کیا حکومت فائز عیسیٰ کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس بنا پائے گی؟

بلاول بھٹو کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو آئینی ترامیم پر منائے جانے کے بعد اب ایک آئینی عدالت کا قیام تو یقینی ہو گیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پر اتفاق نہیں ہو پاتا تو پھر جسٹس قاضی فائز عیسی اس آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس بھی نہیں بن پائیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون قاضی فائز عیسی کو اب بھی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر ایک بہترین چوائس سمجھتی ہے لیکن مولانا فضل الرحمن ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پر راضی نہیں جبکہ بلاول بھٹو بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ کوئی بھی ترمیم کسی شخص کو انفرادی فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں کی جانی چاہیئے۔

اس دوران یہ خبر بھی آ چکی ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو نے آئینی ترامیم کا مشترکہ مسودہ تیار کر لیا ہے اور اب وہ دونوں اس پر میاں نواز شریف کو بھی آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس دوران مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان بھی چل چکا کہ ان کے مجوزہ مسودے میں ایسی کوئی ترمیم نہیں ہوگی جسے وہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق نواز شریف سے ملاقات میں مولانا کو ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ اسی لیے صدر آصف زرداری بھی اسلام اباد سے لاہور پہنچے ہیں تاکہ مولانا کو منانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے سے حکومت جسٹس قاضی فائز عیسی کو باسانی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس بنا پائے گی۔ اگر ایسا نہ ہو پایا تو پھر یہ کوشش کی جائے گی کہ مجوزہ آئینی ترامیم میں سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ چیف جسٹس کو آئینی عدالت کا سربراہ بنانے کی شق شامل کی جائے۔ لیکن اس تجویز پر بھی مولانا فضل الرحمن پھڈا ڈال سکتے ہیں۔

چنانچہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کی آئینی ترامیم کا پیکج پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کے حوالے سے اپنا فیصلہ جاری کر دے اور حکمران اتحاد کی سابقہ دو تہائی اکثریت بحال کر دے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر حکومتی اتحاد کو مولانا فضل الرحمن کے ووٹوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن ایسا فیصلہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ اف پاکستان کے اٹھ ججز کے اکثریتی فیصلے کو نظر انداز کرے گا جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آئینی عدالت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر سپریم کورٹ کا سیاسی کردار ختم ہو جائے گا اور تمام سیاسی نوعیت کے مقدمات آئینی عدالت کے پاس جایا کریں گے۔ اس کے باوجود حکومتی حلقوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ جس طرح جسٹس منصور علی شاہ نے کھلی سیاست کرتے ہوئے تحریک انصاف کا سیاسی ایجنڈا اگے بڑھایا ہے اس کے بعد انہیں چیف جسٹس بنانے کا رسک نہ لیا جائے۔ اسی لیے مجوزہ آئینی ترامیم میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ آئندہ سے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تین سینیئر ترین ججز میں سے چنا جائے گا۔ اگر یہ ترمیم پاس ہو جاتی ہے تو پھر منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بننے کا کوئی امکان نہیں بچے گا۔ یوں سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔

یاد ریے کہ پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حالیہ دنوں میں 26ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے عوامی سطح پر شیئر کیے ہیں تاہم حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز نے ابھی تک باضابطہ طور پر اس ترمیم سے متعلق مجوزہ مسودہ شئیر نہیں کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کا آئینی ترمیم کے مسودے پر پیپلز پارٹی سے اتفاق ہو گیا ہے اور ’اب ہماری کوشش ہو گی کہ حکومتی جماعت سمیت دیگر جماعتیں بھی ہم سے متفق ہو جائیں۔

سینیئر حکومتی ممبران کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے متعلق مسلم لیگ ن کا مجوزہ مسودہ زیادہ تر ان سفارشات پر مبنی ہے جس کے چند نکات گذشتہ ماہ منظر عام پر آئے تھے۔ اُن کے مطابق حکومت کی جانب سے اس مجوزہ مسودے کی تیاری کی ذمہ داری وفاقی وزارتِ قانون کو سونپی گئی ہے تاہم اس میں وزارتِ پارلیمانی اُمور سے بھی مدد لی گئی ہے۔ پی پی پی اور جے یو آئی (ف) کی جانب سے سامنے آنے والے مجوزہ مسودوں اور سینیئر لیگی ممبران سے ہونے والی بات چیت یہ واضح کرتی ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم زیادہ تر عدلیہ اور اس کے اختیارات سے ہی متعلق ہے جس میں نئی آئینی عدالت کی تشکیل سے لے کر اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی اور سپریم کورٹ کے اختیارات سے متعلق سفارشات شامل ہیں۔

دودری جانب اگر پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی مسودے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پی پی پی وفاق کے علاوہ چاروں صوبوں میں بھی آئینی عدالتوں کے قیام کے حق میں ہے اور انھوں نے اس ضمن میں تجویز بھی دی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے مطابق وفاق کی سطح پر قائم ہونے والی اس آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ یہ کہا گیا ہے کہ اس عدالت کے دیگر ججز کی تعیناتی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مشاورت سے عمل میں لائی جائے۔

مسلم لیگ نواز کی جانب سے آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کی عمروں کی بالائی حد 65 سال سے بڑھا کر 68 سال کرنے کی تجویز ہے، تاہم پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف اس رائے کی حامی ہیں کہ ججز کی عمر میں اضافہ نہ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے مطابق آئینی ترمیم میں اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو یکجا کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ فی الوقت اعلیٰ عدالتوں میں ججز کے ناموں کی سفارش کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس ہے جبکہ پارلیمانی کمیٹی صرف ربر سٹیمپ کے طور پر کام کرتی ہے۔ تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت آئینی عدالت کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسی کو سونپ پائے گی یا نہیں۔

Back to top button