کیا پاکستان ٹرمپ فیور سے بچ پائے گا؟

سینیر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ٹائیفائیڈ بخار کی طرح نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں شدید سر درد، تیز بخار، اور پیٹ کی تکلیف کا باعث بن رہے ہیں۔ چاہے کوئی ملک امریکہ کا اتحادی ہو یا دشمن، ٹائیفائیڈ وائرس کی طرح ٹرمپ فیور بھی کسی کو نہیں بخشتا۔ چاہے وہ کینیڈا جیسا قریبی اتحادی ہو یا چین جیسا مخالف ہو، ہر کوئی ٹرمپ فیور Trump Fever کو محسوس کر رہا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ امریکہ کا پرانا اتحادی اور اسکے ساتھ طویل مدتی سٹریٹیجک تعلقات رکھنے والا پاکستان بھی اب ٹرمپ فیور سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ دونوں ممالک نے ایک ساتھ جنگیں لڑی ہیں اور دنیا بھر میں خفیہ آپریشنز کیے ہیں۔ لیکن ان قریبی فوجی تعلقات کے باوجود، دونوں کے ایک دوسرے کے بارے میں رویے اکثر متضاد رہے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے بقول امریکہ کے لیے پاکستان سے تعلقات ہمیشہ تجارتی رہے ہیں، جبکہ پاکستانی حکام نے اکثر ان کو خلوص پر مبنی اقدامات سمجھا ہے۔ یہ نقطہ نظر کا فرق مشرقی اور مغربی سوچ کے اختلاف کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن تمام مشرقی ممالک جذباتی پاکستانیوں کی طرح نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، مصر اور ترکی نے ضرورت پڑنے پر امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں، لیکن پاکستان نے بغیر کسی ٹھوس معاہدے کے فوجی تعاون فراہم کیا۔ اس پر اکثر "سستا سودا” کہہ کر تنقید کی جاتی ہے۔ دونوں افغان جنگوں کے دوران، کئی بین الاقوامی مبصرین نے پاکستان کے کردار کو کرائے کے سپاہیوں جیسا قرار دیا۔ لیکن حقیقت میں، پاکستان نے رضاکارانہ طور پر کام کیا، اپنی قربانیوں کے بدلے میں کوئی بڑا سودا بھی حاصل نہیں کیا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے ایک تجارتی سوچ رکھنے والے بزنس مین صدر ٹرمپ کو سنبھالنا شاید آسان ہو۔ ایک ایسے صدر کے ساتھ جو اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے بدلے میں اچھی قیمت دیتا ہو، پاکستان آسانی سے اپنی خدمات کے عوض ذیادہ معاوضے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

تاہم یاد رہے کہ پاکستان، ایک نسبتاً چھوٹا ملک ہونے کے باوجود، امریکہ کی تمام تر پالیسیوں کو کبھی اندھا دھند قبول نہیں کرتا، خاص طور پر اسرائیل اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں۔ پاکستان نے چھ جنگیں لڑی ہیں، اور اکثر کھلے یا خفیہ امریکی تعاون سے، لیکن کئی مواقع پر دونوں ممالک کے مفادات میں اختلاف بھی رہا ہے۔

سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو روک دے، لیکن پاکستان نے اپنی سیکیورٹی کے لیے خاموشی سے اپنے عزائم کو آگے بڑھایا۔ حال ہی میں پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکی پابندیوں کے ایک مہینے پہلے، امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اہلکار ڈونلڈ لو نے، جن کا ذکر عمران خان کے خلاف سازش کے حوالے سے بھی کیا گیا تھا، پاکستانی سفیر کو فون کر کے خبردار کیا کہ پاکستان اپنا میزائل پروگرام بند کرے کیونکہ یہ اب امریکہ کو ہدف بنا رہا ہے۔ لیکن پاکستان نے وضاحت کی کہ ان کا میزائل پروگرام امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ بھارت کے لیے ہے۔ پاکستانی حکام نے نشاندہی کی کہ ان کے میزائل اہداف خاص طور پر بھارت پر مرکوز ہیں۔ لیکن امریکی حکام نے اس منطق کو مسترد کر دیا اور پابندیاں عائد کر دیں، جن میں میزائل ڈیولپمنٹ کے ذمہ دار ادارے پر پابندی بھی شامل ہے۔

سہیل وڑائچ یاد دلاتے ہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو اکثر ان کے ناقدین مغرب کی "ڈارلنگ” قرار دیتے تھے، لیکن حقیقت میں وہ ایک محب وطن اور مشرقی روایات کی علمبردار تھیں۔ ان پر مغربی اور بھارتی حمایت یافتہ ہونے کے الزامات لگائے گئے، جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ ایک ملاقات کے دوران، میں نے بینظیر سے ہلکے پھلکے طنزیہ انداز میں کہا، “بی بی، آپ اور امریکی تو ایک ہو گئے ہیں۔ آپ کا اور ان کا ایجنڈا ایک جیسا ہے، خاص طور پر افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے بعد۔” بینظیر نے سختی سے کہا، “امریکیوں کا پاکستان میں صرف ایک ایجنڈا ہے: وہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ کس طرح انہوں نے شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنایا۔

یو اے ای کے لیے ڈیڑھ پیسہ فی مرلہ پر لاکھوں ایکڑ زمین کی لیز

سینئیر صحافی کا کہنا ہے کہ اب، جب کہ ٹرمپ فیور دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے، پاکستان بھی اس بیماری کے "آخری علاج” کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ اگر تجارتی حل کی ضرورت ہو تو پاکستان یقینی طور پر زیادہ قیمت مانگے گا۔ سفارتی، دفاعی اور پاکستانی ڈائیاسپورا کے ذریعے ٹرمپ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

سہیل وڑئچ کہتے ہیں کہ میرا اندازہ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی فوجی قیادت کے درمیان ملاقاتوں میں ٹرمپ کے پاکستان کے معاملات میں مداخلت کو روکنے کے لیے مدد مانگی گئی ہوگی۔ اگر یہ سفارتی کوششیں ناکام ہو جائیں تو پاکستان کو مجبوراً چین اور روس کے بلاک کے ساتھ اتحاد کرنے پر غور کرنا ہوگا۔ انکا کہنا ہے کہ ٹرمپ فیور واقعی ایک حقیقت ہے، اور ہم سب اس بخار میں مبتلا ہیں۔ لیکن اس وائرس کو سنبھالنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ صبر کریں، غیر جذباتی رہیں، اور سفارتی حکمت عملی کے ذریعے اس مشکل وقت کا سامنا کریں۔ چین اور امریکہ کے درمیان توازن قائم رکھنا پاکستان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ امریکہ سے دوری کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ سب سے بہتر حکمت عملی یہی ہوگی کہ ٹرمپ فیور کے طوفان کو گزرنے دیا جائے۔

Back to top button