کیا پاکستان سیمی فائنل میں بھی انڈیا سے نہیں کھیلے گا؟

پاکستان کی جانب سے ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف اپنا گروپ میچ کھیلنے سے انکار کے بعد یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اس کا پاکستان کے ورلڈ کپ میں سفر پر کتنا اثر پڑے گا اور اگر دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچ گئیں تو کیا تب بھی پاکستان اپنے انڈیا سے نہ کھیلنے کے فیصلے پر قائم رہے گا۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے اپنی کرکٹ ٹیم پر جو پابندی لگائی ہے وہ صرف 15 فروری کے پول میچ کی حد تک ہے اور اگر دونوں حریف سیمی فائنل میں آمنے سامنے آ گئے تو پاکستان میدان خالی نہیں چھوڑے گا اور انڈیا کا مقابلہ کرے گا۔
یاد رہے کہ انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں ٹی 20 ورلڈ کپ کے ابتدائی مقابلوں کے لیے بنائے گئے چار گروپس میں سے گروپ اے میں رکھی گئی ہیں۔
ان مقابلوں کے بعد ہر گروپ سے دو ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ اگر پاکستان اور انڈیا سپر ایٹ مرحلے میں پہنچتے ہیں تو انھیں الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے یعنی یہ دونوں ٹیمیں ابتدائی مرحلے کے بعد سیمی فائنل یا فائنل میں ہی مدِ مقابل آ سکتی ہیں۔
اس وقت پاکستان کے انڈیا کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کی صورت میں دونوں ٹیموں کے پوائنٹس اور رن ریٹ پر اثرات زیرِ بحث ہیں اور سوشل میڈیا پر کرکٹ فینز ممکنہ نتائج کے منظر نامے تشکیل دے رہے ہیں۔ انڈیا کے خلاف 15 فروری کا میچ نہ کھیلنے کا نتیجہ بھارت کی فتح اور دو یقینی پوائنٹس جیتنے کی صورت میں نکلے گا، دوسری طرف پاکستان کو سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے اپنے دیگر تینوں پول میچز اچھے رن ریٹ کے ساتھ جتینے کی ضرورت ہو گی۔
اگر بات رنز بنانے کی اوسط یا رن ریٹ کی ہو تو آئی سی سی کی ’پلیئنگ کنڈیشنز‘ کی شق کے مطابق اگر ایک ٹیم کوئی میچ کھیلنے سے انکار کرے تو دستبردار ہونے والی ٹیم کا نیٹ رن ریٹ متاثر ہو گا جبکہ دوسری ٹیم کے رن ریٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یعنی انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنا ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کے رن ریٹ کو بھی متاثر کرے گا۔ یاد رہے کہ گروپ اے میں انڈیا اور پاکستان کے علاوہ امریکہ، نمیبیا اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں شامل ہیں۔ لیکن اگر پاکستان اپنے بقیہ تین پول میچز میں سے ایک بھی ہار گیا تو وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔
جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان سے پوچھا کہ کیا ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل کے دوران بھی پاکستانی ٹیم انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا، لیکن یہ فیصلہ پی سی بی نہیں بلکہ حکومت پاکستان کرے گی۔ تاہم باخبر ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے کرکٹ ٹیم پر انڈیا کیساتھ نہ کھیلنے کی پابندی صرف ایک پول میچ کی حد تک لگائی ہے اور اگر دونوں حریف سیمی فائنل میں آمنے سامنے آ گئے تو پاکستان ہر صورت انڈیا کا مقابلہ کرے گا۔
یاد رہے کہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر کھیلوں کے بائیکاٹ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھی اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ 1990‑91 میں پاکستان نے کشمیر تنازع کی وجہ سے ایشیا کپ میں شرکت نہیں کی۔ 1993 کا ایشیا کپ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات اور 1993 کے بمبئی بم دھماکوں کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔ 1996 میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا میں ہونے والے اپنے ورلڈ کپ میچز کھیلنے کے لیے سری لنکا جانے سے انکار کر دیا تھا۔ تب وہاں خانہ جنگی جاری تھی۔ نتیجتاً، دونوں ٹیمیں گروپ میچز سے دستبردار ہو گئیں اور بعد میں سری لنکا نے لاہور میں فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیت لیا۔
اسی طرح 2003 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے زمبابوے کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی حکومت کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات اور سکیورٹی خدشات بتائے گئے تھے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے زمبابوے میں سکیورٹی صورتحال پر تحفظات ظاہر کیے جانے کے بعد انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو ممکنہ خطرات کا اندیشہ تھا، جس کے باعث ٹیم نے میچ فورفیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ نے بھی کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر کینیا کا سفر نہیں کیا اور اپنا میچ نہیں کھیلا۔ ابتدا میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ دونوں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ متعلقہ میچز کو کسی تیسرے ملک، خصوصاً جنوبی افریقہ، منتقل کیا جائے گا، تاہم ایسا نہ ہو سکا اور قوانین کے تحت ان میچز کے پوائنٹس زمبابوے اور کینیا کو دے دیے گئے۔
