کیا سنجرانی کی طرح سپیکر عمران خان کو بھی بچا لے گا؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کرنے والی اپوزیشن قیادت نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو حکومتی ٹٹو کا کردار ادا کرنے پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مرتکب تو قرار دے دیا ہے لیکن وہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے گریزاں ہے جس پر سیاسی حلقے حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کرنے سے پہلے خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اپوزیشن پہلے اسپیکر قومی اسمبلی کو عدم اعتماد کر کے فارغ کروائے گی تاکہ وہ وزیراعظم کے خلاف ووٹنگ کے دوران سینیٹ چئیرمین کے الیکشن والی تاریخ نہ دہرا پائیں جب یوسف رضا گیلانی کو ڈالے گے سات ووٹ مسترد کردیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ مارچ 2021 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی سیٹ جیت کر اپنی عددی اکثریت ثابت کرنے کے باوجود اپوزیشن اتحاد کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی الیکشن ہار گے تھے۔ تاہم صادق سنجرانی کی جیت کی بنیادی وجہ یوسف رضا گیلانی کے حق میں پڑنے والے سات ووٹوں کا مسترد کیا جانا تھا حالانکہ کہ ووٹرز نے واضح طور پر اپنے ووٹ گیلانی کے حق میں ڈالے تھے۔

ان ووٹوں کو مسترد کرنے کا فیصلہ سینیٹ اجلاس کی صدارت کرنے والے مظفر حسین شاہ نے دیا جن کا تعلق حکومتی اتحادی جماعت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تھا۔ یوں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی ایک بار پھر 48 ووٹ لے کر چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گے جبکہ یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کیے۔ اگر یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد نہ ہوتے تو وہ صادق سنجرانی کو ایک ووٹ سے شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے۔

یاد رہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران جب گنتی کا مرحلہ آیا تو اجلاس کی صدارت کرنے والے مظفر حسین شاہ نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگنے کی وجہ سے بطور پریزائیڈنگ آفیسر انکے سات ووٹ مسترد قرار دے دیے۔ گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق نائیک نے پریزائیڈنگ آفسر کے رولنگ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرز نے مہر بیلٹ پیپر کے خانے کے اندر لگائی ہے باہر نہیں، ویسے بھی سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات میں کہیں نہیں لکھا کہ مہر امیدوار کے نام کے اوپر لگانے کے بجائے سامنے لگائی جائے۔

اس پر صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ محسن عزیز نے سیینٹ سیکرٹریٹ کے رولز پڑھ کر کہا کہ رولز میں یہ لکھا ہے کہ مہر امیدوار کے نام کے سامنے بنے ہوئے خانے پر لگانی ہے۔ دونوں فریقین کو سننے کے بعد پریزائیڈنگ افسر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ بیلیٹ پیپر کی تشکیل اس حساب سے کی گئی ہے کہ ہر امیدوار کے سامنے ایک خانہ بنا ہوا ہے اور رولز کے مطابق اس خانے میں مہر لگائی جانی تھی اس لیے یہ سات ووٹ مسترد تصور ہوں گے۔

یوں حکومتی اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والے مظفر حسین شاہ نے بطور پرزائیڈنگ آفیسر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو فاتح قرار دے دیا اور یوسف رضا گیلانی جیتا ہوا الیکشن ہار گئے۔ یوسف رضا گیلانی اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں گئے تو عدالت نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اب یہ کیس ایک برس سے سپریم کورٹ نے سرد خانے میں ڈال رکھا ہے۔

سینیٹ الیکشن میں اس تلخ تجربے کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اپوزیشن عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے اسپیکر کا پتہ صاف کرے گی تاکہ وہ الیکشن کے دوران بطور پرزائیڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ والا منفی کردار ادا نہ کر پائیں۔ اس تجویز کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پاس کروانا اس لیے آسان ہے کہ رائے شماری خفیہ طریقے سے ہوگی جب کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری شو آف کنڈکٹ کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن صلاح مشورے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے یہی فیصلہ کیا کہ تحریک عدم اعتماد براہ راست وزیر اعظم کے خلاف لائی جائے۔

اب اپوزیشن کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کئے تین ہفتے سے زائد ہو گئے ہیں لیکن اسد قیصر ووٹنگ کروانے سے گریز کر رہے ہیں اور تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پارٹی سے منحرف ہونے والے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے ووٹوں کو شمار کرنا یا نہ کرنا سپیکر کا اختیار ہے اور وہ اس پر فیصلہ ووٹنگ والے دن کریں گے۔ حکومتی جماعت کا موقف ہے کہ اگر الیکشن والے دن اسپیکر بطور پرزائیڈنگ آفیسر باغی اراکین قومی اسمبلی کے ووٹوں کو شمار نہیں کرتے تو انکا فیصلہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو پائے گا کیونکہ پارلیمانی کاروائی عدالتوں میں چیلنج نہیں ہو سکتی۔

25 مارچ کے روز بھی اسپیکر قومی اسمبلی نے کپتان کے ٹٹو کا کردار ادا کرتے ہوئے ہوئے 16 دن کی تاخیر سے بلائے گئے اجلاس کو تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر ہی مؤخر کر دیا۔ اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر 14 دن کے اندر اجلاس بلانا قانونی اور آئینی ضرورت تھی مگر اسپیکر نے عمران نیازی کے ساتھ مل کر سازش کی اور اس طرح وہ آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوئے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے بطور اسپیکر نہیں، بلکہ پی ٹی آئی کے ورکر کی طرح پارلیمان کے قانون اور روایات کو اپنے پاؤں تلے روند دیا ہے۔

وزیراعظم کے نیچے سے پوری پارٹی کھسک چکی ہے

انکا کہنا تھا کہ یوں سپیکر اسد قیصر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے اس کردار کو تاریخ میں سیاہ الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سپیکر واقعی غداری کے مرتکب ہوئے ہیں تو اپوزیشن کو کم از کم ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد تو ضرور داخل کروانی چاہیے تاکہ وہ وزیر اعظم کے خلاف ووٹنگ والے دن مظفر علی شاہ والا کردار ادا نہ کر پائیں۔

Will Speaker save Imran Khan like Sanjarani? Urdu news

Back to top button