پرائیویٹائزیشن کے بعد کیا PIA کے ٹکٹ سستے ہو پائیں گے؟

 

 

 

طویل عرصے تک کم کرایوں کے حوالے سے پہچانی جانے والی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے بعد عوامی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد اب فضائی سفر مزید مہنگا ہو جائے گا یا بہتر مینجمنٹ کے نتیجے میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے؟

خیال رہے کہ قومی ایئرلائن کے 75 فیصد حصص عارف حبیب کنسورشیم کو فروخت ہو چکے ہیں اور یکم اپریل 2025 تک اس کا آپریشنل کنٹرول بھی نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے بعد جہاں صارفین میں پی آئی اے کے ٹکٹس مزید مہنگے ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے، وہیں ایوی ایشن ماہرین پی آئی اے کی نجکاری کو بہتر سروس، مسابقت اور ممکنہ طور پر کم کرایوں سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں پی آئی اے کی نجکاری مسافروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی یا ان کے بوجھ میں مزید اضافہ کردے گی؟

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق اس حوالے سے ایک عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ایئرلائن حکومتی تحویل سے نکل کر نجی شعبے میں منتقل ہونے جا رہی ہے تو اس لیے آنے والے دنوں میں عوام کو پی آئی اے کے مہنگے ٹکٹس خریدنے پڑ سکتے ہیں۔ تاہم پی آئی اے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے مطابق مستقبل میں پی آئی اے کی ٹکٹس کی پرائسنگ بارے فی الحال کوئی حتمی پلان موجود نہیں، تاہم جب پی آئی اے کا ٹیک اوور مکمل ہو جائے گا تو پرائسنگ اور آپریشنل معاملات کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دی جائے گی، اس لیے حتمی رائے کے لیے کچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا۔‘

دوسری جانب ایوی ایشن کے بعض ماہرین اس امکان کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ٹکٹس لازمی طور پر مہنگے ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق جب کمپنی کا خسارہ کم ہو گا، مینجمنٹ بہتر ہو گی اور مسابقت بڑھے گی، تو مسافروں کو سستے یا نسبتاً کم قیمت ٹکٹس ملنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پی آئی اے کے سابق چیئرمین اور ایوی ایشن ایکسپرٹ عرفان الٰہی کا کہنا تھا کہ’پی آئی اے کی ٹکٹ کی قیمتیں بنیادی طور پر اس کے بزنس پلان سے وابستہ ہوں گی۔ اگر ایئرلائن زیادہ سے زیادہ مسافروں کے ساتھ آپریٹ کرے گی تو نئی انتظامیہ کیلئے مسافروں کو سستے ٹکٹس کی فراہمی ممکن ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا جب بھی کوئی ایئرلائن مؤثر انداز میں مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف مسابقت بڑھتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ٹکٹوں کی قیمتیں خود بخود کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔‘

عرفان الٰہی کے مطابق’پی آئی اے چوںکہ اب نجی شعبے میں جائے گی، اس لیے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی مینجمنٹ بہتر ہو گی، اور بہتر مینجمنٹ کا براہِ راست فائدہ ٹکٹس کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔‘ عرفان الٰہی کے بقول پی آئی اے کے پاس مینٹیننس، مرمت اور اوورہالنگ کی سہولیات موجود ہیں، اس کے پاس ورکشاپس اور انفراسٹرکچر بھی ہے جن کے ذریعے ایئرلائن اضافی آمدن حاصل کر سکتی ہے۔ اگر نئی انتظامیہ ان وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی آمدن بڑھانے میں کامیاب رہتی ہےتو اس کا براہِ راست اثر مسافروں کے ٹکٹوں پر بھی پڑ سکتا ہے لہٰذا ہی آئی اے کی نجکاری کے بعد کرایوں میں کمی کے امکانات کو یکسر رد کرنا ناممکن ہے۔

اسی طرح بعض دیگر ایوی ایشن ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے بعد مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتیں موجودہ ریٹس کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہیں کیونکہ پرائیویٹائزیشن کا مقصد کمپنی کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے، اور اگر کمپنی بہتر مینجمنٹ کے ذریعے خسارے سے نکل آئے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی اور بین الاقوامی ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے بلکہ مسافروں کو بہتر سہولیات اور معیاری خدمات بھی فراہم کی جا سکیں گی۔

Back to top button