کیا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس عمران کے ساتھ کھڑا رہے گا؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے بظاہر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس وہ واحد اتحادی ہے جو اب تک پیپلزپارٹی کی ضد میں کپتان کے ساتھ کھڑا ہے، تاہم اس بات کا قوی امکان یے کہ اگر باقی تین حکومتی اتحادی جماعتیں، قاف لیگ، ایم کیو ایم اور باپ نے اپوزیشن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تو آخری لمحات میں جی ڈی اے کی قیادت بھی سیاسی تنہائی کا شکار ہونے کی بجائے اپنا فیصلہ تبدیل کر لے گی۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جی ڈی اے کی قیادت کو وزیر اعظم سے کئی گلے تھے اور اسی وجہ سے جب پچھلے دنوں عمران خان اتحادیوں سے ملاقات کے لیے کراچی گئے تو گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا سے ان کی ملاقات نہیں ہو پائی تھی جس کے بعد مختلف نوعیت کی چہ میگوئیوں نے جنم لیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وزیر اعظم نے فیڈرل لاجز اسلام آباد میں جی ڈی اے کے تینوں ممبران قومی اسمبلی سے خود جا کر ملاقات کی اور تحریک عدم اعتماد میں حمایت مانگی۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں بھی جی ڈی اے کے ممبران قومی اسمبلی نے شکوے شکایتوں کے ڈھیر لگا دیئے۔
مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما سردار رحیم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سے جی ڈی اے کا کوئی بڑا اختلاف نہیں، حقیقت یہ ہے کہ پیر پگارا پیر صبغت اللہ شاہ کی طبعیت ناساز تھی اس لیے کراچی میں انکی وزیر اعظم سے ملاقات میں احتیاط برتی گئی۔ سردار رحیم کے مطابق تحریک عدم اعتماد میں وہ وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں، اور جی ڈی اے کے تحفظات کو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 2018 کے انتخابات سے ایک سال قبل اکتوبر 2017 میں قائم کیا گیا تھا جس میں مسلم لیگ فنکشنل اور قومی عوامی تحریک کے علاوہ ایسی جماعتیں اور سیاسی دھڑے شامل ہیں جنھوں نے پیپلز پارٹی سے اختلافات کے بعد علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
اُن میں مرحوم ممتاز بھٹو کی سندھ نیشنل فرنٹ، صفدر عباسی اور ناہید خان کی پیپلز ورکرز پارٹی، مرحوم غلام مصطفیٰ جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی شامل تھی جبکہ بعد میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور اُن کا خاندان بھی اس کا حصہ بن گئے اور تحریک انصاف کو بھی اس اتحاد کا حصہ بنا لیا گیا۔ اس سے قبل ان جماعتوں نے دیگر پی پی پی مخالف جماعتوں کے ساتھ 12 جماعتی اتحاد بنایا تھا اور 2013 کے انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی تھی۔ 2018 کے عام انتخابات میں جی ڈی اے نے قومی اسمبلی کی دو نشستوں اور صوبائی اسمبلی کی 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تحریک انصاف کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے بعد اتحاد کے حصے میں خواتین کی ایک مخصوص نشست بھی آئی جس کے بعد اس کی نشستیں تین ہو گئیں۔ وفاق میں یہ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بنی اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو وزارت دی گئی جبکہ سندھ میں اس نے اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
سندھ کی حد تک کراچی کی سیاست میں تو ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے ایک بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے لیکن دیہی سندھ میں حکمران پیپلز پارٹی کو کسی سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وفاق ہو یا سندھ، جے ڈی اے ’کمفرٹ زون‘ میں رہی، اس کی حیثیت علامتی تھی اس نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا حالانکہ سندھ اسمبلی میں 13 نشستوں کے ساتھ اس کا ایک متحرک کردار ہو سکتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان حال ہی میں جب کراچی آئے تو وہ ایم کیو ایم والوں سے ملنے اُن کے دفتر گئے لیکن پیر پگارا کو انھوں نے گورنر ہاؤس طلب کیا تھا۔ یہ ایک بیوروکریٹک اور غیر سیاسی سوچ تھی، انھیں خود وہاں جانا چاہیے تھا کیونکہ ماضی میں بھی سیاسی قیادت وہاں جاتی رہی ہے، لہذا پیر صاحب برا منا گئے اور خان سے ملنے سے انکاری ہو گے۔
وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن کے نوٹسز چیلنج کردیے
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جی ڈی اے کی قیادت کو امید تھی کہ جب وہ سندھ میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں تو وفاقی حکومت اُن کے علاقوں میں ترقیاتی کام کرے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ عمران خان مہر برادری کے پاس خان گڑھ یا سندھ میں جن علاقوں میں گئے اور وہاں جو ایک دو اعلانات ہوئے، ان پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا جس وجہ سے جی ڈی اے مایوس ہے۔ اسی طرح کراچی سے جب بلاول بھٹو نے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کا آغاز کیا تو گھوٹکی سے تحریک انصاف نے شاہ محمود کی قیادت میں مارچ کا آغاز کیا، لیکن جی ڈی اے نے اس احتجاج سے اپنے آپ کو دور رکھا اور صرف بدین میں وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا کے حلقے میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فہمیدہ چونکہ ذوالفقار مرزا کی اہلیہ ہیں لہذا زرداری خاندان سے دیرینہ تعلقات ختم ہونے کے بعد انکا تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کے ساتھ جانے کا امکان نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگر تو فوجی اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہتی ہے تو پھر جی ڈی والے ہوا کے رُخ کا تعین کریں گے۔ اگر حکومت کی باقی تین اتحادی جماعتوں نے بھی اپوزیشن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تو پھر اس بات کا بھی امکان ہے کہ سیاسی تنہائی سے بچنے کے لیے جی ڈی اے بھی وزیراعظم کے خلاف ووٹ ڈال دے گی۔
