالمی قوانین کے منافی ہے اور پاکستان کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب مسعود خان کا مؤقف ہے کہ پاکستان امریکی جنرل کی سربراہی میں بننے والی استحکام فورس کا حصہ نہیں بنے گا، کیونکہ یہ معاملہ داخلی طور پر حساس ہے اور پاکستان نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار زیادہ تر سفارتی سطح پر ہوگا اور وہ خلیجی ممالک سے قریبی مشاورت جاری رکھے گا۔

مشرقِ وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار رہے گا۔

 

ادھر سعودی عرب میں مقیم صحافی اور تجزیہ کار فہیم الحامد کا کہنا ہے کہ پاکستان غزہ میں جنگ بندی اور امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر چکا ہے اور تعمیر نو میں بھی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاہم فی الحال فورس کا حصہ بننے کا امکان کم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے فیصلے سعودی عرب، قطر اور ترکی سے مشاورت کے بعد کرے گا تاکہ خطے یا اندرونِ ملک کسی منفی ردعمل سے بچا جا سکے۔ حماس جیسے گروہوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی پاکستان اور خلیجی ممالک کے کردار کو تسلیم کریں گے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دعوت دینا اس بات کا اظہار ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو خطے کے سلامتی معاملات میں اہم سمجھتی ہے۔ تاہم ان کے بقول یہ ایک ’کیچ 22‘ صورتحال ہے کیونکہ پاکستان پر استحکام فورس میں شامل ہونے کا دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

اس برس پاکستانی ایکسپورٹ کوالٹی کا کینو کیوں کھا رہے ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھے اور دوسری طرف خود کو ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے جو دو ریاستی حل کی حامی ہے اور اسرائیل کی سلامتی شراکت دار نہیں سمجھی جاتی۔ چنانچہ پاکستانی فیصلہ ساز تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لینے کا بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

Back to top button