کیا پی ٹی آئی تھوکا چاٹ کر دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنے گی؟

مذاکراتی عمل ختم کرنے کے باوجود حکومت کے کسی قسم کے دباو میں نہ آنے کے بعد یوتھیے رہنماؤں نے تھوکا چاٹ کر دوبارہ مذاکرات حصہ بننے کا عندیہ دے دیا ہے۔پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے اگر حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان نہ کرے صرف وعدہ ہی کر لے تو وہ دوبارہ مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کو تیار ہیں۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کے بعد بیک ڈور رابطے بھی منقطع ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے اب پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں جلد از جلد مذاکرات کی بحالی کیلئے کوشاں ہے تاکہ اس کے بیک ڈور رابطے بحال ہو سکیں تاہم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین پر اتفاق رائے، 28 جنوری کو مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کی طلبی، حکومتی کمیٹی کی طرف سے مذاکرات میں واپس آنے کے لئے حزب اختلاف سے اپیل اور یوتھیے رہنماؤں کے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کا عندیہ دینے کے باوجود  مذاکراتی عمل آئندہ کئی ہفتوں تک بحال ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔

 عمران خان کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد ماہرین کے مطابق فریقین کے درمیان مفاہمت کے امکانات دم توڑ رہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ فریقین کی جانب سے جب تک لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کسی ‘بریک تھرو’ کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا فریقین دوبارہ مذاکرات شروع کر سکتے ہیں؟ کیا کوئی تیسری قوت مذاکرات دوبارہ شروع کرانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے؟

تجزیہ کار اور کالم نویس مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ فریقین کے درمیان اب ڈیڈ لاک ہو چکا ہے۔ اب اگر حکومت کمیشن بنانے کا اعلان کرتی ہے تو ہی پی ٹی آئی دوبارہ مذاکرات کی طرف آ سکتی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی اعلان کے باوجود پی ٹی آئی اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرتی تو پی ٹی آئی کوئی گرینڈ الائنس بنائے گی۔ اُس کے بعد دیکھیں گے کہ احتجاج کا طریقہ کیا ہو گا اور احتجاجی تحریک بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق حکومتی کمیٹی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے خفیہ مذاکرات بھی چل رہے تھے تاہم حکومت سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد خفیہ رابطے بھی بالکل منقطع ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کسی بھی صورت بیک ڈور رابطوں کی بحالی کی خواہاں ہے اس لئے حکومت کی جانب سے جیسے ہی جوڈیشل کمیشن بارے ہلکا سا مثبت جواب دیا گیا پی ٹی آئی بغیر نخرے دکھائے عمرانی فیصلے سے یوٹرن لیتے ہوئے دوبارہ مذاکراتی عمل کا حصہ بن جائے گی۔

پاکستان میں جمہوری اقدار پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ وہ بہت حیران ہیں کہ ایسے اچانک مذاکرات کیسے ختم ہو جاتے ہیں۔اُن کے بقول یہ مذاکرات بغیر کسی تیاری کے شروع ہوئے اور اَب جس طرح اُنہیں ختم کیا گیا ہے وہ بھی کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں تو ایک فریق یہ کہے کہ ہر حال میں اس کا مطالبہ مانا جائے ورنہ بات ختم تو ایسا نہیں ہوتا۔ مذاکرات میں کچھ دو اور کچھ لو ہوتا ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کیا پی ٹی آئی مطالبات پورے نہ ہونے پر دوبارہ کوئی احتجاجی تحریک شروع کر سکتی ہے؟مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک چلانے کی صلاحیت کافی متاثر ہو چکی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات آگے نہیں بڑھتے تو پی ٹی آئی کو عدالتوں کی طرف دیکھنا ہو گا یا پھر احتجاج کا کوئی اور طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔

منموہن سنگھ کس پاکستانی کے اکنامک وژن پر چل کر کامیاب ہوئے ؟

احمد بلال محبوب کے بقول یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ‘پسِ پردہ’ کچھ ہو رہا ہو اور کچھ عرصے کے لیے سسٹم کو چلتے رہنے کی یقین دہائی کرا دی گئی ہو۔دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پی ٹی آئی دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتی ہے لیکن اُن کی رائے میں یہ راستہ اختیار کرنے کا رسک زیادہ ہو گا۔اُن کے بقول لگتا ہے کہ ایوان کے اندر بھرپور احتجاج ہو گا اور عدالتوں سے بھی رُجوع کیا جائےگا لیکن سڑکوں پر آنے سے گریز کیا جائے گا۔

Back to top button