کیا کپتان پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے پہلے گھر چلا جائے گا؟

اگرچہ پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے مقابلے میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے بھی سندھ حکومت کے خلاف مارچ شروع کردیا ہے تاہم تحریک عدم اعتماد اور فارن فنڈنگ کیس فیصلے کے تناظر میں اپوزیشن پُر امید یے کہ 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے مجوزہ لانگ مارچ سے پہلے ہی کپتان کی چھٹی ہو جائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ چلن دیکھنے میں آرہا ہے کہ اپوزیشن کی ایک جماعت کے حکومت مخالف لانگ مارچ کو کاؤنٹر کرنے کے لئے حکومتی جماعت بھی سڑکوں پر آگئی ہے۔ مبصرین کے خیال میں تحریک انصاف کو آنے والے دنوں میں مزید سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروادی جائے گی اور اسی دوران فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہونے کا بھی امکان ہے۔ علاوہ ازیں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں نے بھی 23 مارچ سے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ ایسے میں تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ کپتان کے لئے چومکھی لڑائی میں کامیاب ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ممکن نظر آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے عوامی مارچ سے گھبرا جانے والے کپتان کو جب فارن فنڈنگ کیس میں دھچکا لگا تو انکے لئے سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی دوران تحریک عدم اعتماد کو کاؤنٹر کرنا بھی کپتان کی زندگی کا مشکل ترین امتحان ثابت ہو گا لہذا اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے پہلے ہی عمران خان فارغ ہو جائیں یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجے میں ملک کو سیاسی بحران میں دھکیل دیں۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں مارچ کا مہینہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے تاریخ ساز مہینہ ثابت ہوگا اور اس میں تحریک انصاف کے لئے بڑا خسارا نظر آتا ہے۔
واضح رہے کہ 27 فروری سے پیپلز پارٹی کے عوامی مارچ کا آغاز بلاول بھٹو کی زیر قیادت کراچی سے ہوا جو کہ آٹھ مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا۔ دوسری جانب حکومت کا ‘حقوقِ سندھ مارچ’ گھوٹکی سے شروع ہو چکا ہے اور یہ بھی 7 مارچ کو کراچی میں ختم ہوگا۔ مارچ کے آغاز سے قبل پیپلز پارٹی نے 38 مطالبات کی فہرست پیش کی جس کے مطابق ہر سطح پر شفاف اور آزاد انتخابات کا انعقاد، 1973 کے آئین کے تحت حکومت کا نظم و نسق چلانے، آئین میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے مقرر اختیارات کے اصولوں کی پاسداری اور تمام اداروں کے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کارکردگی اور اختیارات کو جانچنا شامل ہے۔ پیپلز پارٹی نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تقرر کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کے 1973 کے آئین میں دیے گئے کردار کا ازسر نو تعین کیا جائے۔
پی پی پی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے جب کہ آزاد اور قابلِ احتساب عد لیہ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ مارچ کے آغاز پر خطاب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی بنیادوں، فیڈریشن اور لوگوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ جب تک یہ سلیکٹڈ ہے کوئی صوبہ ترقی نہیں کرسکتا۔ انشاء ﷲ ہم عمران خان کو بھگائیں گے اور عوامی حکومت بنائیں گے، جس میں سارے صوبوں کو وسائل و حقوق ملیں گے۔
خاموش مجاہد کا افغان جہاد سے سوئس اکاونٹس تک کا سفر
دوسری جانب سندھ میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت اور وفاق میں برسرِ اقتدار تحریک انصاف کی جانب سے بھی حقوق سندھ مارچ جاری ہے۔ سندھ کے شہر گھوٹکی سے شروع ہونے والے اس مارچ میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت کئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین شریک ہیں جب کہ سندھ اور وفاق میں تحریک انصاف کے اتحادی گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے رہنما بھی مارچ میں شریک ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی اپنی تاریخ کا تیسرا بڑا مارچ کرنے نکلی ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف بھی پیپلز پارٹی کے مارچ کے اثرات زائل کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ میں اپنے بہتر تشخص کے لیے میدان میں ہے۔ حالیہ سیاسی پیش رفت کے حوالے سے سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو عمران خان کی شکل میں غیر روایتی مخالف کا سامنا ہے جو اب بھی ملک کے نوجوانوں میں کسی حد تک مقبول ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں ووٹ بینک میں کمی کا سامنا ہے۔ تاہم بلاول بھٹو کے سامنے بھی کئی بڑے چیلجنز موجود ہیں اور ان کو اتنا آسان نہیں لیا جا سکتا۔ اس کے باوجود بلاول یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اب بھی کھیل کا حصہ ہے اور اسی لیے وہ ایک بار پھر میدان میں تیاری کے ساتھ اترے ہیں۔
سنیئر صحافی اور تجزیہ کار مجاہد بریلوی کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ مارچ کی میڈیا کوریج کے ذریعے اپنے بیانیے کو زیادہ سے زیادہ عوام کے سامنے لائیں البتہ حقیقت یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں مالی اور اختیارات کے لحاظ سے بہت مضبوط ہو چکی ہیں اور اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اس کے باوجود سندھ میں بہتری کے آثار نظر نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں جیسا کہ تھرپارکر اور کراچی میں صحت کارڈز کی تقسیم کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کی وفاقی حکومت منصوبہ بندی کرنے سنجیدہ نظر آرہی ہے تاکہ پیپلز پارٹی کو آئندہ عام انتخابات میں ٹف ٹائم دیا جاسکے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ نجانے عمران خان کی تحریک انصاف کس منہ کے ساتھ سندھ حکومت کے خلاف مارچ شروع کیے ہوئے ہے جبکہ پچھلے ساڑھے تین برس کے دوران وہ خود ہر حکومتی محاذ پر ناکام ہوئی ہے اور اسی لیے اسکے جلسوں میں شرکاء کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
