شیخ وقاص اکرم اپنی سیٹ بچاپائیں گےیاگھرجائیں گے؟

5اگست کو تحریک انصاف کی احتجاجی کال کے روز مزید 9 اراکین اسمبلی کی نااہلی کے بعد پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کی سیٹ بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے شیخ وقاص اکرم کے بغیر اطلاع اور رخصت کے قومی اسمبلی اجلاس سے 40 دن کی غیرحاضری پر اُن کی نشست خالی قرار دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔
خیال رہے کہ 5اگست کو پی ٹی آئی کی صفوں میں اس وقت شدید بے چینی، مایوسی اور دباؤ دیکھنے میں آیا جب ٹی وی چینلز کے ذریے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے 9 سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نااہل ہونے والوں میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ شبلی فراز، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل، جنید افضل ساہی، محمد انصر اقبال، رائے حسن نواز، رائے حیدر علی اور رائے مرتضیٰ اقبال شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق ان تمام ارکان کو 9 مئی کے مقدمات میں عدالتوں سے سزائیں ہونے کے بعد آئین کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔
تاہم قومی اسمبلی میں موجود پی ٹی آئی اراکین ابھی اس صدمے سے باہر نہیں آئے تھے کہ سپیکر سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف پر مزید بجلی گراتے ہوئے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے سیکشن 44کے تحت پی ٹی آئی ترجمان شیخ وقاص اکرم کے 40 روز تک ایوان سے غیر حاضر رہنے کا معاملہ ایوان میں پیش کردیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ شیخ وقاص اکرم بغیر رخصت کے 40 دن سے زائد سے غیر حاضر ہیں اور رکن قومی اسمبلی 40 دن تک بغیر رخصت کے غیر حاضر ہو تو سپیکر ایوان کے نوٹس میں لاتا ہے اور آرٹیکل 64 کے تحت ایسے رکن کی نشست کو خالی قرار دے سکتا ہے۔
سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کے دوران رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بطور سپیکر، آئین اور قواعد کے مطابق ایوان کو آگاہ کر رہے ہیں کہ رول 44 (1) کے تحت شیخ وقاص اکرم اسمبلی سیشن کے 40 دنوں سے بغیر کسی رخصت لیے مسلسل غیر حاضر ہیں، تحریک پیش ہونے اور منظور ہونے کی صورت میں ان کی نشست خالی قرار دی جا سکتی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ قواعد کے مطابق وہ ہر صورت سات دن کے اندر اس تحریک کو ایوان میں رائے شماری کے لیے پیش کرنے کے پابند ہیں، جبکہ ایوان تحریک کو مؤخر، مسترد یا منظور کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رکن ملک عامر ڈوگر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ جو رول آپ پڑھ رہے ہیں، بتائیں کہ اب تک ایوان میں کب قواعد پر مکمل عملدرآمد ہوا، ہمارے اراکین کو پارلیمنٹ ہاؤس سے گرفتار کیا گیا، انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، یہ سب ظلم ہوتا رہا ہے۔جس پر سپیکر ایاز صادق نے جواب دیا کہ ہم نے متعدد بار پروڈکشن آرڈر جاری کیے ہیں، ملک عامر ڈوگر نے اسے پی ٹی آئی کا آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے، جواباً اسپیکر ایاز صادق نے استفسار کیا کہ یہ حق 2018 سے 2022 کے درمیان کہاں تھا۔ اس پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی،تاہم اسی دوران حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن نوشین افتخار نے شیخ وقاص اکرم کی نشست کو بغیر اطلاع اور رخصت کے ایوان سے غیر حاضر رہنے پر آرٹیکل 64کی ذیلی شق 2کے تحت نشست خالی قرار دینے کی تحریک پیش کر دی۔ نوشین افتخار نے شیخ وقاص اکرم کی رکنیت ختم کرنے کی تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ وقاص اکرم گزشتہ 40 دنوں سے ایوان کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے، لہٰذا آئین کے آرٹیکل 64 کے تحت ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کی جائے۔ جس پر ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ اسے رولز کے مطابق دیکھ لیا جائے گا۔اس موقع پر وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ماضی میں میاں محمد سومرو کی نشست بھی مسلسل 40 دن غیر حاضر رہنے کی بنیاد پر خالی قرار دی جا چکی ہے، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے شیخ وقاص اکرم کی رکنیت کے خاتمے سے متعلق تحریک پر کارروائی کے لیے متعلقہ قواعد کے مطابق اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے نواز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضریوں پر سوالات اٹھائے، تاہم اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی چھٹی کی درخواستیں ریکارڈ پر موجود ہیں، جبکہ شیخ وقاص اکرم کی جانب سے کوئی تحریری اطلاع یا درخواست موصول نہیں ہوئی۔اسمبلی کے قواعد کے مطابق اگر بعد میں بھی شیخ وقاص کی حاضری یا چھٹی کی کوئی درخواست موصول ہو جائے، تب بھی نوشین افتخار کی پیش کردہ تحریک مؤثر رہے گی، کیونکہ اس پر فیصلہ ایوان کی رائے سے ہونا ہے۔
