کیا سزائے موت کے باوجود شیخ حسینہ کی سیاست زندہ رہے گی؟

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو عدالت کی جانب سے ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد عوامی لیگ نے اعلان کیا ہے کہ حسینہ واجد جب تک زندہ ہیں، وہی جماعت کی قائد رہیں گی اور عدالت کے فیصلے اُن کی عوامی مقبولیت کو ختم نہیں کر سکتے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ سزا دراصل آنے والے عام انتخابات سے قبل عوامی لیگ کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کی ایک سازش ہے لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہے گی۔
شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ان کے سیاسی مستقبل، پارٹی کی داخلی قیادت اور بنگلہ دیشی سیاست میں اُن کی ممکنہ واپسی سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بنگلہ دیش کے معروف سیاسی تجزیہ کار پروفیسر صابر احمد کا کہنا ہے کہ ’’بات بہت آگے نکل چکی ہے، اور مجھے نہیں لگتا کہ شیخ حسینہ دوبارہ بنگلہ دیش میں وہ مقام حاصل کر سکیں گی جس پر وہ فائز تھیں۔‘‘ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی، مگر ’’قیادت سے بڑی غلطی ہو جائے تو نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد نے عدالتی فیصلے کو متعصبانہ اور سیاسی قرار دیتے ہوئے عدالتی ٹربیونل کو ’’کینگرو کورٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ عوامی لیگ کی اعلیٰ قیادت پہلے ہی اس فیصلے کو مسترد کر چکی ہے، جبکہ نچلی سطح کے رہنما بھی اسے ’’سیاسی فیصلہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ سب ایک من مانا عمل ہے اور بنگلہ دیش کے عوام اسے قبول نہیں کریں گے۔‘‘
عوامی لیگ کی مرکزی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ پارٹی میں شیخ حسینہ کی سربراہی پر کوئی اختلاف نہیں۔ جوائنٹ جنرل سیکرٹری اے ایف ایم بہاؤالدین نسیم کے مطابق ’’جب تک وہ زندہ ہیں، ہم انہی کی قیادت میں آگے بڑھیں گے۔‘‘
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی کے باوجود تنظیمی ڈھانچہ فعال ہے۔ جلسوں پر پابندی کے باوجود پارٹی کے نیٹ ورک نے نچلی سطح تک خود کو منظم کیا ہے، جس کے بارے میں ایک مقامی رہنما کا کہنا ہے کہ ’’ہم کسی بھی وقت سیاسی طور پر بازی پلٹ سکتے ہیں۔‘‘
دوسری جانب عبوری حکومت نے عدالتی فیصلے کے بعد شیخ حسینہ واجد کی ملک واپسی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی جانب سے اس مطالبے کے پورا ہونے کا امکان کم ہے، جس سے پارٹی کے سیاسی مستقبل میں مزید پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔
ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا عدالت سے سزا ملنے کے بعد شیخ حسینہ دوبارہ بنگلہ دیشی سیاست میں جگہ بنا سکتی ہیں؟
تجزیہ کاروں کی سخت آراء کے باوجود یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عوامی لیگ بنگلہ دیش کی بانی جماعت ہے اور ملک میں اس کا گہرا سماجی، سیاسی اور تنظیمی ڈھانچہ آج بھی موجود ہے۔ شیخ حسینہ کی قائدانہ پوزیشن نہ صرف پارٹی کے اندر مضبوط ہے بلکہ ملک کے کئی حصوں میں ان کی مقبولیت سزائے موت کے فیصلے کے باوجود کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ بہت سے مبصرین کے مطابق عوامی لیگ کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ملک کے آئینی ڈھانچے، آزادی کی تحریک اور ترقیاتی بیانیے کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے اگرچہ مرکزی رہنماؤں کو مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا ہے، لیکن نیچے کی سطح پر جماعت کا نیٹ ورک اب بھی متحرک ہے۔
شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیرونِ ملک چلے جانا زندہ رہنے کے لیے ضروری تھا کیونکہ اس حقیقت کو نہیں بھلایا جا سکتا کہ ان کے والد شیخ مجیب الرحمن اور خاندان کے باقی تمام افراد کو فوجی بغاوت کے وقت قتل کر دیا گیا تھا۔ شیخ حسینہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا ملک چھوڑ کر انڈیا جانا اُن کے سیاسی بیانیے کو کمزور کرنے کے بجائے، ان کے لیے عوامی ہمدردی کی لہر کو مضبوط بنا رہا ہے۔ عوامی لیگ کے کارکنوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پارٹی سربراہ کو عدالت کے ذریعے انتخابی میدان سے باہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی بیانیہ مستقبل میں عوامی لیگ کو دوبارہ سیاسی طاقت کے طور پر ابھارنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
اگرچہ موجودہ حالات میں شیخ حسینہ کی فوری سیاسی واپسی مشکل دکھائی دیتی ہے، مگر مبصرین اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کرتے کہ بنگلہ دیشی سیاست میں بحرانوں کے بعد اکثر بڑی جماعتیں دوبارہ مضبوط ہوتی رہی ہیں۔ عوامی لیگ کی تاریخی حیثیت اور شیخ حسینہ کی شخصیت کا اثر اُن کے سیاسی مستقبل کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیتا۔ لیکن یہ واپسی عدالتی فیصلوں، علاقائی سیاست، بھارتی رویّے اور بنگلہ دیش کی داخلی صورتِ حال پر منحصر ہو گی۔
