کیا فیض کے کورٹ مارشل کے بعد فوج سیاست میں مداخلت سے باز آئے گی ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل فیض حمید کے ’’کورٹ مارشل‘‘ میں سب کیلئے سبق ہے چاہے وہ سیاستدان ہوں، حکمران یا خود فوج ہو۔ آپ کا اصل امتحان ہی تب ہوتا ہے جب آپکے پاس طاقت بھی ہو اور اختیار بھی۔ فیض حمید کا کورٹ مارشل ہماری سیاسی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک ہے کیونکہ برسہا برس سے یہ بحث عام ہے کہ امورِ مملکت میں فوج کا سیاسی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ اب تو خود فوجی ترجمان کی طرف سے بار بار یہ واضح اعلان آتا ہے کہ سیاست دان اپنے معاملات خود بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ اگر سیاست میں ریاست کی مداخلت واقعی ختم ہوتی ہے تو پھر یہ ذمہ داری سویلین حکمرانوں اور سیاستدانوں پر عائد ہو گی کہ وہ ملک کو کس ڈگر پر لے کر جاتےہیں۔ مگر کیا آنے والے وقت میں ایسا ہوگا، اس پر اب بھی ایک بڑا ’سوالیہ نشان‘ موجود ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں جنرل فیض حمید اپنے وقت کے طاقتور ترین افسر تھے اور سیاست میں مداخلت کی فوجی پالیسی کا تسلسل تھے۔ یہ سلسلہ جنرل حمید گل سے شروع ہو کر احمد شجاع پاشا اور پھر جنرل ظہیر الاسلام تک پہنچا اور فیض حمید پر آ کر ختم ہوا۔ یہ بات بھی تاریخی طور پر درست ہے کہ آئی ایس آئی کا ’سیاسی سیل‘ سابق سویلین وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء میں ایک خط کے ذریعہ قائم کیا جس کا بنیادی مقصد اُس وقت کی اپوزیشن کی سب سے مؤثر جماعت بائیں بازو کی نیشنل عوامی پارٹی کو دبانا اور اُس حوالے سے خبریں جمع کرنا تھا حالانکہ یہ کام ہمیشہ سے انٹیلی جنس بیورو یا اسپیشل برانچ کا رہا ہے۔

پاکستان میں بائیں  بازو کی سیاست کو کرش کرنے کی ریاستی پالیسی قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی بنا لی گئی تھی۔ کیمونسٹ پارٹی پر پابندی، سُرخ پوش تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن، جگتو فرنٹ کی مشرقی پاکستان میں جیت کو قبول نہ کرنا، آزادیٔ صحافت پر پابندی یہ سب اُسی سلسلے کی چند کڑیاں ہیں۔ مظہر عباس کے بقول جنرل فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ میں سب سے اہم الزام سیاست میں مداخلت کا ہے۔ انہوں نے سیاست میں تب بھی مداخلت کی جب وہ حاضر سروس افسر تھے اور تب بھی کی جب وہ ریٹائر ہو گئے حالانکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پل5 سال تک ان پر سیاست میں حصہ لینے کی پابندی تھی۔ یہ الزام اِس لئے بھی سب سے اہم ہے کہ اگر اِس پالیسی پر آئندہ سختی سے عمل کیا جائے تو عین ممکن ہے آئندہ چند سال میں سیاستدان اپنے تئیں فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ فیض حمید کے کورٹ مارشل کا فیصلہ کب اور کیا آتا ہے اِس کا انتظار شاید طویل نہ ہو۔ نہ جانے کیوں جب میں نے جب اِس ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل‘ کی خبر سُنی تو مجھے ’ڈان لیکس‘ اور سینیٹر حاصل بزنجو مرحوم یاد آ گے، جنرل حمید گل کا 1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد بنانا اور پھر اسکا اعتراف کرنا بھی یاد آیا اور تاریخی اصغر خان کیس بھی یاد آیا۔ نجانے کیوں مجھے حامد میر پر حملہ اور اُس کے بعد جو کچھ جیو اور جنگ کے ساتھ ہوا اسکا خیال بھی آیا۔ نہ جانے کیوں مجھے مرحوم اینکر ارشد شریف بھی یاد آیا جسے پاکستان چھوڑنے کے بعد بیرونِ ملک شہید کر دیا گیا۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ کردار بدلتے رہے مگر سیاست میں مداخلت کے نتائج ہمیں جمہوریت اور آزادیٔ اظہار سے دور کرتے چلے گئے۔ آج بھی صحافت بارے سخت پالیسی چلائی جا رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں آئی ایس آئی کے زیادہ تر سربراہوں پر مجموعی طور پر الزام رہا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں چاہے وہ جنرل پاشا ہوں یا جنرل رضوان۔ جنرل نوید مختار ہوں یا جنرل ظہیر الاسلام ۔بس اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کے نتیجے میں کوئی واضح پالیسی بھی ’عدم مداخلت‘ کی سامنے آئے گی یا بس ایک فرد کو سزا ہو گی۔ خیر ابھی تو معاملہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کا ہے مگر 9؍مئی کی تفتیش میں اگر جنرل فیض کے حوالے سے بات آئے گی اور سابق وزیراعظم عمران خان اور جنرل فیض کا کردار سامنے آتا ہے تو معاملہ سنجیدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ بات ’سول نافرمانی‘ پر جاتی ہے یا پھر یہ ’سول فرمانی‘ میں بدل جاتی ہے۔ تاہم اب تک 15؍دسمبر کی ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود خاموشی ہے۔ کوئی یومِ احتجاج بھی نہیں منایا گیا۔ تاہم ’سانحہ ڈی چوک‘ پر کئی صحافی اور یوٹیوبر حضرات کے خلاف کارروائیاں جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی پچھلی حکومت کے دور میں لایا ہوا ’پیکا۔ 2016‘ کا کالا قانون اب اپنی بدترین شکل میں لایا جا رہا ہے۔ غور کریں تو یہ اُسی کا تسلسل ہے جو تحریک انصاف کے دور میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری لاگو کرنے والے تھے لیکن اب یہ تاج موجودہ وزیر عطار تارڑ پہننےجا رہے ہیں۔

فیض حمید کے بعد عمران خان کو بھی 9 مئی میں گھسیٹنےکی تیاری

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اگر آج ریاست نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ فیض حمید نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’سیاسی معاملات‘ میں مداخلت کی تھی تو اِس کا نتیجہ آنے کے بعد اُمید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ پاکستان کے سیکورٹی معاملات بہت سنگین ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی آج بھی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اِسلئے ضروری ہے کہ فوج سیاست کو سیاستدانوں پر چھوڑ دے۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کو ہوئے دس سال گزر گئے جب کہ سانحہ مشرقی پاکستان کو 53 سال بئت گے، لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان بڑے سانحوں سے کوئی سبق سیکھا؟ دراصل تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی بھی سبق نہیں سیکھتا۔

Back to top button