الیکشن کے بعد بنگلہ دیشی حکومت پرو انڈیا ہوگی یا پرو پاکستان؟

 

 

 

بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے الیکشن کے ممکنہ نتائج بھارت کی مودی سرکار کے لیے تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں کیونکہ ایک طویل عرصے بعد شیخ حسینہ واجد کی پرو انڈیا جماعت، عوامی لیگ انتخابی عمل میں شریک نہیں ہے اور زیادہ امکان یہ ہے کہ خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت اسلامی اقتدار میں آ جائیں۔ اس امکان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اس وقت بھارت میں مقیم ہیں اور بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے ان کی جماعت عوامی لیگ کو 12 فروری کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف بنگلہ دیش کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ نئی دہلی میں بھی غیر یقینی اور اضطراب کی فضا پیدا کر دی ہے۔

 

بھارت کی کسی پڑوسی ملک کے الیکشن میں اس سطح کی دلچسپی شاذ و نادر ہی دیکھی گئی ہے جیسی کے بنگلہ دیش کے الیکشن میں ظاہر کی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں ڈھاکہ میں ایسا سیاسی سیٹ اپ سامنے آ سکتا ہے جس میں عوامی لیگ سرے سے موجود نہ ہو۔ یہ ایک ایسی حقیقت یے جس کا سامنا انڈیا نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں نہیں کیا۔

شیخ حسینہ کے 16 سالہ دورِ حکومت میں بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات غیر معمولی طور پر مضبوط رہے۔ خصوصاً شمال مشرقی بھارت میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف تعاون، سرحدی سلامتی اور سکیورٹی تعاون دہلی کے لیے بڑی سفارتی کامیابی سمجھے جاتے تھے۔ بنگلہ دیش کی حسینہ حکومت نے متعدد مطلوب علیحدگی پسند رہنماؤں کو بھارت کے حوالے بھی کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔

 

تاہم موجودہ سیاسی منظرنامے میں دہلی کو یہ فکر لاحق ہے کہ نئی حکومت شمال مشرقی بھارت کی سلامتی، سرحدی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر کیا مؤقف اختیار کرے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا حال ہی میں لندن سے 20 سالہ جلاوطنی ختم کر کے واپس بنگلہ دیش آنے والے خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق الرحمان کی قیادت میں بی این پی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی یا اسے جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر اتحاد بنانا پڑے گا۔ماضی میں 2001 سے 2006 تک خالدہ ضیا کی قیادت میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی اتحادی حکومت قائم رہی، جسے دہلی میں خوشگوار تجربہ نہیں سمجھا جاتا۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی کی ممکنہ سیاسی واپسی کو بھارت میں حساس نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اسی لیے بھارت کی مودی سرکار کے لیے یہ وقت بے چینی اور غیر یقینی کا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی لیگ کے بنگلہ دیش کے سیاسی منظر سے ہٹنے کے بعد ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ کسی کو واضح طور پر معلوم نہیں کہ کون سا اتحاد اقتدار میں آئے گا اور اس کا بھارت کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔ یاد رہے کہ انڈیا برسوں تک جماعت اسلامی کو غیر اعلانیہ طور پر ایک ’ریڈ لائن‘ تصور کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ دہلی نے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ پس پردہ رابطے قائم کیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ ایک بھارتی سفارت کار ان سے ملاقات کر چکے ہیں جسے خفیہ رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔ بھارت نے اس دعوے کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید۔

دہلی کے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بدلتے سیاسی حالات میں بھارت اب ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ کی حکمت عملی اپنا رہا ہے تاکہ جو بھی جماعت اقتدار میں آئے، اس کے ساتھ عملی تعلقات استوار کیے جا سکیں۔

 

ادھر دہلی میں اب اس حقیقت کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ 2024 میں بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی عوامی تحریک میں بھارت مخالف جذبات نمایاں تھے۔ شیخ حسینہ کے خلاف نعروں کے ساتھ ساتھ دہلی کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اسی پس منظر میں بھارت نے حالیہ انتخابی عمل میں کھلے عام مداخلت یا حمایت سے گریز کیا ہے تاکہ اسے داخلی سیاست کا فریق نہ سمجھا جائے۔ اگرچہ بھارت گزشتہ ڈیڑھ سال سے بنگلہ دیش میں شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتا رہا، تاہم جب عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے باہر کیا گیا تو دہلی نے اس پر باقاعدہ احتجاج نہیں کیا جسے بعض حلقے ایک سوچے سمجھے سفارتی توازن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کچھ سابق بھارتی سفارتکاروں کا خیال ہے کہ سلامتی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کی معیشت، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں بھارت پر انحصار دونوں ممالک کو عملی تعاون پر مجبور رکھے گا۔ سابق بھارتی سفارتکار سومین رائے کے مطابق بھارت ایک بڑی معاشی اور علاقائی طاقت بن چکا ہے۔ سلامتی کے حوالے سے اسکا بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جا چکا ہے، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیکھنا یہ ہوگا کہ الیکشن کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں جو بھی حکومت برسر اقتدار آتی ہے اس کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کیا ہوں گی خصوصاً یہ کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو کس حد تک وسعت دیتی ہے۔

بنگلادیش میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری

دہلی کے پالیسی ساز حلقوں میں عمومی رائے یہ پائی جاتی ہے کہ موجودہ حالات میں خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بھارت کے لیے نسبتاً قابل قبول آپشن ہے، خاص طور پر اگر وہ جماعت اسلامی سے فاصلہ برقرار رکھتی ہے۔ تاہم زمینی حقائق اور ممکنہ اتحادی سیاست دہلی کی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق بھارت کی اولین ترجیح اب یہ ہے کہ 12 فروری کے انتخابات کے بعد بننے والی حکومت سے واضح یقین دہانی حاصل کی جائے کہ شمال مشرقی بھارت کی سلامتی، سرحدی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے معاملات متاثر نہیں ہوں گے۔

بنگلہ دیش کے یہ انتخابات نہ صرف اس ملک کی داخلی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دہلی میں پائی جانے والی بے چینی اس بات کی عکاس ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن اور سفارتی صف بندیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔ چنانچہ اب مودی سرکار کی نظریں 12 فروری کے الیکشن نتائج پر مرکوز ہیں جہاں ووٹوں کی گنتی صرف حکومت کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ ڈھاکہ اور پاکستان اور ڈھاکہ اور دہلی کے تعلقات کا رخ بھی متعین کرے گی۔

Back to top button