کیا حکومت میڈیا مخالف قوانین لاکر میڈیا کا سفر روک پائے گی؟

سینیر اینکرپرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مختلف حکمرانوں کی جانب سے پیکا ٹائپ کے میڈیا مخالف قوانین لائے جانے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ قلم، مائیک اور کیمرے کا سفر آج تک نہ تو رکا ہے اور نہ ہی رکے گا، اس نے آگے سے آگے ہی بڑھتے جانا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائج بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے 40 برس پہلے صحافتی سفر شروع کیا تو ان ناموں کی فہرست شائع کر دی جنہوں نے ایک سرکاری بینک سے لئے ہوئے کروڑوں کے قرضے معاف کروائے تھے، ان میں ڈاکٹر بشارت الٰہی کا نام بھی شائع ہو گیا جو کہ جنرل ضیاء الحق کے برادر نسبتی اور اعجاز الحق کے ماموں تھے۔ چنانچہ مجھ پر آسمان ٹوٹ پڑا، میں اس زمانے میں گورنمنٹ کالج راوی روڈ لاہعر میں پڑھاتا تھا، وزیر اعلیٰ نواز شریف نے ایک ہنگامی حکم کے تحت مجھے تونسہ شریف ٹرانسفر کر دیا، اس زمانے میں لاہور سے تونسہ جانے کے لئے تین بسیں بدلنا پڑتی تھیں اور وہ پنجاب کا آخری اسٹیشن تھا۔ اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ میرے ٹرانسفر آرڈر پولیس کے ذریعے زبردستی میرے گھر آ کر ریسیو کروائے گئے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں خیر یہ لمبی کہانی ہے، جنرل ضیاء الحق دنیا سے رخصت ہوا تو جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمٰن نے خود وزیر اعلیٰ نواز شریف سے میری ٹرانسفر کے احکامات منسوخ کروائے۔ یہ اس نادان کا ریاست کے منہ زور گھوڑے سے پہلا تعارف تھا، پھر تو سرکار نے صحن کو رستہ بنا لیا، کیا سرکار اور کیا اسٹیبلشمینٹ، یہ مل جل کر ہر دور میں ہی کچھ نہ کچھ ایسا کرتے رہے کہ آزادی کا سفر رک جائے۔ پاشوں، ظہیر الاسلاموں اور فیضوں کا دور تو خیر ناقابل فراموش ہے کہ کس کس طرح میرے جیسے ناچیز صحافیوں کو خواہ مخواہ تختہ مشق بنایا جاتا رہا حالانکہ میں نہ اہم تھا نہ ہی ریاست کا مخالف یا باغی، میں تو حکومتوں کو بھی توڑنے کے حق میں نہیں تھا، ہاں البتہ آزادی رائے کے حق کو تنقید کے حق تک ضرور استعمال کرتا رہا ہوں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اب پیکا قانون کی نئی افتاد ٹوٹ پڑی ہے، میڈیا پر زنجیریں تو پہلے ہی بہت ہیں پیمرا ہے، حکومتی پہرے ہیں اور سب سے بڑھ کر انٹیلی جنس ادارے ہیں جو ہر وقت کڑی نگرانی پر مامور ہیں، کوئی غلطی یا چوک بھی ہو جائے تو حسن نیت کے باوجود کوئی رعایت نہیں ملتی، منہ تو پہلے ہی سوچ سمجھ کر کھولنا پڑتا ہے اب پیکا تو منہ پر ٹیپ لگانے کے مترادف ہے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ایک طرف گالی اور دشنام کیساتھ ھوٹے الزامات پر نہ کوئی سرکاری روک ٹوک نظر آ رہی ہے اور نہ پہلے سے موجود کوئی قانون ان پر گرفت کر سکا ہے، ایسے زیادہ تر لوگ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں جن پر نہ ملکی قانون کا نفاذ ممکن ہے اور نہ ان کو دشنام سے روکنے کا کوئی طریقہ نظر آ رہا ہے، ایسے میں پیکا کی تلوار صرف انہی پر چلے گی جن کی گفتگو اور تحریر پہلے ہی کئی دروازوں اور تاریک راہداریوں سے گزر کر باہر نکل پاتی ہے، مرے کو مارے شاہ مدار والی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے ۔

سہیل وڑائچ کے بقول یہ درست ہے کہ پابندیاں حکومتوں کی عمر کچھ طویل کر دیتی ہیں مگر یہ ریاستوں کو کھوکھلا بھی کر دیتی ہیں ، پابندیاں تخلیق کی دشمن ہیں دنیا کے جس ملک میں بھی سماجی اور مذہبی پابندیاں ہیں اور اظہار رائے کی آزادی نہیں وہاں کوئی تخلیق ہو ہی نہیں سکتی۔ گویا پیکا نہ صرف ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کا قانون ہے بلکہ یہ تخلیق، سائنس کی ترقی اور انسان کی نشو و نما اور ذہنی بالیدگی کے راستے کا پتھر بھی ہے۔ میری آواز نحیف سہی، میں نالائق، ناکارہ اور نادان سہی مگر میری آزادی پر پابندیاں میرے جیسے حقیر اور بیک بنچر کا گلا بھی گھونٹ دیں گی۔

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ اس ملک میں مارشل لا آئے ،سنسر کی پابندیاں لگیں، ایجنسیوں نے کیا کیا نہ کیا؟، حکومتوں نے کیا کیا جبر روا نہ رکھے، صحافیوں کو کوڑے پڑے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، ہم جیسے پچھلی نشستوں والوں پر بھی آسمان سے قہر ہی برستا رہا، پھر بھی آزادی اظہار کا یہ کاررواں کسی نہ کسی طرح چلتا رہا، کوئی نہ کوئی بہادر یہ’ دیا‘ روشن ہی رکھتا رہا۔ اب پیکا ایکٹ کا عذاب آگیا ہے تو یہ بھی گزر ہی جائے گا، مگر تاریخ اس قانون کو لانے والوں اور اس کی حمایت کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریگی۔ قلم، مائیک، کیمرے اور برش کا سفر دنیا میں آج تک نہ رکا ہے نہ رکے گا، اس نے آگے سے آگے ہی بڑھنا ہے۔ ویسے بھی دنیا میں اچھی حکومت کرنے کا گُر جبر نہیں، بلکہ آزادی ہے، میکاولی کا دور گیا اب طاقت اور عیاری نہیں بلکہ پیار اور دانش سے کام چلتا ہے۔ ہم قلم کاروں، اینکروں اور کیمرہ مینوں کو سخت حالات میں بھیبپتلی گلیوں سے نکلنے کا گر آتا ہے۔

Back to top button