پرائیویٹائزیشن کے بعد PIA کا منافع بخش ہونے کا کتنا امکان ہے؟

 

 

 

گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل مالی خسارے، انتظامی کمزوریوں اور ساکھ کے بحران کا شکار پی آئی اے کے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ نجکاری کے بعد عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ایئر لائن کے بڑھتے خسارے پر قابو پانے کے لیے پی آئی اے کی پالیسی، ترجیحات اور کاروباری ماڈل میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئی حکمتِ عملی کے تحت آئندہ پالیسی میں اوورسیز پاکستانیوں کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے، جبکہ مالی خسارے میں کمی کے بعد ٹکٹوں کی قیمتوں میں مرحلہ وار کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت جہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پی آئی اے کے پریمیئر کسٹمرز کے طور پر دیکھا جائے گا، وہیں کرایوں میں کمی اور سفری سہولیات میں بہتری کے ذریعے پاکستانی مسافروں کو دوبارہ اپنی قومی ایئر لائن کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

 

خیال رہے کہ قومی ایئرلائن کے 75 فیصد حصص عارف حبیب کنسورشیم کو فروخت ہو چکے ہیں اور یکم اپریل 2025 تک اس کا آپریشنل کنٹرول بھی نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے بعد جہاں صارفین میں پی آئی اے کے ٹکٹس مزید مہنگے ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے، وہیں ایوی ایشن ماہرین پی آئی اے کی نجکاری کو بہتر سروس، مسابقت اور ممکنہ طور پر کم کرایوں سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں پی آئی اے کی نجکاری مسافروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی یا ان کے بوجھ میں مزید اضافہ کردے گی؟ کیا پرائیویٹائزیشن کے بعد قومی ائیر لائن واقعی خسارے سے نکل کر ایک منافع بخش ادارہ بن پائے گی یا نئی مینجمنٹ کے اعلانات بھی کھوکھلے دعوے ثابت ہونگے؟

مبصرین کے مطابق نجی شعبے کے تحت پی آئی اے کو پیشہ ورانہ اور خودمختار انتظامیہ میسر آئے گی، جہاں فیصلے سیاسی دباؤ کی بجائے منافع، کارکردگی اور مسافروں کے اعتماد کو مدِنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ اخراجات میں کمی، غیر منافع بخش روٹس کا خاتمہ، جدید اور ایندھن بچانے والے طیاروں کا حصول اور سروس کے معیار میں بہتری وہ بنیادی ستون ہوں گے جن پر نئی انتظامیہ کی حکمتِ عملی استوار ہو گی۔ جس سے نہ صرف مسافروں کو سستی سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ پی آئی اے بھی خسارے سے نکل کر ایک بار پھر ایشیاءکی بہترین ائیرلائن بن جائے گی۔

 

پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے والے عارف حبیب کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب کے مطابق نئی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کے چھوٹے شہروں اور خلیجی ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ خاص طور پر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں سے پاکستان کے مختلف شہروں کے لیے ڈائریکٹ فلائٹس شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو بار بار ٹرانزٹ کی مشکلات سے بچایا جا سکے۔ عارف حبیب کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کی اولین ترجیح اس وقت سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ جس کیلئے جہازوں کے اندرونی ماحول، نشستوں کی حالت، صفائی اور مجموعی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے قریب لانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایئر لائن کے بیڑے میں نئے طیاروں کا اضافہ اور موجودہ جہازوں کی حالت بہتر بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت پی آئی اے کے پاس تقریباً 16 سے 17 فعال جہاز ہیں، تاہم منصوبہ ہے کہ آنے والے برسوں میں اس تعداد کو بڑھا کر 38 تک لے جایا جائے۔ جہازوں کی تعداد بڑھنے سے نہ صرف پروازوں میں اضافہ ہو گا بلکہ آپریشنل کارکردگی اور شیڈول کی بہتری سے مسافروں کو زیادہ سہولت میسر آئے گی۔

کور کمانڈر پشاور کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں طلبی، خط ارسال

ٹکٹوں کی قیمتوں کے حوالے سے عارف حبیب نے وضاحت کی کہ ابتدائی مرحلے میں فوری طور پر کرایے کم کرنے کے بجائے توجہ آپریشنل بہتری اور سروسز کے معیار پر ہوگی۔ ان کے مطابق جب ایئر لائن کی مالی اور آپریشنل گنجائش بہتر ہو جائے گی اور اخراجات میں توازن پیدا ہو گا تو ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش خود بخود نکل آئے گی۔ جس کے بعد نہ صرف کرایوں میں کمی کی جائے گی بلکہ پاکستانیوں کو سستی سفری سہولیات پہنچانے کیلئے مزید ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

 

تاہم ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی کامیابی کا انحصار صرف نجکاری پر نہیں بلکہ مسافروں کے اعتماد کی بحالی پر ہے۔ وقت کی پابندی، بہتر سروس، عزت و احترام پر مبنی رویہ اور مسابقتی کرایے ہی وہ عوامل ہیں جو پی آئی اے کو دوبارہ ایک منافع بخش اور قابلِ اعتماد ائیر لائن بنا سکتے ہیں۔

Back to top button