سعد رضوی گرفتار ہوں گے یا پولیس مقابلے میں پار ہوں گے ؟

 

 

 

تحریک لبیک پاکستان کے مفرور سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کا چھوٹا بھائی انس رضوی پنجاب پولیس کی کوششوں کے باوجود اب تک گرفتار نہیں ہو پائے۔ پچھلے ماہ مریدکے میں آپریشن کلین اپ کے دوران بچ نکلنے والے دونوں بھائی پولیس کے درجن بھر چھاپوں کے باوجود گرفتار نہیں ہو پائے۔ دونوں بھائی پولیس والوں کے مقدمہ قتل میں مفرور ہیں۔

 

تاہم دوسری طرف تحریک لبیک کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں بھائی کئی ہفتے قبل ہی پولیس کے قابو آ گئے تھے لیکن ان کی گرفتاری کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ پارٹی حلقے اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہیں دونوں بھائیوں کو جعلی پولیس مقابلے میں ہی پار نہ کر دیا جائے۔ سعد رضوی اور انس رضوی کے خلاف مقدمہ قتل کی ایف آئی آر کے مطابق سعد رضوی نے ایک مریدکے دھرنے کے دوران اپنی پستول سے ایک ایس ایچ او پر گولیاں چلائیں جس سے وہ موقع پر شہید ہو گیا، جبکہ ان کے بھائی انس رضوی نے پولیس اہلکاروں پر رائفل سے فائر کیے جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اس جھڑپ کے دوران درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے مقدمہ قتل کے ساتھ سعد اور انس پر دیگر سنگین الزامات بھی لگائے ہیں، جن کی بنیاد پر دونوں بھائی ہائی پروفائل مفرور قرار پائے ہیں۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق مریدکے آپریشن کے بعد سے سعد اور انس رضوی لاپتہ ہیں اور اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ پنجاب پولیس کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ دونوں کہاں ہیں۔ انہیں پنجاب پولیس نے 100 سے زائد مقدمات میں مطلوب ہونے کی بنیاد پر ہائی پروفائل مفرور قرار دے دیا ہے۔

 

پولیس کے مطابق دونوں مفرور بھائی کسی قسم کے موبائل یا الیکٹرانک آلات استعمال نہیں کر رہے، جسکی وجہ سے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے مفرور رضوی برادران کا سراغ لگانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور گیجٹس استعمال کیے، لیکن ابھی تک ان کا پتہ نہیں چل سکا۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق سعد اور انس کی پرسرار گمشدگی پنجاب پولیس کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ اس دوران درجن بھر ایسی جگہوں پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں جہاں ان کے چھپے ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ پہلا چھاپہ مریدکے میں جبکہ آخری چھاپہ آزاد کشمیر میں مارا گیا۔ لیکن اب یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر کراچی میں زیرِ زمین چھپے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب تحریک لبیک پر پابندی عائد ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے جاری روزانہ چھاپوں کے نتیجے میں اب تک 1,250 سخت گیر کارکنان اور مالی معاونین گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ان چھاپوں کی وجہ سے کئی ٹی ایل پی والوں کے اہل خانہ اپنے گھروں کو تالے لگا کر دوسرے شہروں کو نکل گئے ہیں۔

مریم نواز اور نواز شریف کی زندگیاں خطرے میں کیوں؟

پولیس کے مطابق سعد اور انس رضوی کی گمشدگی نہ صرف قانونی طور پر ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ ان کے بارے میں عوامی حلقوں میں بھی تجسس پایا جاتا ہے۔ تحریک لبیک کے اندرونی حلقے یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ سعد رضوی اور انس رضوی پہلے ہی سکیورٹی حکام کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں اور ان کی گرفتاری کو خفیہ رکھا جا رہا ہے جس سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ان کا جعلی پولیس مقابلہ ہی نہ کروا دیا جائے۔

 

Back to top button