2009 میں زمبابوے نے انگلینڈ میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں حصہ نہیں لیا تھا، کیونکہ حکومتوں کے اختلافات کی وجہ سے کھلاڑیوں کو ویزے ملنے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ زمبابوے کرکٹ کے چیئر پرسن پیٹر کے مطابق برطانیہ نے کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا چنانچہ انکی ٹیم نے ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹی20 ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ نے زمبابوے کی جگہ لی تھی۔ اب بنگلہ دیش کی جگہ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی سکاٹ لینڈ کو ہی کھلایا جا رہا ہے جس وجہ سے پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنا پول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا یے۔
2025 میں چیمپئنز ٹرافی کی صورت میں پاکستان میں 29 سال بعد پہلا آئی سی سی ٹورنامنٹ ہونے والا تھا۔ نومبر 2021 میں پاکستان کو اس کی میزبانی تصدیق مل چکی تھی، لیکن سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا انڈین ٹیم کھیلنے کے لیے پاکستان کا سفر کرے گی یا نہیں؟ وجہ یہ تھی کہ 2008 کے بمبئی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ترین تھے، تاہم پاکستان نے اس دوران 2023 کا ون ڈے ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔
لیکن جب بھارت کی باری آئی تو بتایا گیا کہ انڈیا کی ٹیم اپنے چیمپئنز ٹرافی کے میچز کھیلنے کے لیے پاکستان نہیں جائے گا، کیونکہ اسے حکومت کی جانب سے اجازت نہیں ملی۔ اس معاملے پر محسن نقوی کی جانب سے اصولی موقف اپنانے کے بعد پاکستانی اور انڈین کرکٹ بورڈز اور آئی سی سی کے مذاکرات ہوئے اور 2024 سے 2027 تک کے لیے ایک تین سالہ سمجھوتہ طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق کسی بھی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں، جو انڈیا یا پاکستان میں منعقد ہو گا، دوسرے ملک کے میچز نیوٹرل وینیو پر منعقد ہوں گے۔ نتیجتاً، 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میں انڈیا کے تمام میچز دبئی میں کھیلے گئے تھے۔
اسی دوران پاکستان نے خواتین کے ورلڈ کپ میں اپنے میچز نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا فیصلہ کیا تاکہ سکیورٹی اور سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انڈیا نے دبئی میں اپنا بیس بنایا جبکہ پاکستان نے تمام میچز کولمبو میں کھیلے۔
2026 میں جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے کھلاڑی مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کھیلنے سے روک دیا تو بنگلہ دیش نے بھارت جا کر ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے لیے نیوٹرل وینیو مانگا جیسے کہ پاکستان کو دیا گیا تھا۔ تاہم ایسا کرنے کی بجائے آئی سی سی کے بھارتی سربراہ جے شاہ نے بنگلہ دیش کو فارغ کرتے ہوئے اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کر لیا۔ ایسے میں صرف پاکستان کرکٹ بورڈ ہی بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہوا۔
انڈیا کیساتھ کھیلنے سے انکار: پاکستان نے ICC کو ہلا کر رکھ دیا
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ آئی سی سی چیئرمین جے شاہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں اور پاکستانی وزیر داخلہ محس نقوی کرکٹ بورڈ کے چئیرمین بھی ہیں۔ ماضی میں اگر کسی ٹیم کو کسی ملک میں کھیلنے پر اعتراض ہوتا تھس تو وہ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر کے پوائنٹس سے دستبردار ہو جاتی تھی۔ تاہم اب کرکٹ کا کھیل اربوں ڈالرز کی صنعت بن چکا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں ایکدوسرے کے ملکوں میں نہ بھی جائیں تو نیوٹرل وینیو پر میچ ضرور کھیلتی ہیں۔ میچ چاہے کہیں بھی کھیلا جائے پاکستان اور انڈیا دونوں ہی ایک دوسرے کی شمولیت سے مالی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ تاہم یہ پہلا موقع یے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ نیوٹرل وینیو پر میچز کھیلنے کا تین سالہ معاہدہ کرنے کے باوجود اصولی موقف اپناتے ہوئے 15 فروری کو سری لنکا میں انڈیا کے ساتھ ہونے والے میچ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا یے۔
